 

نالیٹف
تنج ٴ٠‏ ارک ۶ار
اردو و رگسہر
یف اح مس ےل زاں

 

 

 

 

تب باعت واشاعت
ارت اسلائ امُٗروا راف ودقرت واہشاد

مت ےحود یرب

öööööö 1 öööööö
وزارت اسلا می اموروا وف اف وٹ وارتا ٹا ت اردہ

جیی
07

سے
الف
کن تک ین ئا دلثہر

آرروزعکہ .

  

ار ت کے شعب رط ؤعات نکی زدیکران رع رس

۰۶۰ھ

öööööö 2 öööööö
 

رع وزارۃ الشؤون الإسلامیة والأوقاف والدعوۃ والڑرشاد ٦۰٣ھ‏
فھرسة مکتبة اللكٹ فھد الوطنیة اثناء النشر
العمر ؛ عبدالرحمن بن حماد
دین ا خق - الریاض .
ص٠‏ ۱۷×۱۲ سم
ردملكٰ ۹ - ‎۹۹٦۹۰.-۲۹ - ١۱۱۸‏
(الئص باللغة الاردیة)
١۔الألوھیة‏ ٢۔الڑسلام‏ اأ۔العنوان
دیري ‎1٦ ٢٤٢‏

رقم الایداع : ‎+٦‏ (غ
ردمك ۹ - ۱۱۸ - ۲۹ - ۹۹۰

اٹطبعۂ السادسة

 

 

 

 

 

öööööö 3 öööööö
چھ

ہی رمم

الحمد للهە رب العالمین والصلاۃ والسلام علی جمیع رسل

اللوبعد :

راہ غجات پر گامزژن ہونے کی ہہ ایک دعوت سے سے جم ہر سوچھ
لوج رکھنے وانے تح سکی خدمت میں اس امید بر یی یکر رے ہی ںکہ
ار نتحالی ا کے ذراعہ ےگ کش راہ کو مدایت باب فریاۓ اور
ہمارے اور ان تام لوگوں کے لیے باععت اج و اب بنائے جو اس کی
نشرو اشاععت میں حصہ لیں۔

ہرعقل و بھم رکنے وانے خ س کو ہہ بخولی عم ہونا چای کہ اس
دنوبی زندگی میں ما اخروی زندگی میس جو مرنے کے بعد شروع ہوگی سے
اس میں کامیالی اور کیک ہش اس وقت عاص لکر سکتا سے جب وہ اپنے
اس ر بکی محرفت عاص٥‏ ل کر نے ننس نے ا سکو اور سماری کا ما تو

۳٣

öööööö 4 öööööö
بدا فرایا سے اور اس > ایمان نے آئے اور صرف ای کی عبلات
کرے؛ اور اس ئی برجج کی معرفت حاصصس لکرے سے اللد تما لی نے
قمام انسانو ںکو راہ راسہت پر لانے کے لیے مبحوت فرایا سے اور ا کی
رساات و خبوت پر یمان و ین رک ھکر اتجاع کلل ہکرے' پچ راس دین
رح نکی مل معربفت حاصل لکرے جس کے ابنانے کا الد تنالی نے عم
فربایا سے اوراس کے نقاقضوں پر مل پیرا ہو۔

ہف رکتاب ”وین عق" ان قام اہم لیم امور یر مل ہے
جن کا ہرمسلمان کے لیے جانتا اور اس کے مطابق عم لکرنا ضردری سے"
ھم نے عاشیہ میں مض ان بارفوں اور ما لکی مزید تقر و فضیل
دے دی سے جو پیررے رجح طلب تے۔

دو سربی طرف ہم نے اس پور یکماب میں قرآ نکر ی مکی آیات اور
رسول الله صلی الثر عل و لی اعاویث پر اعخما وکرتے ہوتئے وا تل
یں گے ہیں کیو مہ یی دونوں چیزیں جمارے دن اسلا مکی اد اد ر اس
کے ماف ہیں۔

بھم نے اند ھی ققلیر سے اجتتنا بکیا ہے سکی وجہ سے بہت سے
و گگرہ ہو یگ ہیں بکہ ہم نے للض ان ال گر فرقو پہ روش

م۲

öööööö 5 öööööö
1 ت سے دور ہیں" ایا
۱" ک ۱ ' چجے ٭ھے 3 ۴" 0
' ے سل ےکا سے ماک جو ناواشف ان فو ںکی ہت
مم 1و9 ہس مہم خ

ً1 نعم الوکیل۔
وہ بوسیار ہو جا شٌُں- والدہ حسبی ونعم

عبرنقیر
مب ال جن بین حماآل عم
ماق استما شعمنہ اسلامیات
مر | مین ربا

öööööö 6 öööööö
فمل بل

لد '' خواق تی مکی سرت |

جس کنے وانے کے سے مہ بات جاننا انچماگی ضروری سے
کہ جن ذات باک نے اسے عدم سے وجود کنا اور طرح طر ح کی
متوں سے لوازاوںی الد سے جو سار یکا ما تکا رب ہے۔

اللہ تعالی ''' بر یمان ر کے وانے معهند لوگوں نے ابی آکموں سے
سے شمیں دیکھا سے کن ال ولانتل سے واقفیت رت ہس جو اس
کے وجودبیر نیبزاس کے خخال یکانات ہونے اور نظام حیات چلانے بر شابر
ہیں اد روہ دلا لس ئیں :

0 لف ”ا ' سار ی کانجات کے خالق و مور کے لیے مخصوص سے خوو ارد نعالی نے
نخس نیس انی ذات پاک کے ہے اس نام کاا اب فرمایا سے جس کے می ممبود برجن
کےہیں۔

‎)٣(‏ لف ””تھالی'' الہ تعا ‏ یکی تممقیم و مجریف کے لیے اور اسے پاکی و بلند ‏ یکی صفت سے
متص فکرنے کے سے ہوا عا ا سے اور کہ ”نسجعانہ' بڑاٹی و مکی کے ہے استعال ہو

‏ہے۔

‎ 

öööööö 7 öööööö
) کاناتٗ انمانٴ اور زندگی یہ تقبویں یں عادت ہیں جن کی
ابتطرااور انجماسے اور اپ وجود کے لیے دو مسرے کے اح ہیں۔

اور :7و پچ عمارث اور تح ہو وہ لو قات کے مل ے ہوئی اورتو
یز حلوق ہوٹی نو بد بی طور بر اس کے غخالق کا ہونا ضردری ہے“ اور یہ
تیم خالق اللہ وعدہکی ذات پاک سے جس نے خود ہے متحلق ارشاو
فرمایا کہ وہ سماری کانتات کا خالق اور اس کے نظام کو چلاے والا
ے٭۔

اور اس کاعلم ‏ مکو ان سال یکتابوں کے ذراچہ ہوا سے جن نی کو اللہ
تال نے اپیے رسولوں پر نازل مایا اور انوں نے ا کی سمل کی اور
اس کے مضاش نکی تعلیم دی اور الد تحالئی بر ایمان اور ا سکی عحباد تکی
دکوت دی چنائیہ خودارشاویاری تما ی ے :

ےسقم مو 67ک ہے ے ہے۔ کیک و
اک ريَ کہ اللہ الدٍی خلق السَموتِ والارض فی

سٹ_ کے7 مرک ضرے حرصد ےر حر ص٣‏ سہروث > ھ یں سر و سر ص پر
ستة اٹ استویٰ عَل المرش یغٹی الیل التہار
میں ار خھر ار -6 رص کے سے سے وع ےھر سے رب ہہ ہے مر کس
نطلبم حٹیثا والشمس والقمر والتحوم مسخران

ٰ

٦

پے نا ےہ وم ےھ رع کے و کرس سکع کی سے ال ہا کک
یامروء الا له ال ولا سار الد رَبُ الَسَليِینَ 4
(الاعراف : ۵۳۴)

مل بہار روروکار وی الہ ےُ بس ے اسماکوں اور زی نکو

۸

öööööö 8 öööööö
چھ دنوں میس پی اکر دیاٗ پچ رحس پر مسعتوبی وکیا ڈھانپ لیا ہے
رات ۔ے ون کوٴ وہ جلری ے ےآ سے اور سور اور
ان اور متارو ںکو (اسی نے بیداکیا) سب اس کے عم کے تح
ہں' یاد رکھو اسی کے لیے اص سے آ فرش بھی اور عکومت
بھی برکیت سے بھرا ہوا سے سمارے جم ں کا رو روگار۔
آیی تکرییہ کا اجمالی مم ہہ ےک اللہ تال سار ی موا تکو ىہ بتانا
عابتا ےکہ وی ان کا رب سے ننس نے انمیں اور آسمانوں اور زی نقکو
بھی جچھ ونوں میں پی ایا“
اور تبردے رہاے کہ دہ رس بہ موی ے'''۔

0 بف رج ید اکرنے می اش رک یکوئی عحمت مضمرے وریہ فذوہ تنم زون میں خلقت >
قادر ےکیوکمہ ا سیکی ان ىہ کہ ج ب می ہچ کو بی اکرنے کااراددک ربا سے تو انکن'
کم دیتا سے اور دہز ہو عانی ے۔

(۴ ۰ ستوی' کے می عرمی زبان مس ج کہ قرآ نکی زبان ےکی ج کے مستوی اور
ملع ہونے کے ہیں اور الد تال یکاعرش ‏ مستوی ہونااسی انداز سے سے جو اس کے
شمایان شان سے جن سک یکیغفیت سوائے اس کےکولی مم یس جات اور اسسقوئی کے مق
ستومیٴ قایقش ہونے کے میں ہیں جس مر ح کہ استوی علی المل فکما جات سے “تی
علومت پ رق کرنا مہ صعمی دہگمراہ لوک عراد لن یس جو ان صفات باربی تھا کی حفقیقت -

۹

 

öööööö 9 öööööö
اور عرش سارے آسانوں کے اوبر ہے “جو سب سے زیادہ تیم اور
ود تین مخلوی ہے اور اللہ تی اس عرش مٹیم بر مستوبی سے اور
اپٹنے عم اور ارارے سے ساری خلوقات کے سا سے او رکوگئی زاس
ے مخ ہیں

اللہ تحالی نے ہی بھی بتا اکنہ رات د کو ابتی ری سے ڑحھانپ میتی
ہے اور جلدی سے اسے آ میتی سے اور اس نے سورح اور چاند اور
تمارو ںکو پیا کیا اور ای کی برایت کے مطالق ہہ سب اپنے اپ
دائڑے میں پچکر لکاتے ہیں۔

مزید یہ تایاککہ وی تن تما ساری کامتات کا خالقی ہے اور اسی کا مم
لا ہے وہ ای ذات باک ہے جو اتی ذات و صفات میں کال سے جو

< کے مر ہیں جغیں اللہ تھالی نے اٹ یکتاب میس اپنے لئے با رسول اقد صلی اش علیہ وسلم
ے اللہ نحالی کے لے بیان را ہیں وہ اس ام خیالی میس مہ ںکہ اگ انسوں نے اللہ
تعاٹ ی کی صغات تبیقی معنوں میں راو لاق ا سکی مخلوق سے مشابست ہو جاتی ہے“ عالا کم
یہ خیال باطل ےکی کہ مشابست تاس صورت میں ہوتی ےک جم مکی ںکہ ا سکیا یہ
صفت مفلوق کے فااں صفت جسی سے “مان ا سکو اس رح جو اس کے شابان شّان ہو
خی ول و تفولیسش اور ہلا پیل و تتطیل کے صلی مکریں نے اس می ں کسی طر حکی مشبست
نی ہوتی اور بی اخمیا مءکرا کا طریقہ سے جس سلف صاشی نگامزن رہے اور راہ تی سے
جس بر ہرملما نکو چلنا ای اکر چہ لوگو ںکی اکشرییت اس طریق کو پکھو ڑے ہوئے سے

۱ 5

 

öööööö 10 öööööö
بیخہ ہے اب خیرو بعلاگی سے نوازکی سے اور وہ ممارے جماں کی
رو رش شکرنے والی سے جس نے س بکو عدم سے وجود ہا اور طرح
طر کی متوں ے ‏ وازاے۔

ارشمادباری تعالی ے :

من >َایِية ال وَلتَاژ ولمس وَلکَر لا
تَسجُڈوا میں وَلا لِلکَمر وَاسْمُْدوا و اَی
خلت اد عنم الا وک ہ (فصلت : ے۴
اور ا کی نقانیوں میں رات سے اور دنع ہے اور صرح سے
اور ماد سے (س) تم لوگ نہ سور کو تو اور تہ چان کو بللہ
صرف الد ب یکو بوجو نس نے ان س بکو پیراکیا اکر واٹتی اس

کی بن دگ یککرنے وا لے ہو _
بی تکریی کی اچالی شر :

(0) الد تحالی اس آبی تکریہ میں ان علامتو ںکی نثانددی فرما را ے
جو ا ں گی ذزات ماک پر ولا تہکرکی ہیں جیے رات ورن اور سر ؛
چان د اور سورح و چائ ری عباارت سے م بح فرہا را ے کیو لہ نے وونوں
تام وسری تخلوقات جیی مخلوق ہس او رکوئی مخلوق عبات کے لان

1

öööööö 11 öööööö
نیس اور حبدہ بھی عباد تکی ایک عم ہے۔

مزید الد تاٹی سمارے لوگو ںکو انی ذات واع کی عحباوت کا عم فرا
راہ ےکی وککہ در تقیقت ودی سار ی کامتات کا لق اور فظام چلانے واڑا
اور ساری عپاوٹوں کا ہزاوار ے۔

(۳۴) ای طرح الل تعا یق کی ذات باک کے وجو کی دلیل مد اور
عحورت کا برا فرمانا ے' چناکہ مرکر اور موشث کا وجور ھی بزات خور الله
خل کی ایک دبیل ہے۔

(۳) ای رح الد تمالی کے وجودکی نل انمالوں کی زہانوں اور
شحل و صورت کا ایک دوسرے سے محخلف ہونا ہے“ چنانچہ دنیاییس امے
دو نس نہیں میں کے ج کی آواز یا شحل و صورت پر ی رح جلہاں
ہو“ بللہ نی طور پر جج نہ ہے ری ضرور ہوگا۔

(۴) سی رح انمانوں کا انی ابی شمتوں میں ملف ہونا “وی مالدار
ہے اور دوسا شقیر ہے“ اور ہے صاحب منصب ہے اور وہ طازم ہے
عالاظلّہ ان یس سب بی صاحب عقل و عم ہیں اور مالداری' بلند مت
اور نیشن و گیل ببوئی کے ھرلیس ہیں مان بایں ہمہ ہ رتس دوسرے
سے مال و منصب میں خلف کول ہکوکی خصس شض انی استورار
اور محنت وکوششل سے دنیوی سعاوت و مسرت اتی بی حاص ل کر سم

ر7

öööööö 12 öööööö
سے جقنا الد تالی نے ا سکی قسصت می ںکلوا ے۔

اور اس میں اللہ تال کی ایک مٹیم عکرت مضمرے نماکہ لوگکوں کا
اک دو مرے کے ذریجہ اممان نے اور ای ککو دو صرے کے لیے ہاہهیی
طور بر مفید بنا اور اس طر کسی کا نمتصان تہ ہو۔

اور ش سکو ان تخصوضص سعاونوں اور منصب سے میں نوازاے لو
اں و وار آخثرت جنت میں مزید ععمتوں ے نوازے کا بشرطیلہ 2ھ
ائيمان بر خاتمہ ہوا ہو ای طرح الد نتعالی قی کو خود دنیا میں السا سکون و
مان فلب تعیب فرا] سے جس کے سے بت سے ماندار لوک تنا
کرتے میں اور ہہ ال'د تما یکی عین عکمت او رکمال الصا فکی بات ے۔

(۵) الد تھاٹی کے وجو کی ایک عٹیم علامت نید اور کے خواب
ہس نین کے ذریعہ اللہ تحالی سونے وا لےکو خوشبرہی با ڈراوے کے طور
ہر غیی بکی نتض بائوں سے آگاہک را ہے۔

۹ بی فرح ذات باری کی ایک وییل روح" سے جس کی
تحییقت سواۓ الد واحد کےکو لی "یں جاہنا۔

(ے) مز الد لق و ماک کے وجودکی ایک وبیل خود عحطرت انان
سے نج سکو اللد تتالی نے ملف حواس' اعصالی نام“ حتل اور باض
ویر کے فظمام سے نوازاے۔

öööööö 13 öööööö
(۸) الد تعالی بارش نازل فرماکر زی نکو سبراب اور جنرو شماداب
فراا سے جس سے مدہ زین زندہ ہو جاٹی ہے اور رح طر کی سنیاں
اور درخشت اگاکی سے جو منائحع' مزے اور رنگ و روپ یں ایک
دو ہے سے جدا ہے ہں۔

یہ چند نھہونے ان ہنراروں علامتوں میں سے میں جن کا اللہ تحالی نے
را نکریم میں ممذکرہ فرمایا ہے جو الد نعا کی ذات بالگ کے وججور کے
اور اس کے ساری کاممات کے خخالق اور بدبر ہونے کے وا سح وا مل
یںا۔

۹) وہ فطرت سیمہ جس پر پرانسمان پیدا ہو اے وہ اپنے خالقی و مر
اللہ تھالی کے موجود ہونے پر موا ایھان و ہین رکھتی سے اور جو تخس
اس کا انکا رکا سے وہ این آ پ کو دعمولہ دے را سے اور ات کو
بجی کے طرف نے جا ربا سے مک وکلہ لا دی نظریات ر نے والا تح
ونیاٹس تھی بد سن کی زنک گار سے اور مرنے کے بعد بھی ہنم رسید
ہوا کیوککہ اس نے اسینے ر ب کی عفر ب کی نس نے اسے عدم سے
وجور کشا اور لمتوں سے نوازاٴ ہا ں روہ تشخ جج تو بہکرنے اور ال
اسں کے دین اود اس کے رسول پر ایمان لے آئے۔

ك') حض مخلوقجات مل ابکریو ںکی نل مس برکمت عطا فرمانا اور اس کے

م۳

öööööö 14 öööööö
ہرتس بتض فحخلوقات خلا کے اور ب یکو اس برکت سے محروم رکنا بھی
ال تال ی کے وجودکی !یک اہم دشیل ے۔

لہ الد نحالی کے صفات ممطظیمہ کے ایگ یہ ےکلہ وہ اول سے
سک یکوکی اتا یں اور وہ بیشہ یش رے والی ذات ہے جو نہ بھی
مرنے والی اور نہ تشخ ہونے والی ے جو ممرزات شود گی شی سے می
دو سر ےکی متاح ہیں وہ تی تتما سے ہنس کاکوٹی شحریک میں ارشاد
ادکی تھالی سے :

لئ خر الہ گے ->

‎٢ 7‏ ہے سے حر ہر ہے لم
رص ہو سر کس اج ار سے حم عم سے سر رر
لد وَلمَ بوند 2ت 4 یکن لم سط
وہ 5

‏.٭چ وو ڈوو
آپ کم و ھکہ وہ الد ایک سے “الد بے نیاز سے نہ اس کے
کوئی اولاد سے نہ وہ مک یکی اوماد سے“ اور ن ہکوگی اس کے برای رکا
ہے
آحی تکریہ کامنی : جب غکفغار کہ نے رسول الد صلی ال علیہ

‏وسلم سے ال تھا کی ذات و صفات کے متعلق وریاف کیا یہ سورت

‎۵

‏7
‏سرےیںحد

öööööö 15 öööööö
نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ ول مکو ایند تی نے عم فرمااکنہ ان
سے ب ےکی ںکہ الد تالی داعد ے جن س کاکوگی شریک میں“ الد تما کی
زات پعیشہ ین زندہ رب والی او رکانات کا نظام چلانے واٹی ہے“ ای
کے لیے ساری کانا تکی مرداری سے اور ا کی ذات باک سب کے
لے ماوی و ٹا ےجو نہ نکی سے پیا ہوا اور نہ اس سےکوگی پیا ہوا
سے اس کان ہکوگی لڑکا سے نہ لڑکی/ اور نہ باپ سے اور تہ مال“ بلکمہ اس
نے اس سورہ میں اور در سورفوں میں بھی ان تام چزو ںکی اتی ذات
ا ککی طرف نب تکی شدید جزمت فربائی سے “کی وککہ ججرہ نب اور
رانش کاہونا لو تقات کے صفات میں شار ہو سے۔

چنانچہ الد تالی نے عیساتیوں کے اس اظر یک یکہ تن حضرت شی
الد کے بے ہیں اور بیہودیوں کے اس عقید ہک کہ ”تعزی الد کے
ڑے ہیں“ شید گیرو تروید فماگی ہے اسی طرح مین لوگکوں کے اس
قول کیکہ ‏ فرشے ال دی لڑکیاں ہیں" نزمت فربائی ہے اور اس کی
وضاحت ڈرال یقکہ اس نے حعخرت مھہب یکو انی نررت سے ای طخ اغیر
اپ پیدا ٹرمایا سے مس طرحکہ رت آوم علیہ السلا مکو می سے اور
عرت ہو کو حضرت آو مکی بھی سے پیارا 7 ,۷ئ
ساری انسانی تکو ماں باب کے نطفہ سے پیا فرمایا۔

٦

öööööö 16 öööööö
ابنتراۓ آفرینش میس رب کو عدم سے وجود کشا بچراس نے اپے
تلوجات کے سلسلہ میں الیانظام مقر فیا یا نس می ںکوئی تخس تبد کی
یں کر سنا اور اسی باریک مانون فطرت کے کت وہ چچ زمر وجود
یس تی سے گرب ہکہ خود الشد تھالی بی اس نظام و تقانون سے ہہ فک گر
کوئی جز سر اکرنا چاے فو بغی رکی رکاوٹ کے بد اکرتے پر تاور سے
ہی اکہ حنخرت ع,ٹی علیہ السلا مکو بی رباپ کے پیدار دیا جو ما ںک یکو د
بس ہی بول رس ت اور موی علیہ السلام کے خصاکو سمانب میں
بر گل ما دا اور جب انوں نے این اسی عصا سے سٹو رکو مارال
اس شس راستتہ بی نگمیائ نس بر سے وہ اور ا نک توم سحمندر عو رک رگئی اور
نہ یکریم صلی اود علبیہ وسلم کے اشمارے سے پان ڑکو دو گکڑ ےکردیا اور
جب آپ صلی اللد علیہ و سم درضتوں کے پاس سےگذرتے تے ‏ و وہ
آ پکو سلا مکرتے تے اور جانور آ پکی نبوت و رسال تک بکوازبلند
شارت وتے تھے ضے لوک ان کانوں سے سے تے' او رآ پک براقی
بر سوا رکرکے مد عرام سے مجر اأصمی تک نے جایاگیا پچمروہاں سے
آسانوں کک رت بج رت ل کی معیت میں نے جا ایا اور وہاں سے
پارگاہ انی ٹس عاضرہوئے اور الد جحانہ و تمالیٰ نے آپ سے کلام فرمایا
اور ا وقت کی نمازوں کا تفہ لے کر مد ترام وایں شف

٤ے‎

öööööö 17 öööööö
لا اور اس سفرمیس جو صرف ایک را تکا تھا ہ رآسمان پر رے والوں
سے متعارف ہو ' اسراء ماج کے واقع کی تفعلات قرآ نکریم اور
کت اعادیتث و با رم موجور ہں۔

لہ تا کی صفات علیہ می سفن ون عم رکن قررت رکنا اور
ارادہهکرنا بھی سے“ نانہ وہ ہر زکو مختااور دیما سے او رکوکئی چچزکبھی اس
کو سنہ اور دیکھٹ سے ماع نہیں اور رحم کے اند رکی چزییں اور نے میس
کے ہوۓے راز اور وٹیائٹل جو پٹجھ ہو چکاے یا آتجرہ ہونے والا ے اللہ
تال ی ا س کا بوپی عم اور وا تقیت رکتاے۔

وہ ذات اڑىی تاور معحلقی ےک جب کی ہز کے سداکرتے کاارادہ
کرکی ہے کن (وو جاا تی ہے اور وہ جن ہو جاتی ہے۔

اور الد تمالٰی نے جن صفات سے انی ذات یا ککو متص فکیاے
ان میس سے صفت بھی کلام ہے چنائچہ وو نس طرح اور جیسے چاہتا ہے
کلام فا ہے“ حطرت موی علیہ السلام سے کم کلام ہوا اور نی اکرم
صلی اللہ علیہ وسوم سے بھی کلام فرماا ای طرح قرآ نکریم مع اپے
توف ومعالی کلام الھی سے >ے نی اکرم صلی ابند علیہ و سم سر نازل فرایا
جو الد تعا کی صفات میس سے ایک صصفضت ے او رگراہ فرقہ متزلہ کے
ری کی طرح لوق نہیں ہے۔

öööööö 18 öööööö
جملہ ان صفات کے جن سے الد تعالی نے ات ےکو متصف فرمایا سے
ا رسول اللہ صلی اللد علیہ وسعم نے اس کے لیے یان فرایا ہے وہ چیرے
کا ہونا دونوں باج کا ہونا/“ مستتوبی ہون نزول فرمانا ‎٠‏ خوش ہونا اور
اراضش ہوناے۔ چنانیہ وہ اسینے مومن بنروں سے راصی اور خوش ہو
سے او رکفار و مش کان اور ا کی نافریال یکرنے والوں سے ناراض اور
حصی ہو رے۔

اور ال کا راحصی ہونااور خحصہ ہونا اس کے ویر صفال ت کی طررح اس
کی شابان شان ایت ہیں“ جو لو یکی صفات سے مشخابہ ہیں“ اور نہ
ھی ا نکی ناو لکی جا سی اور نہکیفیت میا نکی جا تی ہے۔

رن د عدیث سے ثابہت سحتکہ موسنین میران تشٹرشیس اور جنت
یس اتی آگکھموں سے اللد تھالی کا دیدا رکریں کے اللہ تمالیٰ کے دیکر
صفات کا قرآ نکریم اور احادیث میں فصبیل سے دک رآیا سے وہاں اس کا
مطالع کر یھنا چا

() مال عدیث میں آیا ےکلہ جب رات کا آخربی تمالی حصہ بائی رہ جا سے و ہمارا
رب آسمان دنیاکی طرف ات ا ے''۔

 

öööööö 19 öööööö
جن وااس کے اکر کامقصیر :

جب خم اس پر ایمان رکتے ہوکہ اللد تعالی ہی تمارا رب سے جس
نے نہیں پیر اکیافے اس کا بھی نین رکھوکہ اس نے خ مکو سے بی با
وچہ برا می ںکیا بلہ انی عباات کے نے سا ثرمایا ہے“ چنائیہ ارشار

ہے :
4

وما خلت 2 والاضن الا لبون زی 6اا

ِنهُم من رن وما ار ان بُطممون ‎٦‏ ما ان الله هو ا زا

دو اَلْمَوَد) الِِن م4 الا ات ‎)۵۸-۵٦‏

ار یس نے فو جنات اور انسا نکو پیدا ہی اسی خر س ےکیا ہے

مہ مب ری حباو تکی ارس یس ہی ان سے نہ روڑی چاہتاہوں اور

نہ یہ چاہتما ہو ںکہ ججھے کا یاکمرس ' اللہ و خودبی س بک روڑی

جڑتھیاے والا ے' ثوت وا( متوطا ‏ ے۔

آی کر کی اعھالی تفر : اللہ تالی بی ایت میس یہ بیان فرما را
ےک مہ اس نے جنات " و الما ن کو صرف ای ذات واصر کی بات
0 جنات عقل وشھم ریھے والی ایک مخلوق ہے جن سکو اید تھالی نے انسان ب یکی طرح
بات کے لیے پیا فربایا ہے اور دہ ان بی کے ساتھھ روئے زین پہ رت ہیں لیکن
انماان ا نکو و مھ نیس پاتے۔

۳٣

 

öööööö 20 öööööö
کے لیے سد ثرمایا ے۔

اور دو سرکی و تیسرىی آیت میں ىہ جانا چابتا ےک وہ ان بنروں سے
سن سے اور ان سے کسی طرح کےکھانے اور روز یکی خوائش نہیں
رکا بللہ وہ تذ ای قادر ذات ماک سے جو س بکو روٹی روڑی دبا ے
ا ے علاو ہکوئی کس یکو 07 یں کروی ذات بارش برساتا
سے اور زین سے فرح طرح کے اناج اور رزق سرا تر ے۔ اور وہ
دوصری ساری مخلوقات جو عخقل و فھم نھیں رتس انیس ارقد تی نے
انمانو ںکی خدرمت و راحت کے لے بدا فرایا سے ماکہ وہ اد تعال کی
حیارت و اطاعت ا نکی بدد سے سن و غولی انام یں اور ان کے
سانجتھ اللند کے ناز ل کردہ قوانین کے مطالق سلوککمریں۔

انا تکی ساری مخ وقجات' اور ا سکی ساری لفل و حرکت اللہ تعاٹیٰ
کی کسی نہ می مت کے مھت ہے نجس پر قرآ نکریم نے رومتی ڈلی
سے اور جس سے ہرصاحب ملم ات عم و اصیرت کے پفزر وا ثفیت
رکتاے۔

مال کے طورے انسانو ںکی عریں لفاوت کا ہوناٴ اور روزی مس کی
نشی کا ہونا امام و آزمائصش مس ایک دوسرے میں فرق ہونا؟ ان سب کا
رق و اتلاف اللہ تعالی کی مخت و مرش سے ہو سے الہ ات

۱

öööööö 21 öööööö
معن بیروں کا امتمان نے“ چنانیہ جو تخس راضی برضاے ای ربا اور
تضاوثرر کے ساۓ رسسلیم خ مکر ویا اور انند تال یکی عرضیات بر ملے
ک یکو صن کر رما اسے ال'د نال یق کی رضاعاصل ہوک اور وہ ال ںکو
سعادوت دارن سے نوازے کا اور ج٘ تخس نے اللہ تما ی کی طف
سے فتضاو قد رکا شحکو وکیا اور اس کے سا نے سر ایم خم ہی ںکیا و اس
نے اللہ تما یکی ناراضیگی مول کی اور ونا و آخرت میں بد مم کا سح
رام دست بدعاہی سک اللہ تعالی بھم سے راصضی ہو اور اٹی ناراضگی
سے تفوظط رھھے۔

موت کے تد روبارہ زنرہ ہہوئے“ اب وکمماے' ہاو

سر اور طنت و عم ک بان :

جب تم نے ایی طرح بہ جان لاک الد تال نے مکو انی عبات
کے لیے بی کیا سے و اس بر بھی ایمان و مین رک کہ اللد تھاٹٰی نے اٹی
ا نکاوں میس مج کو اپنے بگزیدہ بندوں پر نازل فربائی ہیں مان فرییا
ےک و مکو موت وین کے بعد پچ ردوپارہ زنر کرے کا اور تممارے
دنیاوبی نیک وہر اعمال کاپرلہ دے کا اور وہ لوم رت ہوک سکو لوم
زم بھی کت ہیں “کی وج انسمان موت بی کے ذراعہ سے دارامل اور

۲۲

öööööö 22 öööööö
وارالغناء _ے دارالزاء اور وارالقاء گی طرف مل ہو جا سے جب
انمان دنا کی ابی مفررہ عھریور یکر اتا ہے لو اللہ ننحالی وت کے فرش
ا سکی روح فی لکرنے کے سے پجا ہے چنانمچہ روح للنے سے پل
مو تکی محخت ترن لیف سے دو چچار ہونے کے بعد وہ مرجا ا ے۔

اکر وہ روح بندہ موی ن کی ہوقی سے تو اللہ تعالی سے وا رالشتیم
(جنت) میں شیا دنا سے اور اگ رکاف رکی ہوٹی سے و دارالطز اب (ت"م)
یس بیاشیا دا ہے “.ا آ کہ دنیا کے اخظام کا وقت آجاۓ اور قیامت تائم
ہو جا اور جو لوگ زندہ یں ہوں وہ مو تکی اید بی نید سو جا
اور سواے اللہ گی و وم ےکوٹی ذات ر"رہ بائی نہ رہ جا ' پیج راس
کے بعد الد تالی دوبارہ ساری وق بیہاں ت کک حیوانو ںکو اٹھاتے کا
اور سمارے جمموں میں روح لوٹا درے گا جو یہ بی جیے ہو جانیس کے
راس کے بعد ان کے دنیوی اعمال بر ساب وکماب ہوگا اور ای کے
مطال جا و سزا دی جا ےکی “کسی عورت و عردٴ غاوم و مخدروم امیرو
خیب م سکوئی فرق و ایاز نہ برا جائے گااور ذرہ برا کسی ر لم و
زمادتی نہ ہوگی الم سے مظلوم کا عق دایا جائۓ کا ضق کی حیوانات سے
ابی لم و زیاد یکابرلہ چکایا جا گا بچھران سس ےکماجاۓ گا تم سب می
ہو جا کو کہ جانور جنت پا عم میں نہ جا میں گے۔

۲۳۲

öööööö 23 öööööö
الد تالی جتنوں اور انمانو ںکو ان کے ا مال کا اورا اوراپرلہ دے گا
نانیہ مومنین و صا نکو جفت میں واخ لکمرے گاٴ اکرچہ وہ دنیا ٹںش
ہب سے عیب رے ہوں اور کفار و مشرکی نکو تنم رس رکرے کا
اک رجہ دنیاں امبراور باثیت رے ہہوں ارشمارے :

2 ان اُکرم کر جند اق النن کپ (اف٥ثرات‏ : ۳

تم میں اللد تعالی کے نزدیک زیادہ عمزت والا وہ تخس سے جو

زیادہ لُویٰ والاے۔

ہت : رح طر کی معتوں سے بھربور مہ سے ےے انسان
ان خی ںکر سکتا ٹس میں سو در بے ہیں اور ہردر بے کے کے حوت و
ائمان اور الد گی اطاععت کے اختبار سے پاشنرے مس نت میں سب
ےکم درجہ والا ٠یس‏ دنا کے بڑے سے بڑے پادشاہ کے مین و
آسائش سے ست کنا زیادہ مشش و عشثرت میس ہوگا۔

دوزرحغ : اس سے الد تعالی بمکو بناہ رے“ وہ گوناکوں ع اب و
زا کا رکز سے جس کے بیان سے قلب و گر ملرز جات ہیں اور آنھحیں
اشکبار ہو جائی ہیں اکر قیامت کے بعد دو پارہ موت ہہوٹی نو تل دوزخ
کے دنہ ہی سے لوگ مرجاتے ' ان موت و صرف ایک بار کی سے

۲٢

öööööö 24 öööööö
تس کے ذریہ انمان ونیا سے آخر تکی طرف مل ہو جا ے۔

قرآ نکریم نے موت“ عشرو نر صاب و کاب ‎٠‏ جزا و مزا اور نت
و ووزغ کا تفصیل سے نقشہ مٹیا سے اور اس کی ساری چو ں کو
وضاحت سے میا نکر ویا سے“ سکی طرف جم نے اشارہکیاے۔

مدت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور اب وکماب اور جزاو مزا کے
رع ہونے ىر کخرت دلا نل موجوو ہیں۔

و می وس ۱

ینا خلقننکم وفہا تیڈکم وینہا غَرحَکم تار

أخریٰ کہ (طہ : ۵۵)

اسی (زین) سے کم نے میس پیر اکیاہے اور اسی میں یم ممممیں

وابیں لے جا میں گے اور اسی میں سے ممہیس پچھردوپارہ ٹیش

گے۔

مرا رہادے :

هو کل حَلق علے ۹ (ں : 2۸ے ۹ے)
اور جعاربی مان میں تیب اکتاغانہ) ممممون با نکیا اور اتی

۲۵

öööööö 25 öööööö
خلقق کو بھو لگیا کنے لا کون زند ہکھرے کا بیو ںکو جج بکہ
وہ إو رہ ہوگئی ہوں“ آ پ کہ وتے انیس وں زن دہ کرے کا
خنص نے انیس اول ہار بی راکیا تھا اور ودی سب مر عکا بی اکرنا
ٹوپ جانا ے۔

ایک مہ اود فیا نے .

ورای کے ران لن بہمخوا قل بن ور لنعشن ُم ابو

0208 پسپر کہ 0

و لرگ کفریں ان لوگ ں کاشیال ہ ےکم وہ زدواراا ٹھاۓ >

جائیں گے آپ (ان ے) کے ضرور اور 2 ے مہیرے

بروردگا رکی ضرور خم اٹھاۓ جا گے پچ رج پچ خ مکمر گے ہو اس

کی تممہیں نجرد ی جات ےکی اور ہہ الڈہ بر (الئل) آسان سے
آی تکری کی ایعالی غیر

لد تعالی می آبیت مس ب جانا عابتا ےکلہ انسا نکو اس نے زین
سے ڑم صھی سے سکیا اور ہہ اس ور بر ہہ واکہ اس کے جد امچر نحخرت
آوم علیہ ملا مکو می سے را فرمایا/ اور دوبارہ منے کے بعد شروں
س صلی بی میس ملا در ےگا اور بچھرابنی ابٹی شیروں سے تی یکو زی ہک رکے

۲۲

öööööö 26 öööööö
ہ رآ رککرے کا اور ان کا صاب وک ماب لے کر امھ برے اع مال کاپرلہ
ورے گا۔

اور دوصری آبیت میس اللہ تاٹی ان کافروں کی تردید فریا رہا سے جو
ہرتے کے بعر دوپارہ ژنرہ ہونے کا الک رکرتے ہں اور انمھیں جب ہوا
ےکہ پڈڑیاں ڑنے نے کے بعد کسے زندہ ہو جامی ںگی اور ا نکو ہہ بتانا
ابا ےکہ وہ ذات پاک جو می ھتہ ا نکو پراکرنے > تقادر ہے وی
ان کو دوبارہ زم ہکرنے بر بھی قادر سے۔

اور تسربی آی تکریہ میں تھی اللد تمالی ات یکفار و مش رین کے
مات کاجواب دے رہا سے ج وکہ اث بعد امو تکاانکا رکرتے ہیں اور
ا سکو ناعمکن تو رکرتے ہیں و ا سکو اب تکرنے کے کےے الد تال
یکریم صلی اوہ علیہ وس مکو عم فیا رہا ہےےکہ ان سے مکھاک یہ
ید سکہ الد تعاٹی اث بعد اموت پر تقادر سے اور ان کے اعمال سب
ساضے آ مس کے اوراسی کے مطابقن برلہ دیا جا ےکا اور یہ الد تتحالی کے
لی ہکوئی بڑبی بات میں بللہ صسعموٹی سی یز سے۔

ایک دو سر بی آیت میں مزید وضاص تکرتے ہوئے فرما ا ےک ہ جب
بث بعد الموت کے اور نم کے مر نکو زند ہکیاجاۓ گان ا میں حم
پش عزاب دا جائ ےکا اور الن سےکما جات گا :

٢۲ ‏ے‎

öööööö 27 öööööö
دوفواً عذاب ا لتَار ای جج
(ایرۃ ‎٠:‏ :
جن ےب کو یک 7ز بر٤‏ 2ھ

نان کے قول و نل ک ریارڈ :

انلم تال ی نے ا س کی بھی وضاس کر دی ےک ہ اسان جو چچجھ بھی
اتکچھا یا برا ول و نل انجام دے گا چاسے وہ علاعیہ ہو یا اوشیدہ طور
بر “سب الد تال کے عم میں سے اور لوح محفوظ میں آسمان و زین اور
انان اور ووصربی ساربی مشخلوقات کے درا کرنے سے بل ریا رڈکر
دیے گے ہیں اور اس کے ساتھ سا حر ہرانسا نکی گھرائی اور اس کے
ات برے اعال لے کے لیے دا ا دو فر تن مففرر فریمالۓ ہیں“
امیس جاخب والا فرشنہ خییاں لکتا رجا ہے اور بای جانب والا برائال'
انمان کاکوئی بھی قول و نل ان سے فوت خی ہو اور پچھرانسمان کے
دوبارہ زندہ ہونے کے بعد قیامت شں اے وہ قوط رہ ریکارڑ وے دا
جا ےگا چنانیہ وہ ا سکو ہے نے کے بعد سی ایک چ کے بھی الفکار و دید
کی جرات گر کے کا ور جو تخس سی رکااڑکا رکرے کائو اللہ نعائی
اس کے بات“ یر آگھھ کان اور کال کو یلوا وے گا اور وہ اس کے

۲۱۸

öööööö 28 öööööö
خلا فگواہی یں گے قرآ نکریم میں جذکورہ پان ںکی تفصیل موجورے '
الد تا یکا ارشمارے :
ه ما بلفظ من قول الا لد رقیب تیر رل ۰:۰ ۱۸)
و ہمکوئی لفظ منہ سے نیس کال با ا گرب ہکم اس کے اس ماس
کی ایک اک میں لگا رت والا چارے۔

زیر ارخمارے :
ط وا علي کم کفظینَ 7 کرام کین ا يقونَ ما
تمعلونَ (الافطار : ۴١٠۔٢)‏

درا تحالکہ ممارے او ہماربی طرف ے) یاد رکے وا لے
معز کین وانے مقر ہیں وہ جات ہیں ا سکو جو چچجھہ خ مکر
رے ہو۔
آبیتکی اغیر
آبیت کریہ میں اللہ تحالی بہ بتانا عابتا ےکلہ پرانسمان بر دو فرتۓ
مر میس ایک داہئے طرف گگروں سے جو اعمال حتہ تا ے اور دو حر
امس طرف مخت سے جو اعمال مہ حر کر سے۔
اور آنخرکی دوموں آیچوں میں اللہ نتحالی نے ہہ تبردی ‏ ےکمہ اس نے

۲۰۵

öööööö 29 öööööö
لوگوں کے ساخہ چجھھ مزز فرش مقر رکر دسیے ہیں جو اان کے تمام افعال
کو ھت رتے ہیں اور ہہ بھی بتایا ‏ ےکم اس نے ان فرشتو کو پننروں
کے قمام افعال اعم رک اور ان٘میں امھ لین کی فررت عطاکی ہے اور
اس کے بغی ربھی ال کو بندوں کے تمام افعال کا علم ہے اور ان کے پیا
کرنے سے پل بی لوح حفوظا میں لہ رہا ے۔
شارت

تھم اس جات کیگوانی دتینے ہہ ںکہ الد تمالی کے علاوہکوگی متوو
برکی نیس اور ا سک یکواہی دنن ہی ںکہ حخرت مجر صلی الہ علیہ وسلم
اس کے رسول ہیں اور ا سی بھی شمادت دی ہی سکہ جن و بجع معن
ہے اور روز قیامت کے آنے می ںکولی یک و شبہ ن٠ہیں'‏ اور اللہ تمالی
لوگو ںکو ساب وکماب کے کے ال نکی خمروں سے ب رآی رکرے گا اور
ان کے نیک وبد اعمال کابدلہ دوے گا اور جو یھ بھی الد تعالی نے رن
کریم میں پ مکو ایا سے یا نہ یکریم صلی ایند علیہ وسعلم کے ذریجہ جم تک
نایا ہے سب کے سب توفا 7فاب رع اور شک وشبہ سے پللا تر ہیں۔

آرمیں ہم بھی خقل وم ر کے والوں سے در خواس تکرتے ہیں
کہ وہ ان خحالی بر ایمان لے آنییس اور اس کااعلا نیکرس اور اس کے
مطالق ضل بی ہہوں اس بسی راہ خجات ے۔

۳٣‌٣

öööööö 30 öööööö
صل روم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ ول مکی محرفت ‎٠‏

جب تم نے ہہ جان لیاکہ اللہ رب العزت وہ ذات پاگ ہے نج
نے ت کو پیدا فرایا پگ رت مکو موت دسیے کے بعد دوبارہ زند ہکرے گا اور
تمممارے نیک و بد اعمال کے مطالق جتزاو سزاد ےگا نواس کے بعد اس
کا بھی ایمان و مین رک کہ الد تعالیٰ نے سسارے لوگو ں کی ہدانیت کے
لے انا رسول جھجھا ہے اور ا کی اطااعت و فربانبرداری کا عم دا سے
اور ا کی بھی وضاح تکردی ےکلہ جح اور درست خباوت و اطاعت
کی معرفت اسی رسول کے اتراع کے ذرنجہ بی عاص لکی جات سے اور
ئل کی شریعت بر اسی وقت گل برا ہوا جا سکم ہے اور ا سکی عبات کا
جخ اد اکیا جا سکما سے جب ا س کی کائل ترن اطاح تکی جائۓ' اور
رسو لکریم نشن بر ایمان لانا اور ان کا اتا عکرنا ہ رتخنحصس ے واتب ے وہ
خائم ا رین اور تخمام لوکو ںکی طرف اش کے کیج ہوۓ رسول ‏ * مر
نی ابی صلی اللد علیہ وسعم ہیں ج نکی بعش تکی بشارت حخرت موی اور

۳

öööööö 31 öööööö
٦رت‏ عع کی نے این اپنے زمانے میں دبی تصھی جنس کا جزکرہ فورات و
7 ص2 ص ‏ 2 0
یسائی فو رات و ایل میس خحریف سے عل ربدت وبڑھاتے تے ''۔
ولاوت پا ہعادرٹ :

ادر ہہ پبارے بھی جو نائم الاخیاء اور ساری انانیت کی طرف
منصب نبوت و رسماات سے مشر فک رکے مبعوف کے گے ہیں ا نکانام
ای اور نس بگمرائی جھر بن عبرالقد جن عب را مطلب الما تی ری ے۔
جو رو زین پر سب سے ریف لہ کے سب سے سے اور شریف
تخفصس ہیں جن کا تر نب ححرت اسائیل بن ححضرت ابراجیم ضلیما
سام سے جا ماما ے۔

آپ صلی اللہ علیہ و سم مل ہحرمہ میس *ے۵ء میس پیا ہوئۓ' آپ
نے جس شب آگ ھکھوی“ آپ کے بیدا ہوتے بی ایک مٹیم نور سے

ے-ح.سہسصے--سچٹکپج-ج-

0 ان شارت ںکی تفیلات کاجو تو رات وا کیل میس وارد ہہوگی ہیں جن الاسلام این تیم
کی نیف ”الجواب اسیج لن بدل دن ا "کی دو ری جلد مس مطاہکی جا سکتا ے
ای طرح علامہ این ال ک یناب ”برای ار ی''اور سیرت این ہشام اور ارچ ای یکر
یس ”ہزات النبوو'' مم ںبھی ہہ تحصذات یھی جاسحتی ہے۔

۳۰

 

öööööö 32 öööööö
اور ی کاممات روشن ہوگئی نس سے لوگ ڈر گے کت ار میں بے
واقیہ نو ٹف کیا گیا اور فرییشی کے مم انوں میں القلاب ہا ہوگیا
تراشیدہ یت اونرھے من ہگ بڑے اور تیصر وکس یی کے الوان بل گ٤‏
ادروں سے زا کر قیریاپیں ٹو ٹک رگ رکئمیں او رآ یکدہفارس بج ھکر
را ہوگیاجھ دو زار سال سے دکک رہا تھا اور ج سکی مجیزی و جن کم
یک میں ہق تی

بہ انقلاب الد لحالی کی طرف سے سارے روئے زشین کے پاشنروں
کے لیے اعلان و اختہ تھاکمہ نام الماخویاء ول می نکی ولاوت پاسعاوت ہو
ھی ہے جو ان یتو ںکو پائش پا شکمریں کے مج نکی انل کو پچھو کر لوج
ہورری ہے اور جو قیصروکسرییکی مٹیم طاقوں سے ظ ریس کے اور ان
کو اسلا مکی دحوت دیں کے اور الد وعحد و کی عحباو تکی مل غکمریسں کے
اور جب وہ اس دحوت پ پیک کن سے انکا رکریں کے فو مہ آخریی نی
ان سے چا دکریں کے اور ان کے ممعین ان کا ساجھ دس کے اور
آخ رکار ہہ لوک ان طاقوں سے نبرد آزما ہوکرُخ باب ہہوں کے اور اللہ
کے و یکو ساری زین پر پچھیلا میس گے چنانچہ اللہ تعالی نے آ پ کی
بعشت کے بعد الاب یکییا یس اکہ اشارہ ہوا تھا۔

ى۴۳

öööööö 33 öööööö
رسول الد صلی الد علیہ وس مکی خصوصیات :

اللہ تحالیٰ نے آ پک بھ ای تموصیات سے وازا سے جو دو سرے
انمیاء وو رس میں نیس پائی جائیں ان میس سے کن ہہ میں ‎٠‏

ا - ام زایا ہہونا : آپ صلی اللہ علیہ و سم نام الاخیاء و
ال ملین ہیں آپ کے بح دةکوگی رسحول یا نی میں آتگا۔

۴ عحوم رساات : آپ صلی لف علیہ وس ساری
انمانیت کے لیے رسول بن اکر مبجوث کے گے ہیں اور سمارے لوگ
امت جرب کھلائۓ جا میس کے ننس نے آ بک اطاعح تک وہ جمتی ہوکا
اور شس نے آ پک نافرما یکی وہ جمحم رسید ہوگا۔

بی سودی اور حیسائی بھی آ پکی عمل اتجاع کے ملف ہیں“ اور جنموں
نے آ پ کی پروی نکی اور آ پکی نبوت و رسالت پر ایمان نہ لائے وہ
ور تقیقت حنطرت موکی و عخرت مکی اور سمارے انویا !کرام کے مگمر
ہیں اور سے سمارے انمیاء ان پیروکاروں سے انی براء ت کا اظما رکھریں
جےکیوکلہ ان اخمیا کرام نے الد کے عم سے نی اکرم صلی اللہ علیہ
وع مکی بش تکی بثارت دی ہے اور آ پکی خبوت و رسالت پ ایمان
ان ےکی دوت دی ہے اور اس ےھ یک آپ کادین اسلام سارے

لاک

öööööö 34 öööööö
امیا ءکرام کادین سے ہن س کو الد تالٰی نے آ پکی بعشت و رسمالت کے
ذرہ دج کا لیکو پچا را سے اس ےکی بھی مخصس کے لیے جات
نی ںکہ نی اگکرم صلی اود علیہ ول مکی بعنت کے بعد وین اسلام کے
علاوہ کسی دوسرے دی نکو انال ےکی کہ دین اسلام بی آخری اور عمل
دن شریجت سے اور اقیامت تفوظ ريےے والاے۔

جال تک یودیت اور می سائی ت کا علق سے نو وہ ابی اصل شحل میں
موجو نہیں ؛ بللہ ان میس غیرصعموبی طور بر گریف و تبدرٹ یکی جا چچگی
ہے اس لیے جس نے دن اسلا مکی پروی کی وہ موکی و مھپکی اور
مارے انمیا کرام کا شع سے“ اور نس نے وین اسلام کاانکا رکیاوہ موی
و یی اور سارے انمما کا مر ھا جا ےگا لے بی وہ موی ما مکی
ہماالسلا مکی اتجا ع کا د عو یکھرے' بی وجہ سےکہ ن یکریم صلی اد علیہ
وم کے زانہ مبارکہ میں زی شعور اور انصاف پیند بیمودلوں اور
حیسانو ں کی ایک بڑی راد ٢آ‏ ِ۔ سپ ائملان ای اور دن اسلام میں داشل
ہوگی۔

اك ۴ك

öööööö 35 öööööö
رسول ال صلی لہ علیہ رسلم کے مت

بیرت نگاروں نے آپ کے ممججزات بر جو آ پکی رسالمت و لوت
کی حاکی غاب تکرنے کے ہے اطور ولییل نمووار ہو ہے“ فصبیل سے
روشنی ڈالی سے مج نکی نعداد ایک زار سے زیادہ چ جالی ہے جن میں
سے مین ہہ ہیں۔
ا -۔ ربدت : آپ کےکندگعوں کے درمیان مرشوت کا ہونا۔
‎٣‏ ہاول کاسابیہ نٹ جب آپ وعحوب میں چلاکرتے تے نو باول
کا اک گکڑا آپ کے او سایہ فلکن ہو تھا۔
‎٣‏ ۔ کتکر یىی تیچ : بب کے ہاتوں می ںککرییں نے تیج د
تمیری

: ۴۳ ۔ ورخت کا سلام نیکریم صلی اللہ علیہ وس مو ورخشت
نے سلا مکیا۔
۵ - ٹئال ‎٠‏ نم یکر یم صلی اود علیہ وم نے قرب قیاصت

0 قرآا نکی اصطل اح یس ججزا ت کو آبا ت کم ص8 سے" اوری زادہ 3 سے" من
ہخزات کا لفظ ھم نے اس لئے استما ل کیا ےک نارق ارت امور کے ہے بی لفظ
استعال ہہو ما ے۔

حم

 

öööööö 36 öööööö
ہونے والے لتض وافقعات کی جیتلوئیاں فریانیس حھیں جو رف رف
رونمااور مفا 7فا چح خاہت ہو ری ہیں اور ان کا بھم مشاہ ہ٥ک۷ر‏ رسے ہیں
اور ہہ واقعات نشن کا عم اللہ تعالیٰ نے آ پکو عطا فرمایا تھا حدبی ث کی
کمابوں جس بوری فصییل کے سا برون و ححفوظ ہں۔

کت حریث کے علاوہ علامالت قیامت کے موضوع پر علا کرام کی
7ب امام ا قک ری ]لف .ا نی زاب ”الاخار امشامہ
فی اشراط السا“ او رکب حریت میں اہو اب الششن و امام ' کے تحت
بھی ہہ تفصعیلات کور ہیں۔

مرکورہ ہزات دو سرے اخمیاء کے مہجزات سے مہہ ہیں مان الن
کے علاوہ ایند تال نے آ پکو ایک اسیے منلیھم سججزد سے نوازا سے جو
مامت پائی رے اور ج کسی اور ب یکو عطا نمی ہوا اور وہ میم مجزہ
ے.
‎٦۷‏ قرآ نکریم : ج سکی مات کا خود ایند تھالی نے ذمہ لیا ہے
نس میں کسی مکی خریف و ججدپی نا مکن ہے اگ می بدبنت نے
ا سک یکو صت کی فو وہ ناکم و نامراد رہاکی مہ قرآ نکسم کےکروڑوں
نے ساری ونا میس مسلمانوں کے ہانتھوں میس موجور ہیں ججوکہ ایک
دو سرے سے ایک حرف اور نقطہ میں بھی ملف نہیں ہیں۔

٣ ‏ے‎

öööööö 37 öööööö
گن اس کے ب رس رات واکیل میں غی رمعمولی خر یف و تد بی
ہو پگی سے ان کے گے متعدداور ایک دو سرے سے ملف ہیں اور ہر
طباععت“ٴ سابقہ طباعت سے خلف ہوپی سے کول لہ اللہ نے ان کی
عاظط ت کی زمہ داری ہورووں اور عیسائیو ںکو سوئی فو انوں نے ان
کے سات کھلوا کیا“ ج بکہ ق رآ نکی حفاظت کا خوو اللہ نے وعرہ فربایا
ہے جس الہ ارشماد رباٹی ے :

لان نرلنا اکر وَنَا لم کكنظرہ* رامر:٥‏

بھم نے بی ذکر (قرآن) ناز لکیا سے اور بھم بی اس کے محافظ

ہیں۔

۲۴۰۸

öööööö 38 öööööö
قرآ نکریم کے کلام الد اور شھہ موم کے
رعول الد ہونے کے می اور مکی وا نل

قرآ نکریم کے ام الد اور رسول اللہ صلی ایند علبیہ و سم کے بجی
ہرعن ہونے کے لی اور متعقی دلاکل و خوار میں سے ہہ ےک جب
کغار مکیہ نے ھی اکرم صصکی الد علبیہ وس مکی منج بکی جس رح سابقہ
ا ں نے ات اۓ ایام مکرا مکی محخذ بکی ىصھی او رکم اہ شرژن
ریم الد تعالی کا کلام نیس سے“ نو اللہ تعالی نے ہنم فرماتے ہہوئے ان
سے مطالبہ کیاکہ اسی طرح فصاحت و بلانغفت سے بھ ٹور کلام لاکر
دکھا میں“ چنانچہ زبان دای کے باوجود وہ اس جعیسا کلام لانے سے عات
ر سے عالالمہ وہ اپینے آ پکو بلانفت و فصاحت اور شمعمرو شاع بی میں
چٹ بر ھت تھے اوران مس بڑے بڑے شعراء اور نمور مقررس موجور
تھے پمران سے صرف پہ مطال ہکیاگیاکہ اس جیسی دس سور خیں بی (اکر
دکھا میں سو ود شہ لا گے“ پچھ ری مطاہ کیا اک ہکم ازم الیک چھوٹی سی
سورت قرآن کے مقاللہ میں جیی کر یں کن وہ اس میں بھی ناکام

۰

öööööö 39 öööööö
رے پیل راد تعالی نے خوو جس نیس ہہ اعلان رما دیاکہ وہ الیب اکر ہی
یں کت۔ بللہ اکر سارے انسان اور جنات م لک ربھی الیبا کلام جیی ںکرنا
جاہیں تو وہ بیقیننەکام رہیں گے نانچہ ارشاد ربالی ہے :

قُل لپن اَجتَمعتِ الانش وَالَجنْ عل أن اتا بِمعْلِ مٰذا
الشان لا يأتون پمشلہ۔ وَلؤ کادے بعصہم لعضِض
پر پچ (الا ۱ء : ۸۸)
آ بپکمہ ون کہ اکر (ھل) انسان و جنات اس بات کے ہے جح
ہو جا سکہ اس جیسا قرآن نے آ میں ج ب بھی اس جحیسا تہ لا
یں کے خواہ وہ ایک دو سرے کے یوار بھی بن جا عیں۔

اکر قرآ نکریم مھ صلی اللہ علیہ وس م کیاکی اور انسان کا کلام ہو
اور کلام انی نہ ہو فو یقیا ایل عرب اس جیسا کلام یی کر دسینے اور
عاتز و قاصرنہ ہوتے۔ لین الد تال کاکلام ای طرح ایی و شنیم تین
سے جس طرح ا سکی ذات و صفات لوق سے بالاتر اور شیم الشان
ہے اورٹس رح وہ ذات پاگ ”لیس کمثٹلە شی ×ے تصف
سے ہین ا سکاکلام بھی بے نظیراور بے مال ے۔-

اس مان سے نوف اندازہ ہو جانا ےک خقرآ نککریم الد کا کلام جن

٣ ‏٭‎

öööööö 40 öööööö
ہے اور مجر صلی ایند علیہ وسعلم اس کے رسول برجخ ہی کی کہ اللہ تحالیٰ

کا لام سوائۓ رسول کے می دوسرے حخص پ نازل میں ہوںا۔ خوو
الد نعائی فرما ا ے :

۔--تد

مس ہے سح وسر کل سک لس خر ے ہےرے حہهصے
ےی ک حبد آ أَحَد مِن رَجِالِحَم وَك رسوا الله
مر سر رک سر مگ و ہے صرصی ری _ مر عم _- حم
وخاتم الْيْیشن وکان الله بکل شی علے ا4

(الا7اب : ۳۰)
تممارے مردوں میں سے تی کے باب نمی ہیں البتۃ اللہ
کے رسول ہیں اور (سب) ھیوں کے تخم بے ہیں اور اللہ رض کو
وب جادا ے۔
دو سرکی مہ ار شا وگرائی ے :
وَمَا َرسَلکک اِلا کَافَة للنایں مَىْوا نی
ول ‎٤‏ اُکڑ التَایں لا یعلمورت ہ (صا : ۲۸)
ور ہم نے و آ پکو سمارے بی انسانوں کے لیے نی پناک تھا
سے بطور خوش ت ری سنانے والے اور ڈرانے وا لے کے یکن
لوک نیس جھت۔
ایک اور جلہ مایا :

آخے

حر
ح

سمرسرسے سے سر۶ سر 1 ہے کس ‎٦‏ “ہك ۰
۱

öööööö 41 öööööö
اور بھم نے آ پکو سارے جہماں کے لیے رحمت ب اکر جیا سے۔
آا تکری کی اچمالی کشر :

بھی آبیت میس اللہ تھالی ىہ جانا جاچتاے کہ نی اکرم صلی ال علیہ
وسلم سادری انسانی ت کی طرف ‏ ھی اور رسول بناکر بجی گئے ںاور وہ
آخری نی ہیں آپ کے بع دی نی اور رسو لکی بعنت نیس ہوگی اور
آ پکو مٹیم نصب رساات سے متشر فکیاگیا ہے جس کے آپ ہی
تن تے اور جو آب بی ر صخم ہونے والا تھا۔

دو سی آیت میں اللہ تا لی نے ہہ باا ےکلہ اس نے حعضرت مھ
صلی اللہ علبیہ و سم مکو سمارے لوگو ںکی طرف رسول بن اکر کیا ہے چاسے
وہ کالے ہہوں اکورے رب ہوں یا گب رعرب اور نے بتایا ےکلہ بت
سے لوک عق اور عقانیت سے ناواتفی تکی وجہ ےگھراہ ہوئے اور نی
اکرم صلی اوند علیہ و س۱ل مکی بعقت و رسمالت کا الا رک رکے کاف ہو گئے۔

اور تیسری آیت میں ال تال نی اکرم صلی اوند علیہ وس مکو مخاطب
کر کے قرما ا ےکلہ اس نے آ پک ذات اور بعش تکو سمارے ججماں کے
لے رحمت اور باعث برکت بنا سے“ آپ الد تال کی ای رحمت ہیں
سے اس نے بطور عطیہ ساری انسانمی تکو مھت فرماا سے نس نے

و

öööööö 42 öööööö
آ پکی اطامعت اخقیا رکی اس نے اللہ نماہی کے عطیبہ رحم تکو قیو کر
ا اور جنت کا سن ہوا اور جنس نے آ پ کو چھظلا دا اور آپ کی
ابعداربی سےگری دکیانے اس نے اللہ تال کے بریہ رحم تکو مھگرا ویا اور
نم کا نم ہوا۔
الد اور اس کے رسول مجر نل بر ایمان لانے کی
وت :

اس لے ہم ہرتقل وہم رن وانے شی سکوبہ دعوت دسے ہیں
کہ وہ ایند تال کو رب ما نکر اور صی ابڈد علیہ ول مکو رصول ما نکر
ان بر یمان لائے اور آ پکی سنت و شریج تکی مل روب یککرے اور
اسی کا نام دن اسلام سے جس کااصل ماخ اور صرتحمہ قرآ نکریم اور
رسول اللہ صلی اللہ علبیہ وس مکی اعادیث مبارکہ اور سنت طبہ ں'
کیوکمہ اللہ تعالی نے آ پکو تھام لغفزشوں سے مفوظط رکھا سے اس ڑے
آپ الد ہی کے ھرصی سے کسی ام کےکرنے اور نہکرنے کا عم دیئے

ہیں ٴاس لیے تی ول سے کک ےکک میس اس بات پر ایمان لا اکنہ الد ہی
ممبرا رب اور مود پ ری سے اور ‎٢٢‏ س جات کہ مج صلی ادند علیہ وسلم
ابد کے رصول مس اور پچ را نکی پروی مج کی ودنہ بی راہ غجات سے

الہ ۳ مکو او رآ پکو سعاوت و جات عطاکرے “ آین۔
مم

öööööö 43 öööööö
بب

سی اصل

وین الا مکی محرفت :

جب تم نے بہ جان لیاکہ الد تھی بی دہ ذات پاک ہے شس نے تم
کو پیراکیا اور روزی خطا فمایاٴ اور وبی تن تما “بور برض سے شس کا
کی شریک نیں اور تممارے لیے ضریدری ہےکہ تم صرف ا یکی
حیاو تکرو۔

اور تخم نے بھی جان میاکہ صلی اللہ علبیہ و سم تماری طرف اور
ساری انسانی تکی طرف اللہ کے کییے ہوۓ رسول ہیں“ تو اب ہی بھی
جان ا وکہ تمارا الد بر اور رسول اللہ صلی الد علیہ وم بر ایمان ای
وقت مم ر مھا جا اجب تم دین اسلا مکی جج معرفت حاصس لک ر کے
اس بر ایھان لے آ3 اور اس کے مطابق عمل صا غکرو اس لج کہ بی
وہ دن اسلام سے سے الد تمالی نے پند فرایا ہے اور ای کا تام
رسولو ںکو عم وا سے اور مج صلی الد علیہ وس مکو و ےکر سمارے
لو ں کی طرف مبعوث فرمایا سے اور اس کے مطالق مض لکرنا وا تب

ٹرار دیاے۔
م۳"

öööööö 44 öööööö
علا مکی محریف :

رسول اللہ صلی ایند علیہ و سم کا ار شا وگرائی سے :

”اسلام ىہ ےکم تم اس با تک یگوابی دوک الد نال کے علاوہ

کوئی مور برجی نیں اور مر (صلی اود علیہ وس۱لم) الد کے

رسول ہیں اور نماز قا مم کرو“ اور زکو ٭ اداکر “اور رمضمان کے

روزے رکھوٴ اور رح ببیت الڈ د کرد اگمر اس کے سفرکی استتطاععت

رکھتے ہو" (مخاری و مم

چنانچہ الام دہ عابھی دین ہے جس کے ابنانے کا الد تال نے سمارے
لوکو ںکو عم دیا سے اور قمام انمیامکرام اس سر ایمان لائے ہیں اور اس کا
انسوں نے اعلان و احتزا فکیاسے اور خوو الد تال نے اعلان فرما وی ے
کہ کی وہ وین جن سے جس کے علاو دکوکی دوسا دین تقائل قبول میں
ہوا چناکیہ ارشمادرے :

"7 ا الیک جس اق الِتکۂ ہ4 (آل گران : ۹)

ادن نو الد کے نزدیک اسلام بی ہسے۔

زی میا :

ومن یَبٌغ عَبر اسم وِینا لن بقبل مه وھو ق

+

öööööö 45 öööööö
سجے ‏ سم ا+> ےم

رو من اَلْكَيِرِنَ* (آل ران : ۸۵)
اور ج وکولی الام کے موانکسی اور ون کو تا شکرے کا سو وہ
اس سے پرگز قبول نمی ںکیاجاۓ گٴ اور وہ تنس آخرت میں
تا کاروں میں سے ہہوگا۔

آی ت کی کی اعمالی شر :

ال نھالی ىہ جانا چابتا ےکلہ اس کے نزویک مرو مقبول ومن صرف
ون اسلام ے۔

اور وو سی ایت یں 7 وضادت فا یقکہ دن اسلام کے علاوہ
ودمسی سے بھ یکوگی وین قبول خی سکرے گا اور مرنے کے بعد صرف
ملمان بی نیک ببنت ہوں کے اور جو لوگ وین اسلاام کے علاوہ ادر
د یکو ابناۓ ہوئۓ مرجا یں کے لو وہ بڑے خسارے میں ہہوں کے اور
رح طرب کے عاب میں متا رہیں گے ای وجہ سے سارے انیاء
رام ےے 22 الام کو اضار فرمایا اور اس کی طرف دعوت دی“ اور
بس نے اں سے روگ روا ی کی اس سے انموں نے اعمان برا تکیا
ہے۔ اس لیے جو بیسودی یا حیسالئی ضجات اور سعادوت چا ہیں انی
چان کہ اسلا مکو قو لکر لی اور حخرت مجر صلی ادند علیہ وس مکی

ا

öööööö 46 öööööö
بوت و رسمال ت کا ا مرا فک کے آآ پکی شرع تکو ابنالیاس اکلہ حضرت
موی اور نطرت یی معلیجھا السلام کے فی یبردکار خایت ہہوں “کی کہ
ور حطرت موی و می اور حضرت مجر صلی ارند علیہ وسعمم اور سمارے
اخیا کرام ملران جے اور دن اعلام بج یکی انموں نے وکوت وی ے'
کیوکمہ بی وہ دن سے ننس کے ساتھ الد نے انکمیں میا تھا۔

یکریم ص لی اود علیہ وس کی بت کے بعد سے یکر ا قیاص تکوئی
تخس بھی اس وفت کک مسلمان ہونے کا وعو کی خی ںکر صا جب کک
کہ آ پک نبوت و رسال تکو ج رل سے تبول ن ہک لے اور آ پ کی
سنت و شیج تکی عمل طور > نع داری نہ افقیا رکرے اور آپ >
ناز لکرد کاب قرآ نکریم پر ممل پیرا نہ ہو جائے۔ چنائیہ اللہ تال کا

ارخارے۔
فل ِن کم تجبو ہوں الله فاتیعوق بک الله ویفر
سر سر و سرصو >>
نکر دنوبکر والله عفورُ تح ےر 4 (آل گان ‎۳٠٣٣‏

کہ ےک تر نے عبت رکت ہد ری چو
کرو“ انرم سے محب تکمرنے گے کا اور تممار گناو بش ورے
کا الد بڑا نے والا سے بڑا مسربان ے۔

سے ۴

öööööö 47 öööööö
آی تکری کی اخماپی شر :

الد تعالی رسول اود صلی اللہ علیہ ول مکو ىہ عم فرما ربا ےکہ اللہ
تالی سے محبت کے دعویداروں سے یہ فریادی ںکہ اگر تم لوگ واشئی اللہ
تمالی سے محب تکرتے ہو نو مبربی اتا کرو“ الد ای حم سے محب تکمرنے
گے گا اور تھہمار ےمناہو ںکو معاف فریا وے گا جب تم مم صلی اللہ
علیہ وسم بر یمان لاق“ آ پکی اطاععت اختیا رکر ومک کہ الد تم سے اسی
وقنت عحب تکمرے گا۔

اور بسی وہ دن الام سے ج سکو نی ارم صلی اللہ علیہ وسعلم سااری
انانب تکی طرف لےکر مبعوث ہو ہیں اور ىہ اییا مل وین سے
ت سکی کیل اللد تعالی نے فرمائی ہے اور اپنے بنروں کے لیے ای دن
کو پبند فرماا سے جس کے علاو ہکوٹی دو سرا وین اس کے نزدیک قائل
قول نہیں ہے اوراسی دن گی مارے اخمیا ہکرام نے بشثارت دی تی

ارغارے :
2 ام اَصلتُ لم یکم امت 2ے ) نعمقی
سر سے خرھر وس کے م
وَرَضیت ا 4 سَلم دنا چ4 الم ارہ

نے تھے لے وکا لکریاورتے بات
پور یکردی اور تھہمارے نے اسلا مکو بطور وین بن دک لیا۔

6۸

öööööö 48 öööööö
آی تک ری کی اجمالی شر :

یہ آحی تکرییہ ب یکریم صلی اللد علیہ وسم بر اس وقت نازل ہوئی
جب آپ اور سمارے محاب ہکرام رج دداع کے موب بر عرفات کے ون
زکر ال اور دعاو مناجات میں مصروف تے' اور وین اسلام مل پھو لکر
اپنے عروج بر تھااور قرآ نکریم کا نزول پایہ کی لکو تچ کا تھا اور نی
کریم صلی اللد علیہ وس مکی حیات طیبہ اپنے آخری دور میس تھی چنانچ
اش تھا یىی اس آبیت کریی کو نازل کرکے ہہ انا جاہتا ےک اس نے
مسلمانوں کے لیے ون اسلا مکو مل فرمادیا سے اور ان بر اتی تتیں نی
کریم صلی ایند علیہ وس مکی بعشت اور آپ پر قرآن ناز لکرکے عحمل
کروی ہیں زان کے بے اسلا مکو مطور وین بین کر لیا سے جس سے وہ
بھی ناراض نیس ہوگیا اور نہ اس کے علاو ہکوئی اور وین قیو لکمرے کا
اوروودین الام جن سکو ےکر نب یکریم صصکی ایند علیہ و سم تشرلیف لائے
ہیں وہ ایی مل دن و شریعت ہے جو ہر زمانے اور ہرعلاتے اور ہرتوم
کے لیے موزوں و مناسب ہے وہ حم“ آسالی خیرو برکیت اور عدل و
ااصاف والادہی ے "الام زندگی کے ملف شعہ جات کے بے اک
مل اور داع سے ہے“ چنانچہ وہ دن و ساست دونوں بر مشتقتل ے'

۲۹م

öööööö 49 öööööö
اس میں علو مت“ قضا“ ساست' اور مماشری 027
کے بارے میں رہنمالی موجوو سے شن س کی ایک انان کو صرورت
بی آعتی ہے اور اسی دین میس انسا نکی اخخردی زندگ یکی سعادوت بھی
ۓے۔
ا ران اسلام [

ومن اسلام جن سکو ن یکریم صلی اید علبیہ و سم ل ےکر مبحوت ہو ئے
جس کل اچ رکنوں بر مل ہے جن بر ایمان لائے اور ان کے
قاضوںء عمل کے بفہکوڑی شخصس جج طور بر مسلمان نہیں ہو سا وہ
ا کن ىہ ہیں :

۱ ۔ ا لک یگوابی ویناکہ اللد کے علاوہہکوگی معبووخمیں اور مجر صئی
اللہ علیہ و سم الد کے رسول ہیں ۱

۳ راز تق مکرنا۔

۳ ۔ ژڑکو ة او ا گرنا۔

۳ ۔- رمغمان کے روڑے رکھنا۔

۵ - استطاععت ر نے پ رق ہبیت الل کر ''۔

00 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رشا گرا بی ہے: ”اسلا مکی یاد پا جڑوں >
۰

 

öööööö 50 öööööö
کلہ شماوت کے بجھ معائی و مغائیم ہیں جن کا ہ رملمان کے لئے
جانا اور انس کے مطالقی حح لکرنا ضروری سے اور جو لوک بخیر سو جے
جھے ا سکو صرف ابنی زبانوں سے دہرا لیے میں اور اس کے مصعی سے
واتیت نہیں رکھت اور نہ ہی اس بر عم لکرتے ہیں وہ کیج ممنوں میں
اس سے بجھھ بھی فا دہ نمی اٹھاتے۔

چناضیہ کہ ×لا بدہ الا دہ“ کے مصعمی ہہ ہی ںکہ زین و اسان ٹین
سوا الد تال کس ےکوگی معبوو برجی ۰میں سے“ ا یکی ذات یاک تن
تماصعبود رجنخ سے اور اس کے علاوہ سارے معبو پاضل ہیں۔

کے متی مو رکے میں “جو فص خیرادلدکی عبار تکرح سے وہ
کافراور مشرک سے اگرجہ اس کا معبو دکوکی نسی با وٹ یکیوں تہ ہوٴ اور وہ
ا سکی عبات اس ہیل ےکر ہ وہ وہ اس کے ذرنیہ الد تال کا
قرب اور وسیلہ حاص لکر رہاے س مہ وہ مش رین جن سے رسول اللہ
لی ال علیہ سلم نے چنا با وو اغیاءور او ای یل سے

سے بس کی وی دیاکہ الد کے سوا کیہ و رح سی ں مز تا مکنا کو تا اکنا“
ران کے روڑے رکھنا و ر استطا عحت کے وشت رخ بیت الل دکرنا (عفاری و مسلم)
قرآ نک ریم سے ولا نل کاؤکر ذررے حا یں سے ہر رک کی تجح کے مین میں نے
1

۵1

 

öööööö 51 öööööö
عبار تکیاکرتے تھے کین ا نکی نیہ یل ال اور مردود ےکی وک
الل تحالی سے قرب اور کل حاص لکرنے کامہ طریقہ می ںک می
اور گیا عباد کی جاے “اللہ تلی کا تقرب اور کل تو اعمال صالہ اور
اس کے اسماء و صفات کے ذرلجہ عاص لیکیاجا ا سے ننس کا خوو الد نمائی
نے مسلمانوں کو عم وا سے جیسے نماز بھی جاے ' روزے رھے
جامیں' جھا کیا جائۓے“ صدقہ و خرا تکیا جا جکیاجائۓ والدی نکی
غعدم تکی جاۓ اور مون بندہ اینے بھالی کے نے دعائۓ خی رککرے
عبار تکی شممیں :

حباو تکی بت کی ہیں ہیں "ان میس سے چند درح ذیگل ہیں :

ا ۔ دا : ات ان ضروریا تکو طل بکرناہج کو بے راکرن ےکی
سوا الد تعالی کےکوٹی طافت و فثررت میں رکتا ‏ جیلے بارش برسانا
مرییضکو شفا عط کرنا محییبتو ںکو ٹالزا اور دو رکرنا ت سکو ٹال ےک یکوگی
انان طافت نہیں رکتا اور یس جنت کا سوا لکرنا پیم سے پناہ طلب
ریا اولاو ما تنا“ رزقی طل بکرنا ‏ چین و سکون چاہنا' ا کے علاوہ اور
ھت ىی زس اڑسی جس جو سواے الد تال کے کسی اور سے نہیں

0ھ

öööööö 52 öööööö
طل بکی جاتیں؛ اور جس نے صسی موق سے خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ الن
یس سے کسی ج زکا طلب گار ہوا اس نے ا کی عباد ت کی“ عالا نہ الد
تعالی نے اپن بندو ںکو ہہ عم دیا سےکہ صرف الد سے سوا لکھریں اور
یہ بھی وا کر دیا ہب ےکہ دعابھی عبادت ہے اور جن نے می خی را کو
بکاراوہ دوزتی ہوگا“ چنانیہ ارشمارے

طول رَهکمْ اَذعوف أَسْتَجبَ

ََتَکُونَ عَنْ عبادق سینحلوں جھ

دخ یر ےک (الم ون : ‎۷٦۶‏

اور تمارے رو ردگار ے کا ےک ہ جیے پیارو میں تماری

درخواست قبو لکروں گا .بے شک جو لوک مبربىی عحبادت سے

از راہ تب اعرا ضکمرتے ہیس“ خنقریب ہنم میں زبیل ہوکر واشل

ہوں گے۔

اور دو صرکی آبیت میں ہہ واج فرمایا ےکہ الد تعالیٰ کے علاوہ ہت یکو
کارا جا سے وہکسی کے لیے نفع و نقتصان کے مانک نیس اگمرجہ وہ اخویاء

اک
‎٦‏
‏ڈ

اور اوأیاء ہوں۔
‎٠“‏ م رم مب کر کر مر جے گر ۔ٰ کے و سے ہن
٭ فل آد ا الذین زعمتم من دوزو۔ فلا ِ ہے کتف

ص ہہ ۔ ‏ ہش ےھ کے
الضرعنکم ولا محویلا٭ -- ۵۷۱.۱

َّ+

öööööö 53 öööööö
آ پکمہ وچ تم ہج یکو الد کے سوا معبوو قرار رے رہاہو ذرا

ا نکو ارد و سسی سووہ نہ تم سے لیف دو رکر کت ہں اور نہ

(اے) پرل سلت ہں۔

زی ارتمارے :

5 وآن الہ جد لله فلا تدعوا مع ال أحداچ (ان ۰ ۱۸)

اداد فی مسحجی ہیں (سب) ال کاحؾی ہس سو الد کے سان کسی

او رکو مت پکارو-
عبات کے امام میں :

‎-۳٣‏ کرنا نر ماننا اور نیاز بی یکرنابھی ے۔

‏می انسان کے لیے جائز ٠ھ‏ ںکہ سواۓ الد تعالی کے کسی اور کے
لیے قریاٰ یکرے یا نذر و نیاز یی یکرے نس نے غبراللد کے لیے زع
کیا خلا می قمریا جنا تکی رضاو خوخحفودی کے لیے ذز عکیا فو اس نے
خر الد کی عباد تک اور اللہ تال ی کی لت کا سجن ہوا الد تما یک
فان ٤ے‏ :

‏ط ظل لن صلاق وہشی وخیای ومماف لو رت
الین 2 لا ری و يك اث اتا اَل تین

‎)٥١۳۲۷۳ ۰×. ‏(الااعام‎
‎۳

öööööö 54 öööööö
آ پ کہ تیچ میرکی نماز اور ممیرکی (ساری) عبادٹیں اور مبرکی

زندگی اور میربی موت (سب) ہہمانوں کے بردردگار الد بی کے

لیے ہس “کوئی اس کا شریک نی اور بے اسی کا عحم ملا اور

یس مساسوں میں سب سے پ ملا ہہوں۔

ام سل مکی روای تکردہ ایک حریت میں رسول الد صکی ایند علیہ
وسل م کاارشارے ۱

یس نے خی راللد کے لیے ذز جعکیا اس سر الد تال کی نت ہو''

جب صسی تخس نے ب ےکماکہ جب میرا فلاں کلم ہو جائے گا تو میس
فلاں کے لے بطور نزر ص دق کرو ںکایا ہہ او رکرو ں گا لوہ نذر شرک
ہو جات ےک یک وکمہ ىہ نذر عحلوق کے لے ےک یگئی سے اور نذر عحباوت سے
اس نے کسی لوق کے لے جاتئز نہیں بکلہ صرف اللہ تعالی کے لے
بولی اہی

مشروم مذر يہ ےک ہکوکی بی ک ےکلہ گر فماں کام ہہو جا گا نے میں
اللہ نتحالی کے لیے صدق ہکروں گا اکولی اور عبار تکروں گا سو ہہ نزر
انز ہے۔اسی طرح عبار تکی ٹمموں میں :

۸ھ

öööööö 55 öööööö
۱

۳( اسْاۃ : اسححات : اور ا سعازہ 3 ہے۔
بر االشد تالی کے علاوہ کی ے نہ فریادکی جاۓ اورنہ بروطل بکی

عاۓ اور نا طل بک جم ئے الد تال ی کاارشمارے :

2 إيَاك نعبد وإِياك ستمبر 4 (الماکہ : ۳)
ھم تی ہی عباد تکرتے ہیں اور جھ بی سے بدو طل بکرتے
ہیں۔
زی ارخمارے :
ئل اعود برت الَلق ۔.۔ من شر ماخَلقہ

(لمان ‎٣۶۱۰:‏
‏آپ کمہ تچ کہ یش تج کے مالک کی اہ لا ہوں' ام
تو ات ت کے مھرسے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سم فرماتے ہیں :

ھ سے فریاد سی ں کی جائی بلمہ اللہ تی سے فریاد طط ب کی
اتی ے"۔ عدیث جح سے اسے طرانی نے روابم تکیاڑے۔

١ہ‏ فرما وکرنا آ!_ روط بک ‎٣‏ .ہ جناہ طل بکرنا۔

0

 

 

 

 

 

 

 

öööööö 56 öööööö
رسول اللد صلی الد علیہ و سم ایک اور حدریث مل ارشاد
مات ۶ں :
”جب تم سوا لکرو نو اللہ تعالی سے سوا لکرو اور جب رو طلب
کرو نو الد مال سے یرد طلب کرو'۔ اعام ترنڑی نے اسے
روای تکیاے“ اور ہہ مریثٹ جے۔
اور چماں تک دنیوی طور بر فریاد اور رد طل بکرنے کا متلیہ سے تو
صرف ای الان سے طلب کرنا جا سے تو زیرم اور موتور ہو اور
موہ نز کے ود تن ےکی بر رت رکا ہو۔
اور استعازہ می ہناہ طل بکرنا فو ہہ صرف الد جل شمانہ کے شمایان
مان سے اس کے علاوہ کسی دہ یا غاب سے نہ طل بکرنا قطحا جات
نیس کی کہ وکسی کے مالک نہیں 'خوادوہکوئی می ہو پا دی یا فرشند۔
یب کاعلم سواے اللہ تالی کے کسی کے اس میں جو مخ عم
خیب کا دوب یکر سے وو کافر سے نم سکی ریب ضروری ے۔
نس نے کسی ری لوک یکی اورانفاقی سے غابت ہہوکی و وہ
حض اق تو رکیا جا کا کی وکمہ رسول ایند صلی انل علیہ و سعھم کا
اشک رکی سے :
و تخس سی بجوی یا عافد شناس کے ماس حاضر ہوا اور اس کی

٥ ‏ہے‎

öööööö 57 öööööö
کی تحمدی قکی فو اس نے جو یھ صلی اللہ علیہ وسلم پہ

انل ہوئی یی ش رن ںی ز بی''۔ انام اتر اور عام

نے رواجی تکیاہے۔ عحباو تک ی تمموں میں :
ہر- ال رجا ء اور خثیت بھی ے۔

کی کے صعمی مہ ہی سکہ انسان سوا الد تا کی ذات کے می >
ول و ھھروسہ ز ہککرے۔

رجاءلڑنی امیر کے مم ىہ ہ سکہ الد تعالٰی کے سواکسی سے امیر نہ
رجھے۔

خقثیت کے می ہہ ہ کہ اللہ تعالی کے علاوہ سی سے خوف و
خیت نہ رھھے۔

من بڑے افسو کی بات ہ ےک آرحج بت سے اسلام کے دعویرار
لوک الد تال کی ذات و صفات میں ش رک کاا رمخقل بکرتے میں “ چنانعہ
بت سے لوگ زیدہ یں سے اور شھروالوں سے تھی عرادیں مایکتے ہیں“
مروں کا طواف کرت ہیں اور ان سے اد مر یکرن کی درخواست
کرتے ہیں یقینا یہ اعمال غبرالل کی عبادت ہیں اور ان کا مرگ گب
مسلدان خی ہو ساما بک رچہ وہ مسلمان ہوتے کا وعوٹ یکمرے “کلم ہے ہے
اور صوم صلا کا بابند ہو اور ببیت اش کار جکرے “ال تعالی فرا سے :

۵۸

öööööö 58 öööööö
وَلَمَد او إِليْكَ وَإِل الَينَ دن قبللک لپن اشرم۔
لحبطن عملك ول کو بن اَی رینَ* _(الزم: ۷۵
اور وات بے ےکہ آ پ کی مرف بھی اور جو آپ سے مہ لگزر
ےہ ہیں ا نکی طرف بھی ىہ وتی شی جا گی ےک (اے
خاطب) اگمر نے تر کفکیا فو تا حل سب فارت ہو جا کا
اور فو خسارہ میں موکر رسے گا۔

مزد ارخارے :

ہے ہے سے کسر مرو سے کل کر ھا و رم

یھھو۔ شر ہپ ہے سح سی سم جس
٭ نم من فشراك اللہ فقد حرم الله علیّے الجِنة و وللٰه

ہج تم"ک٣س‏

تم 3 سے کی ‎٦‏
‏انار وما لاظالیب مِن سا ر8 (ا ارہ نے

ت وکوئی ار کے ساجچھ ا یکو ری ککرے کا سو الد اس

جنت جرا مکر وے گا اور اس کا ٹحدکانہ (ردوز خغکی) آگک سے اور

(الے) نمو ں کاکوکی پروکار نہ ہوگا۔

ای رح اللہ تعالی نے رسول اود صلی اذہ علیہ و س۱ل مرکو عم فرمایاکنہ
اعلا نگمروی

صدل

بتھ ہے و ہوو ‏ ہدس ہے ہے یت دے و مٹٌے سووے اھ ہس مر

قل إنما نا دشر منلہر بوحح ال انما لمکم الم ود ھن کان
ہے ہے حطر کو _ سم مر

نو سر۔ی ہے ۳ لیر مھ 2 سر سرںہ_- کس ےک مسب
جوا لقاء رید ہ فلہعما ة5 ,

)۱۴ : ‏کاٹ‎ ١(

۹

öööööö 59 öööööö
آپ کم وش یی میں فو بس نمارے می جیسا بش رہوں؟ مہرے

اس ہہ وگی آپی ےکہ تمارا معبود ایک بی مود سے“ سو تو

کوئی اپتنے بروردگار سے لن ےکی آرزو رکتا ہے“ اسے چایے

کہ نیک کا م کر رہے اور اۓ بروردگا رکی حیارٹ سم یکو

بھی تریک تی ککرے۔

تض علاء سو نے ناخوایرہ عوا مکو دح وکہ میں ڈال رکھا ہے جو نی
لےحیر سے ج وک دین الام کی یاد ہے بے خرہیں اور صرف بش
فر وی مسائ ل کی معرفت رھت ہیں“ چنانیہ وم علام سوء شفاعت اور
وسیلہ گی بث کے ور دہ رک کی دعوت دے رے ہہس ضس
صصو سی انتنائی رکیک اور پاطل وی اور چنر بحوی اعادیث ا نکی
یل ہیں“ نیہ نے برعات و خشرکی تکو طاب تکرنے کے ہے خیدطالی
غواب تک بش یکرنے سے باز میں آآتے ش کو انموں نے عم رنڈ دکی
عباو تکرنے کے لے بطور وبیل و مہوت کے حکررکھا سے اور شبطان اور
واہشات کی پروی اور آباء واجداو کی اندجھی تقلیر کا وی طرز شمل
اختار یئ ہو ہیں جو یل کے مش کین انا ہہوٹئے جے۔

öööööö 60 öööööö
وسیل ہ کی نقیقت ‎٠‏

وہ وسیلہ جن سکو الد تحالی نے نیس اسیے اس ارشاو سے اخقیا رککرنے
کا عم وی ے :

ط وََتَتَعُوَا ِلد الو ےِلةً4 (الاٌّرہ : ۳۵)

ورای تک وسیلہ حلاش کرو

وہ حر مالس اور اعمال صالہ ہیں “تی نمازٴ روز صدفہٴ جٗ
چماو اھر المعروف و ضی عن اگ ر اور صلہ ری وعہ۔

را مردوں سے اد انا اور مضصیبنموں کے وقت الن سے فریاد
طل بکرنا اور اس طرح کے سارے اعمال' فو ىہ عم رالند کی عبادت میں
شال مں۔
شفاع ت کا ان :

فیا ءگرام اور اولیاء | ال اور دو سرے مسارانو ںکی شفاعت ج بک
لد تالی ا نکو ا س کی اجازت دیں گے ہم اس کے برنی ہونے پر
یمان رھت جس 7 ان ہہ شنا مت مردوں ے طلب کنا ائز میں سے
کی وکلہ ہہ صرف الد جل ممانہ کا جن سے اور یہ اس یکو حاصل مہو سے
سے الند تھالی اجازت رعمت وماورے۔

1

öööööö 61 öööööö
بنانچہ ایک جج العقیدہ مود شف اللہ تعالی سے شفاعت طلب
کرت ہوئۓ ِں ے ” اے اللہ ممبرے بارے ہیں اے رسول اور
صا ہنروں کی شفاعت قّول فرا' لمیان ۔ ہرکز نہ سے !نے تلاںل
تخس ججارے لے سفار شش کر وے'' وغیرہ “کی وملہ وہ م جا سے اور
مردے سے بھی بھ یکوئی نز طلب مم ںکی جا سی“ خور الہ تالی کا

ارخمارے :
لہ اعد جیعا لم ملكث السموت وَأَلاَرض
کم إِليْه تتعورت*4 (الزم : ‎)٠۴‏

آ پکمہ وت سفارشش خھام تر اللہ بی کے افختیار یس سے “سی

کی سلطنت آسانوں اور زین میس سے“ پیل رخم ا یکی طرف لوٹ

کر چاو گے۔

تس وم چیزیں جنمیں اسلام نے مام قرار دیا ے اور رسول اللہ
صلی الد علبیہ وسعم نے ٌح اعادیث بیس ان کے ارممیاب سے تح فرمایا
اوران سے ںین کا عم دیا ے۔ ققبروں پر کے تی کرنا اور ا نکو پت کرنا
ان ے لن“ برا ںکرناادرچادریں بڑھانا اور مقر میں نمازس بڑھنا
ہے۔

ان سب چیزوں سے رسول الل صلی اللہ علبیہ و سم نے بڑھی مخ سے

٣

öööööö 62 öööööö
روکا ہے مکیوکمہ ان بی چچزیوں سے ری ست کی ابنقدا ہوٹی ہے۔

یماں پر بخوٹی اندرازہ ہو جا .ا ےکہ جو لوگ مض قیروں او رو رگاہوں
پر عارتی دسیتے ہیں ا نکاىیہ ضمل ایک طر کا شرک باڈد ہے “یس مر
یس بدوی اور سیدہ زینب اور عراقی میں شاہ عپرالقاور جیلالی اور اٹل
یت کی بروں پر اس غرش و غایت سے عاضری دسینے ہی ںکہ ان کی
فیا ری ہوگی ھراوس بوری ہو ں گی“ لفض علاقوں میں فو نوہت یہاں
تک خی گی ےککہ لوگ قیروں کا طوا فکرتے ہیں “اور صاحب شج رکو
لفع و نتصان کا مالک مکھت ہیں اور ان سے راوس مات ہیں ظاہر سے
کہ ان کا ىہ عقیرہ اور عمل اخی ںگھراہ مشرکو ںکی صف میس نے اکر
اکر وا سے ارچ وہ مسلمان ہونے کا دعوئ یکرت ہو“ نماز اور
روزہ کی پابند یکرت ہو اور رخ معیت الد سے فارح ہو گے نہوں اور
کے لا الہ !لا اللہ مھ رسول الد ای زہانوں سے ہار پار دپراتے ہوں'
کی کہ جو لا اللہ الا الد مڑھتا سے وہ اس وقت کک مومن خپیقی میں ہو
متا جب مت کفکہ وہ اس کے مفسوم و معا یکو نہیں چچھے اور اس کے
مطالقی عحل صا ککرے۔ البتہ غی رمسم جب ا س کلم موحی کا قرا کر
تا سے و وہ مان ہو جا سے ]آککمہ اس کے مناقی کسی جنزکا ار اب
کرنے جو انی سابقہ کفرو شر ککی زندکی می ںکیاک رب تھا نس طرح یہ

٣

öööööö 63 öööööö
جال لو ککرتے ہیں۔ یا فرائكض اسلا مکو جان لین کے بعد النائیس سے
تی چک افکا کردے “یا دین اسلام کے علادہ کسی دین بایان رھھے۔

ایا کرام اور اولیاء اللہ “ان عحخرات سے ابی براع ت و ہززاری کا
اما ر کرس ک تو ان ے دعا ‎٢‏ ا کت ٦ں‏ اور ماد جا میں"
کرو لہ اد تعالی نے ان ححفرا تکو اس لیے مبعوت فرمایا سے الہ وہ

وحید مالس اور صرف اللہ تعال یکی عباد تکی دعحوت دس اور شب رائل دی
عحباات سے خواہ وہ نی ہو یا وٹی ش خحکریں۔
رسول اللہ صلی الد علیہ وسلم سے محبت پا اولیاء الد سے عقیرت

(ا) اولیاء الد وہ لوگ مس جو اللہ تھا کی وید مال اخقیا ہکرت ہیں اور نب یکر صصکی
اللد علیہ و سم کے سے قع اور اطاعح ت گار ہیس ان میں سض لوگو ںکی معرفت ان
کے لم و شل اور جماد وغیرہ سے ہو جاتی سے اور یھ لوگو ںکی معرفت نمی ہو پاکی اور
جن لوگو ںکی معرفت ہو جائی ہے وہ یہ میں چچاسہ ےکہ لوگ ا نکی معنینم و ری میں
تضحقی اولیاء ولایت کاو وی ٠ی‏ کرت ' بلک وہ اپنے آ پکوگدنگار کھت ہیں ان کاکوئی
وص اراس اور مخفموض ویت نہیں ہوقی ہے کہ وہب ری طرح سے شیع سطت ہوتتے
ہس اور ہر مسلمان جو موعر او رش سنت ہو نو وہ انی طاحت و عبات کے ار ورچہ
ولایت سے تصف ہو ے۔ اس سے معلوم ہو اکہ جو لوک مخموص لباس وشیرہ لی ےکر
منصب ولایت کے عو یدار ہو جاتے ہیں اک لوک ا نکی اتنطیع و ری مککریں وم عقیقت
ٹیس وی یس بلللہ دوک جازہیں۔
۴

 

öööööö 64 öööööö
کے مصعمی ہی می ںکہ ا نکی عحباو تکی جات ےکی کہ یہ فو ان سے عداوت
ہے بلہ ان سے جج عقیرت و عبت کا معیار ىہ ہ ےہک الن کا بی
پیرو یکی جا اور ان کے طریقہ بر چلا جائے' تچیقی مسلمان وہ ہے جو
امیا کرام اور اولیاء عظام سے عحبت نکر سے من ا نکی عبادت
خی ںکر' اور جمارانہہ عقیدو ےکہ رسول اللہ صلی الد علیہ وسعھم سے
بت رکھنا ہر مسلمان بر واجب ہے وہ بھی ایی عحبت جو ان نفس' ائل
وعیال اور سارے جما ںکی عحبت سے زیادہ ہو-
ثرثہ ناج :

مسلران تید او میس بکخرت ہیں گن ور مفقیقت وہ بس تکم ہیں اسلام
کی طرف اختسا بکرنے والی جماعتو ںکی نتعدار کے فرقوں تک جج بی
ُّ ج نکی م”ھوی تعدا وکروڑوں کک تیچ جاتی سے میکن عقیرہ اور
حل صاع کے اختبار سے صرف ایک بی جماعت ای سے جو توحی دکی
“میردار اور رسول اللہ صلی ایند علیہ وسلم اور آپ کے اصحا بکیج
یی وکار ےن سکی طرف ن یکریم صلی الد علبیہ وحم نے ایک حدیث
یس بیوں ار اد ڈرمایا بے :

نبسودی اے فرثوں میں اور حیسالی کے فرقوں میں یہ ہو گئ

٦ث‎

öööööö 65 öööööö
اور خنتقریب ری امت گے فرموں میں تم ہو جائۓ گی

سب کے سب کی ہہوں کے سوائے ایک ججماععت کے''۔ صھامہ

نے عرخ کیا و ہکون سی جماعت ہوگی ما رسول اللہ آپ نے

ٹرمایا :

نو جماعت اں طریفقہ بر ہوگی ننس بآ بی ہوں اور میرے

سحابہ ہیں'' ہخاربی او ر سم نے رواب تکیاے۔

چتایہ رہول الد صلی اللد علیہ وسعمم اور جھلہہ “کرام شضس طریتہ ہ
تے وہ ہہ ےکہ کم نےحی دکی شمادوت اور اس کے تقاضوں بر عم لکرنے
کے بعد صرف الل تل شانہ بی سے دعاکرےٴاسی کے لیے ذر جکمرے ‏
اسی کے سے نر اور یکمرے“ اہی سے فریاد طل بکرے اورائی سے
ددمائے اور ا یکی نناہ ڈونڑ تھے“ اور ہے 7 رج کک سففح ونقصان
پنھانے کی طاقت سواے اللد تالی کے مصسی کے اندر یں ای رح
ارکان الا مکو سن و خوبی اضحام وے“ اور الشد مال کے پرشتوں نازل
روہ سا یکسمابوں؛ جھے ہو ۓئ رسولوں' دوبارہ اننے اور صاب وکا
جنت و جنم' اور اکچھی بری نفرم پر ایمان و ہین رکے' اور قرآن و سنت
گی بالاوتی قجول ککرتے ہہوئۓ اسیے سارے شیلہ اش یکی روشستی یں
گرا اور ان کے سا م رسیم ت مر دوے اور ال والوں ےے

1٦

öööööö 66 öööööö
محبت اور اس کے وشتوں سے لف تکمرے اللہ کا دن بچھیلانے کی
وش لکرے اور جمادئی یل اللہ میں بجھربور حصہ لے اور نیک
ملران حعمرانو ں کی جب وہ ام با رو فکمرس لو اطاعم تکرے“ اور
ہما ں کی بھی ہو تی بات کن میس حیک نہ محسو سکرے اور نب یکریم
صلی الد علبیہ وس مکی ازوارح مطمرات اور ال ببیت سے محبت و عقیرت
بر اور عحاب ہکرام سے محبت ر تھے اور ان کے صب ورجات و
مراتب ا نکی فوقیت اور فضیلت کا ا حترا فکرے اور ان سب کے بے
ائند سے رضاہ ند یکی دعاکرے ان کے درمان پابھی مشاج را تکو نظر
انرا زرکرے اور ان مناشقبن او رمتھری نکی باتو ںکی طرف ‏ وجہ شہ رے
جو انہوں نے صھاہ کے غراف کے اجھائے او رمسلمانوں میں اخلاف
ہداکرنے کے سے گھڑو سے اور نس سے دوک ہکھاک رض علاء و
مو رین نے انی اب یکمابوں میں مصحض حسن فی تکی نا یر ذک گر دیا ہے۔

جو لوگ اننے آپ و ایل بیت کی طرف مضوب کرتے
ہوۓ”نسیدر'' لک ہیں نہیں ابنے شر نسب بر اٹچھی طرح اظرخانی بلہ
تحقی نک بی جا یئ “کی کہ اللہ تاللی ان لوکوں بر لت بجی ہے جو انا
اساب ا نے ابام و اداد کے علاوہ اور ےکرتے ہیں اور جب شفیقی
طور کسی کانسب ابل میت سے خابت ہو جائے اس کے نے ضروری

٦ے‎

öööööö 67 öööööö
س ےکہ ب یک ریم صلی الد علیہ وسم اور ائل بی ت کی فوحید الع میں
روب یکمرے او رگناہوں سے ری زکرے اور ا کا ہرکز موجحع ثہ دردے
کہ لوگ ا سيکی قدم بوسی اور عرزت و مت میں مبالقہ آ راگ یکریں'
اور اپنے آ پکو لمباس و پوشا ککی تراش و فخراش میس نمایاں نہ ررھے
کیوکلہ ىہ سب زس غااف سنت ہیں“ جح ممنوں میں اللہ تالی کے
ززدیک مزز و حم وہ ہے جو زیادہ پر زگار ہو۔
حرالی اور تقانون سازی صرف اق دکاضنی سے :

کہ شماوت "لا الہ الا اللہ“ کے اترمار و امحتزاف کے بعد ا ں کا ھی
ایمان وشن رکھنا ضروری ےک ترالی اور تانون سازی صرف اللہ
تعالی کا جن ہے او ری انسمان کے لیے جائز خی ںکہ الا نون بنائۓ جو
قانون ای سے متساوم ہو ٴ اسی طر حکسی مسلمان کے لیے سی بھی جات
یی ںکہ اللہ تتعالی کے فیصلوں کے غراف یصل ہکرے اور نہ غزاف
شریعت فیھملوں کے سام ح رصلیم ت مکرے سی طرح ننس کو اللہ
توالی نے حرام قرار دا ہے اسے علا لکر وسیے کاکوئی تخس میاز نہیں"
نس تخس نے اس ,ھی فیصل کی جان وج ھکر خااف درز یکی یا شریعت
کے مخالف فیصل ہکو تقایل قبول تو رکیا اور راشی رما نو وہ کاخر ہہ گیا

چنائہ ارشادباری تما لی ے :
‎٦۸‏

öööööö 68 öööööö
وکن لم یکم یکا أَرّل الله َأَولَتِكَ مہ
الگفروںک> (الماٌرہ : ‎)٠۴‏
‏اور ج وھکوکی اللد کے نازل گے ہوۓ (اجکام) کے مطابق نصلہ نہ
کرے لو یی وک وکا رہیں۔

اخمیا گرا مکی اھت کا مقصر :

وحیرکی روت : فیا کرا مکی بہت کا مقر اور ان گی سب سے
تیم زمہ داربی ”لا لہ الا الہ" کا اقرار اور اس کے نقافضوں پر مضل پیا
ہون ےکی وگوت ے اور وہ تصرف الد داع د کی عبارت سے اور مارے
معبودان بانعف لکی عبادت اور ان کے قوانین سے ہنراربی کا اظما رکرناے
اور شریعت ای کے سان س رسلیم تح مکمردیناے۔

جو تخص ائ ری تقلید سے ہہ کر بقور قرآ نکریم کا مطالع کرے
ا سکو ہنی اندازہ ہو جا گیاکمہ بن پانو ںکو ہم نے وضاحت سے بیان
کیاسے وبی جن او رکنماب و سنت کے مواٹی ہیں اور مزید ا سيکو ىہ بھی
عم ہو جات گاکہ الد تعالی نے خوداٹنی ذات پک کے ساتھ اور تام
کو جات کے سات٭تھ بھی انسان کے معحلقا تکی معید کروی ے۔

چنانیہ اس تعلقا تکو ایک موشن بنرے سے اس طرع استوار اور

۹

öööööö 69 öööööö
ائی رکھے کا عم دا ےکسہ عباد تکی ساری ثتمیں صرف اس ذات
اک کے لیے مخصو کی جامیں او رکسی دوسرے مخلوقی کے لیے سی
مر حک یکوگی اوٹی سے اوڈی عبات نکی جائے سی طرح اخمیا کرام اور
نیک و صاغ بنروں سے معحبت اور یرت اپٹی محبت کے نافع قرار ریا
سے اور ا نکی اقتراککرنے کا عم دیاڑے۔

اسی طرح کافروں اور مثرکوں سے لح و وراوت کا علق رھھے
کی وکمہ اد تالٰی ان سے لفر تک را ہے اور ا نکو ومن اسسلا مکی ددحوت
دے اور اسلابی عنقائم رکو ان کے سام ا تھی بیا نکرے اہ وہ
میں تو لک ریس اور اگمر وہ رین جن کے قبو لکرنے سے اکا رکمریں
اور اللہ نا کی حاکیت کے سان صر لیم خھم ن ہکمریں تو ان سے اعلان
چہاوکر دا جائۓ پک کفرو شرک کے فتتوں کا فع جع ہو جائے اور دین
الام کا ہول الا بہو جائۓے-

کہ توحید ×ط دہ ؛لہ بد٠‏ کے اس مٹیم مغموم اور مطلب کا ہر
ملا نکو جانزا اور اس کے نتقاضوں پر مم لکرنا ضروری سے الہ تی
طور بر مسلمان ہو جائے۔

öööööö 70 öööööö
شہماوت رساللت کا مصی :

کہ حر کے دو ہے تز مج (صکی ایند علبیہ وسعمم) الد کے رسول
ہیں “کی شماوت کے صصتی ىہ ہی ںکہ جم اس کا اعتنقاد و عم ھی ںکہ
جناب مم (صکی الد علیہ ومم) ساری انساننیت کی طرف رسول پناکر
مبحوث کے گے ہیں اور وہ ایک برگزیدہ بندے ہیں مج نکی عماوت
نی ںکی جا تق اور جبیل القدر رسول ہیں ج نکی رحب نمی کی جا
تی بلکہ آ پکی اطاعت و اجا عکرا ردری اور واجب سے س نے
2 ۶ 9 0 )
نافرماٹ یکی یم رسد ہوگا۔

هم س بکو اس کا بھی عقیدہ و مین رکھنا چاہن کہ اسلائی شرلجعت
کے اکا کا جانا خواہ ان کا علق عبادات سے ہو جن ن کااللر تی نے عم
با سے پا ملف شعبہ جات کے عدالقی اور قانوٹی نظام سے ہو ' یا علال و
عرام سے ہہوٴ ىہ تھا مکی قھام زی رسول اللد صصلی اود علیہ وسم بی کے
واسطہ سے کم کو حاص لکرمی ہیں کیو ککہ آ پکی ذات الھیے رحو ل کی
سے جو الد ننعالی کے اجکام و شریج کو انان تک بشیانے وانے مس
رای مسلمان کے لیے جائۃ خی کہ رسول اود صصلی ارڈ علیہ وسلم

اے

öööööö 71 öööööö
کے لاے ہہوئے دین و شریعت کے علادہ می اور دین و شریج تکو قبول

کرے۔ چنانیہ اللہ تھال یکا ارشا دکرابی سے ‎٠‏
‏ما الک القول فش رو وا ےک مد کاننو وک

ام :ےا

اور جو یھ رعول میں دے وس وہ نے لمیاکرو اورنس سے
وہ میں روک دس رک چایاکرو-
دو کی علہ ارشمارے :
فلا ورك لا ییلوٹ حی يَحَکموَلك فیعا
سے برع ہے لے ڈوا نہ آنشے ‏ ےے
مُا قصیت ودسلموا سَليما4 (ااساء ‎(٦۵:‏
‏آپ کے مروردگا کی شم س ےکہ یہ لوگ این دار تہ ہوں
کے جب تک یہ لوگ اس بھکڑے میں جو ان میں آپیں میں ہو
آ پکو عمم نہ بنالیش اور پچھرجو فیصلہ آ پکمر دیس اس سے اپتے
ولوں میں گی نہ با میس اور ا سکو برا و را صلی مک رلییں۔

مرکورہ آیوں ی اث 0
الد تعالی بی آبی تکریہ میں ملاتو ںکو بر عم فا رما ےہ وہ

ے٣‎

öööööö 72 öööööö
رسول الل صلی اللہ علیہ وسع مکی ان خمام چیزوں مں اطاعت و اجاع
کریں جن کا آپ انمیس عم دی اود ان تمام چزوں سے رک جایں
شن سے آپ م عکریں مک وککہ آپ صلی الد علیہ وسلم اللہ تال کے
حم ےم ی ام کےکرنے یا ن رن ےکا عم دسینے ہیں

دوسربی آی تکریہ میں الد تھالی خود ای ذات پا ککی ‏ مکھاکر یہ
فا رما ےکسی تفص کااس وفت تک اللہ اور اس کے رسول سر ایمان
معجراور کچ نہیں ہو سکتا جب تک بابھی اختافات میس رسول اوند صلی
اللہ علبیہ و سم سے فیصلہ نہکراے اور پچھ راس پل یکو نو شی پتسلی مکمر نے
فواہ اس کے مواٹینی ہو یا غراف بڑے۔

بیکریم صلی اللد علیہ و سلم کاارشادگرابی سے :

جو حخصس ایبا حم لکرے جو ہمارے رن و شریعت کے مطابق

نمیں وہ ناقائل قبول سے ''اس حدربی کو سم وخیرہ نے روایمت

کیاے۔

جب تم نے کلرہ فوحید و رسالت کاممی اکچھی طرح جا ن لیا اور ت مکو
اس کا بھی اندازہ ہوگیاکہ ىہ شٹیم الشان کہ اسلا مکی شی اور ا کی

فیاد سے جس پر سارے اسلام کادارو بدرار سے پوت مو صرق ول سے
سے

öööööö 73 öööööö
اس کگرہ بر ایمان وین رکھناچایے اور اس کے تقافضوں ب مل برا ہونا
ای بانہ سعادت دارمن لحبیب ہو اور ھرے کے بعد عزاب الی سے
تفوی رو سکوٴ اور یہ بھی جان دنا ای ےکہ کہ نو حید و رساات کے اقرار
کا تقاضا خمام ا ران اسلام پر حم لکرنا سے مک مہ الد تال نے مسلمانوں
کے لے ان عبادا کو انی لے ٹر مایا ےکلہ وہ اغزاک اور صرل
ول سے ا نکو ھا لا نیس اور نس شنیس نے ا ران اسلام بیس سے می
بھی رک یکو بخیرشریی عوزر کے پجھوڑ دبا و ا کی شمادت لوحید و رسالت
مرو متقبول کہیں۔
ما زکا بیان :

اسلام کا دو را شنیم الخان ر ع نماز سے“ دن و رات میں یج وقت
کی نماز الد تعاٹی نے اس امت بر رس١‏ فراکی سے کہ ایک مسلمان
بندہ اور اس کے خالق کے مابین ایک ملق اعم رسے“ اور الد کے
مور وہ مناحجا تکرے اور اس سے وعا تی سک ری اور اس لیے مھ یکم
ماز ا یکو بے حیاکی اور برائیوں سے باز رھ جن کی بدوات اسے الا
لی انان و سکون وور جسمانی آرام و راحت لحیب ہہوکہ ال کو
ونیوی وا۰خروی سعادرت م؛.سرہو جاۓے۔

کل
ا ےک

öööööö 74 öööööö
الد تعاٹی نے نما زکی ادائی کے لیے مم او رکپیڑروں اور جاۓ نما زکی
طہمارت لازئی تقرار دی سے“ الف ا ایک مسلمان نماز یڑ نے سے پیل اک و
صاف بپالی سے ات بر نکو ظاہری نجاستوں سے یاک و صا ف کے
دو می طرف نے ول و دم غکو انی باروں ے صاف و شفاف ۸7
ے-

ماز دن الام کا ون سے اور شمارت لوحیر و رساالت کے بعر
الام کا سب سے اعم رین ہے۔ ایک ملمان کے لیے پالم ہونے کے
بعد سے لن ےکر ھرتے وم تک ا سکی بابندی کے ساجھ ادا گی صروری
ہے ٴاسی طرح اپنے ائل یز بیو ںکو جب وہ سات سال کے ہو جاٗیں
ا کی تعلیم دینا ضردری ہے کہ وہ نماز کے عادیی ہو جانمیں' چنانچہ اللہ
نا ی کاارغارے۔

1 سرک حم ‎٣‏ سر یج مر تح رھ کی سے
إِنّ الصّلوٰهً کانت عل المومببت کت تب
مم

موقوت۔ ‎٠‏ (اشہاء : ۱۰۳۴)
نک نماز نو ایمان والوں پر بابنر سی وقت کے ساتھ رص ے۔
دو سرکی جک مزید ارشماد سے :

ہے کے وہ کی معووع مہ قح ہے بھ یں مک رہ
وما امروا الا لیعیدوا اللہ مخلصین لہ الین حنفاء

سے سی .لم

۵ك ے

öööööö 75 öööööö
سے سے حر

وآ اُلكَلوٰۃ موا الڑگٰة وَدَِكَ وِين الَيََةَ٢‏

7 ۵
عالاککہ انہیں بی عم ہوا تھاکمہ ال کی بی عبات اس طرح
کری ںکہ و نکو اسی کے لیے خالتص رھییں سو ہ وکر' اور نماز
گی مابندیکریں اد زکو ۃ دیں' اور بی درست دن ے۔

فرکورہ آیچو ںکی اعمالی تفر :

بی آبی تکریہ میں اللہ تھالی سہ انا اتا ےکہ نماز مسلمانوں یہ
ایک لازٹی فریضہ سے“ اور ان کے لیے ضروری ےکم وہ مقررہ اوتقات
یس ا کی ادا یککریں۔

ادر دو صرکی آیت میس الد نعالی نے بے بیان فرایا س ےکلہ اس نے جس
تیم مقصر کے بت انسان کو برا مرمایا اور اس پر ا احکام صارور
فرباۓ وہ ہہ ےک لوگ ا یکین تما عباد تکرس اور لص عبات
ابس یکاىجی مگھیں اور نماز قائھمکریں اور زکو ‏ جقاروں کک شا یں۔

از خمام مسلمانوں پر فرض سے چاسے عالمات یس بھی ہوں“ چناضے
خوف اور مر سی عاات میس تھی سب استطا حت نما اداکھرے “ اگر
کوڑے ہوکر نماز یڑج کی استطاعت رکتا ہو کھڑے ہوک بڑ تھے ورنہ
ین ھکر “گر ا یکی بھی فررت نہ ہو فو لیس کر اور ا یک کبھی طاقت نہ

ے٦‎

öööööö 76 öööööö
ہو ذ اتی آئگھ کے اشمارے ما د لکی نَجہ سے اواکھرے۔
رسول الد صصلی الد علیہ وعلم نے خجردی ہ ےکہ نما پچھوڑنے
والے خواہ وہ مردہوں یا حورجیں “مسلمان کی “چنانچہ ارشمادے :
”ہمارے اور کاف٠روں‏ کے ورمیان شر نماز کا سے وس نے
ہماز پچھوڑدی اس ن ےکف کیا" (حصریث جج)
وہ پاچ ممازیں جو فرض میں ہہ ہیں : ہھر“ظبرحص رمضرب' عشام۔
مماز تر اس کا وقت ظلوع سج صادقی سے شروع ہوکر طلوع
آخناب تک ربا سے مان اے پالقل آخری وقت کک مو ت رکرنا حائز
از طبر : اس کاوشت سو رج کے زوال سے روخ ہو با سے اور
اس وفت کک رجتاے جب کک کسی ہز کا ساب اس کے سابیہ اصصلی کے
بعد ایک مل ہو جاۓ۔
مماز حصر : اس کا وفت ظمرکے اغخنام سے ےکر صورع میں
زردبی آنے تنک رتا ےمان اسے پالٹل آخری ونت میک مو ج مک رتا
جائز نہیں“ بلکہ اس وقت پڑھنا بے جب سورح سفید اور خوب روشن
ہو۔-
مماز مقب ‎٠‏ اس کاوت غروب آفاب سے لک ےکر روب صفتی

ہے کے

öööööö 77 öööööö
اترک ربتاے ا سک و بھی آخری وفت کک مو خ رکرنادرست کیں۔
از عشاء : اس کاوفقت مغرب کے اننام سے رو ہوا ہے
اور آجررات تک رتا ے اس کے بعد اج یی ںکی جاسعق۔
اک رکسی نخس نے یک وق تک نماز بھی بی ری شرقی عفر کے اتی
سے بجی فو اس نے بست بڑ ےگناہ کاا رکا بکیا اور اسے الد سے لوہ
وا تقر گلھت ار شا ے ۱

بے
ضر

وَبْل للمثصلے ۔ٍ: الین ہم عن صَلاتم
ماک (الماعون : ۵۶۳)
سو بڑی خرالی ہے ایسے نمازیوں کے ہی جو اپقی نما کو ھلا ٹیش

یںا۔

ماز کے احکام ومسال :

نمازکی ادائی کے لیے سب سے ہی شرط طمارت ے۔

ج بکوکی مسلمان نماز پڑ ھن کا اراہمکرے تو وہ سب سے بل ات
تاب پانھان کی کو ںکو بیتاب اور دو سربی نجاستوں سے خوب ا ھی
طرح اک و صا فکرے' پر مصفون رٹ سے وض وکرے “اور وضو
کی خیت زبان سے ن ہککرے اس لے کہ خیت ول کا شتل ے اور اللہ

۸ے

öööööö 78 öööööö
تعالی اسے جاہتا سے اور خود ن یکریم صلی الد علبیہ وسم نے زبان سے
یت نہیں فربائی ہے۔
وضو کا ریہ :

سب سے لے مم الد پڑ تھے “پچ رگ یکمرے ‏ ناک میں بای ڈانے اور
اے صالف گکرے؛ رو رے پھر ے کو دہوئۓے' اس کے بعد ول
سمیت روٹوں پاتھوں کو رھوۓ؛ دا ات کو لہ دتعوئے' پچھر
دونوں ہاکتھوں سے بورے س رکا جحکرے پچھ رکانوں کا بھی حکرے'
چھر آجر میں یں سمیت وولوں پاوں دعوئے اور داجے پل کو لے
دجو ئۓے۔

ج بکوگئی تخس طمارت کے بعد بیسوش ہو جائے“ یا یناب و پاغانہ
ا ہوا کا اخراح ہو جا یا غینھ سے سو جائۓے پو اسے نماز مڑ نے کے لیے
دوبارہ طمارت حاص لک رنا ضردری ے۔

سی طرع اگ رکی مد یا عور تکو سونے ا جاگنے میں شہوت سے
می نل آۓ تو اسے سس جنابم کر ہوگا اور عورت جب خجیت یا
ناس سے فارغ ہو تق اسب بھی تس لکرن واجب سے “کی وککہ حیش و
اس کی حالات میں از بڑھنا جائر ہیس سے" او رطہارت عاصل ہونے

۹ے

öööööö 79 öööööö
تک اس ط نماز فرس "میں ہوکی“ چنانیہ اللد تعالی نے ا سکو رخصت
دیے ہوۓ ا سکی فضاء بھی ضروری قرار نہیں دی ہے اس کے علاوہ
وو ے اعژار وجہ سے اگر نماز وقت پ ادا یی سکیف مردو ںکی طرح
ا کی فظا عکرناواجب ے۔

جب وضو یا ٹسل کے لیے می : نہ لے یا پا یکا استعال نقصان دہ ہو
شا ار تخس کے بے اس صورت میں چم مشروع ہے۔

یم کا ریہ یہ س ےک ول میں جح کی خی تکرے او رسک الد پے ھھے
اور دونوں پان می پر مارے را نکو چچرے بر بچگیرے ' پچ رما یس مات
کی مکی دای پاتھ کے اوپہ اود دائمیں پتھ کی یی بای پان کے
ایر پچھیبرے ات ککرنے سے طرارت عمل ہوگی۔

جھم تی یا فقاس سے طمارت حاص لکرنے نیز وضو اور خسل کے
وعوب کے بعد پالی نہ ہونے با پالی کے استعال میس خطرہ حسوس ہونے
کی صورت می نکیا جا ا ہے۔
ماز یڑ سن کا طریقہ :

راز دو راعت ال طرح بڑ ےک مازی خواہ عورت ہو یا مدرل

ى۳۶م۸

öööööö 80 öööööö
سے نماز ہرکی نی تکرکے قبل ہکی طرف موجہ ہو“ زبان ےکی شش مکی
نمیت نہ کرے اور سیر ےکی مہ بر نظ رجم اکر ”اللہ ا ہر“ کے الفحاظ سے
گب ر تی کے اور پچھروجاۓ استختاح بڑھے“ ایک وعاۓ استختاح یہ
ے.
”“ سُبَْائكَ اللهہ وَ>حَمْدِك وَتبَارَكُ اسُمُكَ وَتعالیٰ
جدك وَلا ال يك ہ عو باللم من الشیِظان الڑُجیٔم “
اے اللہ نو اک ہے' موریف تیرے لیے سے اور تیرا نام باب رکمت
سے اور تی شان بلند سے اور تجیرے سواکوگی معبارت کے لا کن
ہیں یس حیطان رنیم سے الف کی بناہ چاہتا ہوں۔
اس کے بعد سورہ فاتہ بڑھے ۱

۱ ہے کسی .۲ ٍ

کید ل رب العصلمہے ہے الحمنن

َ‫ عد مد مسس ہت تید ہہ

النجمے ” مدلكف ہوم الات بت يك
ےر ہےر پر ہہ ےج رھ صہهھ ‏ ےم ہے

نعےلنں تالكغد ستعرثتک َ هد ۱ امل
نع < سے م۔ّے مل“ سم >> سے رس ھ

می جم ںیہ سے ۰ ء 5
الستقیم تن صراط ا انعمت 3

öööööö 81 öööööö
(ہاری) جرف ار ے سے جو سارے جماں کا بروروگار اور

رتحن اور رجھم ہجے (دہ) مالک روز جزا ہے یم بس تی ہی

حباو ت کرتے ہیں اور بس بھ بی سے ید جات ہیں ہیں

سید ھھ راس کی مدایت عطا فرب ان لوگوں کا راستہ جن سر نوّنے

اتعام کیا سے" ن کہ ان لوگوں کا (راستت) جن پر تیرا حضب نازل

ہوا اور نہ الع کاج گرا ہوئے۔

قادر ہونے پر اس کو ری سور تکاعربی الفاظ میس حلاو تکرنا ضرد ری
ےکی کہ قرآن عبی زبان ہی مس سے اور ترجمہ اس کے مفسوم و معالی
کا ہو] سے اور ا کے کرات و حروف کا رجح کر ریے سے ال سی گی
اغت اور ائیاز شحم ہو جاۓ گا اور لض حروف بھی ساقط ہو جامیں
گے پچھروہ قمآن ضس رہ جا گا۔ پھر ”اد اکیر' کت ہوتۓ رکورغ میں
۶ جائۓے اور رورغ میں ای سر اور چٹے و تھرکاے اوراۓۓ دولوں
تیالو ںکو کھمتوں ے رکو لے اور ”سصحان رہی العظیےم" کے پھر
سمع اللہ لسن حصدہ* کے ہوئے سراٹھاے اور سیرعا کیا ہو
جانے کے لع "رفا ولک الحصسد* کے پچھر ایند اکر کھت ہوئے الس
رح دہ کر ےکلہ اس کے دوٹوں پیرکی انٹیاں او رگن اور وولوں
بات اور چٹ رہ و ناک رین پر ہہوں اور رے ہل ”سہحان رہی الاعصلمی'

۸۳

öööööö 82 öööööö
کے تاللہ اکر کہ کر مھ جاے اور ٹٹھ چاے ے ”رہی اغفرلی"
کے چم اللہ اک * کے ہوے وو مم دہ کمرے اور صہحان رہی
الاعحدمی" کے“ اور ُچھر”اللہ اکبر" کھت ہوئۓ دو صربی رکعت کے لیے
گھڑا ہو جاۓ اور سورہ فاتجہ کی حلاو تکرے ینس طرح بی رکعت میں
کی سی ر ”اللہ اکب “کہ ہک رکور حکرے “ پچھر رکورع سے مر اٹاف “
مر سید کرے“ پھر یت اور پچھردوسرا مد ہکرکے بٹھ جائے' دوس ری
رکعت میں برک دی جعحات با ھے جو بی رکعت می کی صھی پھر
سے
“ السَّتّاتٌ لہ وَالصّلواتٌ وَالصيِيَاتُ ؛ السّلام

عَلِيْكَ أَیُھا و رحمة وی بر کک للدم عو

عَلٰل عِبّادِ الله الضّالِحیْنَ لَشُهَد اخ لا إِله إلاّ الله“ و

امُھد ارد مُحَمدا عَبْده و رَسُوَله الله صَلِ عَلَی

محملر حا آ مک کا سیت عل ارام و

لی آل إِثر ایم إِنَّكَ حم مَجڈ “

خام ٹوی' دی اور مالی عیادش٘یں الد بی کے ہے م ہیں (یا ھمام اپ

و بیع کے کرات مار نمازس اور تمام صدتقات اسی کے لیے

ہیں) سلام ہو آپ پر اضے نی اور اللہ گی رححت اور رکیس

۸۳

öööööö 83 öööööö
سلامتی ہو پھم پر اور الد کے سب تیک بندروں بر می سگُوابی دیتا

ہو ںکہ الد کے سو اکوئی حباوت کے لا فی نہیں او رگوابی وبا

ہو ںکہ مج صلی اش علیہ وسم اس کے بندے اور رسول ہیں '

اے اللہ ! پو مج اور آل مج یر رمت نازل فرا جس طرح

نے ابرائیم اور ا نکی آل بر رحمت رماکی ن طر وستائش کے

لان اور بزرگی والا ے۔

پر دامیں اور پانیں السلام عليکم ورحمةۃ اللہ السلام
۳ پ9 0 ص3
ہوگئی۔

مر عحصر' اور عشا کی نمازیں چار چار رکعت ہیں 'شن می بی دو
رکتتمیں بن اسی طرح بھی جاسی ںگی نس طرح جج رکی دو رکعت یھی
گئی میں اور تشد کے بعد سلام پگیرنے سے پل ”الندہ اکس کم ہکھڑا
ہو جاۓ اور کی وو رکعتوں جیسی دو رکعتتیں مزیدبڑھے اور اس کے بعد
ثنی جو شی رکعت میں تید اور ن یکری صصلی اود علیہ وس٣‏ درود
بڑھے اور وا ر کے وونوں طرف سلام ہچ روے۔

مخ بک نماز ین رکعت سے “جن میں می دو رکنئیں پالنل وی
نی پڑھے جس طرح شجرکی اداک یگئی سے اور دوسری رکعت میں تشمد

۸۳۲

öööööö 84 öööööö
کے بعد الد اکہ رک ہکھڑا ہو جاۓ اور تیسری رکعت خر عصراور عشاء
گی آخری دہ رعتوں یی اداکرے پچھر رکوع و سید ہہک رکے دو صسرے
تعدہ کے لیے ٹہ جاۓ اور تشد اور درود با ھکر دا میں اور بانجیں سلام
پھھروے۔

ازی کے لیے افقل ہہ ےکلہ دکوع اور یر ےکی سجیحا تکو
تعدو ہار ڑھے۔
ماز پاتما حم تک ان یت :

مردوں کے لے ان باکوں وقن تکی ممازو ںکو مسر میں باجما حت اداکرنا

واجب ہے اگگی اماصت ابا تن سکرے جو قرآ نکر مکی قراءدت سب
سے اگج یکر ہو اور نماز کے مساتل کاسب سے زیادہ حم رکتا ہو اور
ہب سے زیادہورار ہو۔

ام نجراور مغرب اور حا کی نمازو ںکی بھی دو رکعتوں میں رکوع
سے پل باداز بلند قراء ‏ تکرے' اور اس کے تھے نماز رٹ سے وا لے
لوگ ا کی قراءت |ہئیں۔

عو رتیں ایے اٹنے گعروں میں پامردہ ہوکر نماز اداکرس اور سوائۓ
رو کے سارے کم تج کہ باہھ جو ںکو بھی ڈھاکے رمھییں کی وککہ

ثورت کا سارا مم رہ ے قثورت مروں ے یرہ ہو ر نھماز اوا
۵ ۸

öööööö 85 öööööö
کر ےکی و مکمہ اس سے فقن کا اندلیشہ ے۔

بکوئی عورت مسر میں باجماعت نماز بڑھنا اے فو ا سکواس شریا
اعازت دی جات ےک یک بردہ میں اور ای رطوصبو وگیرہ ستول کے مور
جائۓ اور ا سکی صف مردوں سے میکیے ججاب کے ساتجھ ہہو ماکمہ نہ لوگ
فقتنہ ہیں پڑیں اور نہ خودیہ تن کاشکار ہو۔ نمازی کے لیے ضروری ےکلہ
ا مازوں کو انجالی ضوع و تحضورع اور ول جھتی سے اوا کرے اور
سمارے ارکان مشل قیام و قعور اور رکوع و ججود اشحیدنان و سکون ے ادا
کرہے نماز میں تضول کام نہکرے نہ ہگاہ آسما نکی طرف اٹھاۓ اور
نہ بی قرآن کے علاد ہ٥کوگی‏ رہ انی زماان سے کا نے اور ستون رعاّں
اور اکا رکو نماز کے اندر ایے ایے مواٹحع پر اواکرے '' مک وکلمہ الد نے
انی اد کے لیے نماز قائھمکرن ےکا عم دیا ے۔

۱ ان ج بکوکی تخس کسی اہم زی جانب فوجہ دمانا اس نو سان اللہ کے اسی
رح مقتری اما مکوجب وہکوئی غمض یکر جا الم با زیاد کر وے فو اى یکلہ سے مضہ کر
سا ہے' اور عورت تالی بح اک کسی اہم جا کی جانب تن کر عحتی ےکی وگنہ اس کے
آواز ڑکا لے میں فقن ہکا اندلیشہ ے۔

۸٦

 

öööööö 86 öööööö
ماز یم کا طرلتہ :

قعہ کے ون سمارے مسلمان دو رکعت بجع کی نماز اداکرس جس
یس امام دونوں رکعتوں میس قرات باداز بلن دکرے نس طرح نچ ری نماز
سکی جالی سے“ اور نماز سے پ لے دو خطبہ وے جس میں مسلمانو ںکو
حصحت کرے اور ا٘ییں اسلامی لمات سے آگاہ کمرے سارے
ملمانوں پ نماز جع ہ کی عاطری واجب ہہ ےکی ومکہ سہ نماز مر کے تام
مقام ہوئی ے۔
زکو ۃ کا ان :

اعلام کا تیسرا رین زکو ‏ ہے“ اللہ تماٹی نے ہر صاحب لصاب
ملا نکو زکو نکی ادائگی کا عم فرمایا سے جو سال میس ایک وفعہ ثکالی
جات ےگی اور غریوں اور ان تحت نکو دبی جا ےکی مجن کا خود قرآن
نے وضاحت سے "زگرہ کیا ے۔
سونا جاندی اور ال ارت کا الصاب :

جب کسی تخس کے اس ساڑحے سات نولیہ سون یا ساڑھے باون
لہ عماندی پا اس کے مساوی سی طر نک یکرنی ہو با سامان کبارت
ہوں اور وہ نصال بپکو بی جا یس و اس بر کرے ایک سا ل گر جانے یہ

ے ۸

öööööö 87 öööööö
۶ ة واتبے سے" 7 اآں 2+ ماابت کا حالیسواں حصمے (ومالی قُصر)
رمالا ضروری ہوگا۔

پل اور غلے شی سو صا می مقدار تک یں مس ان میں زکوۃ
واجحب ے “جب ہہ فعھلیں بی رعحنت و مشنقت بیدا ہوں و ال پر دں
یصر زکوۃ نکالنا واجب سے اور اگر نت و مشنقت سے ا سک کاشتکاری
اور نا یکی جا فو اس پر باج فیصد انا وا جب ہے اور چھلوں اور
خلوں پر زکو کی اوائی ہرنصل پر ہے “گر سال میں دو یا تین بار فصھلییں
تی مس و ہردفعہ کو کی اداگی ضروری ے۔

خی رمنقولہ جا ماد گر فروض تکرنے کے لیے تما رک یگئی سے فو ا يکی
قیت می کو وجب ہوگی اورک کراپ دے کے سے تا کی ے
او صر فکراہ میں زکو ۃ واجب نب ہوگی۔
جانوروں کا لصاب

اونٹ “گا “بمری وغیرہ کے لصا ب کا جذکرہ اور ا سيکی" تتعبذات لہ
ک یکمابوں مس موجود ہیں وہاں بوقت ضرورت ال ن کا مطالع کر دنا اہ
الد تال یکاارشماوکرائی ے ‎٠‏

۸۸

öööööö 88 öööööö
۶م سے مگ یڑ می 4|
الله مخلصین لە الدینَ حنفاء

نا

٭ وما ڑا إلا لعیدوا
ويُقمُوآ التَلوٰۃ وَيوْْ الزگوٰۃ وَدَلِكَ دِين الم
(الیٹہ : ۵)
عالاککہ ان٘یں بی عم ہوا تھاکہ ال۲ د کی عبادت اس طر حکرس
کہ و نیکو اسی کے ہے اص رگھییں سو ہوکر' اور نما کی
ابنلدگی ری اور زکو ‏ دیاککریں اور بکی درست دن ہے۔
کو کے ٹواکر :
مال زکو کی ادائگی سے فقیوں اور صکیفو ںکی ولداری ہوقی سے
اور ان گی صرورمات ری ہولی ہیں" اور اح کے اور مالمراروں کے
درمیان حبت و الشت کے لعاقات مضبوط ہووت ہیں۔
اسلام ے اہجنماگی نعاون اور مسلمانوں کے ماٹین بای ایراد اور تقراء و
مساکی نک یکغالم کو صرف زکو :کے انرر بی محرودو محصورممیی ںکر ویاٴ
لہ قحط سالی کے زمانہ میس مالمداروں پر خریو ںک یفالت واجب قرار دی
ے "اور ہے ۱7م ھرایا ےک ہکوکی خص آسووہ ہوکر سو اور ا کا
بڑوسی بھوکا ہو اسی طرح اللہ نے مسلمان بر صدقہ فطرواج بکیا ے
صے وہ عید کے ون ریش راع خوراک سے ایک صاع ہر فرد ت کی

۸۰۱۹

öööööö 89 öööööö
کی طرف سے بھی نکالما سے“ اور خلا م کا صد ہہ خطراس کا میک نکالما
سے ای مرح اللہ نے کم کاکفارہ بھی واج بکیا سے ج بکوئی
تنس مم مک اکر اسے گوریی ن ہکرے مش روم ند یو رب یکمرنے کا بھی اللہ
نے تعمم دیا ہے اس کے علاوہ فی صدتقات پر لوگو کو ابھارا سے اور خر
کے کاموں میں خر کرنے والوں کے لیے رین بدل کی بثارت دی
ہے اور ہہ وععدہ فمایا ‏ ےکم وہ انیس ان کا اج ھکئ یکنا بڑھ اکر ورے کا
ایک نی کاات د ل گنا سے ےکر سات سوگمنا اور اس سے تھی کہیں
زیادہ وے گا۔
روزہ کا بان :

اسلام کا چو تھا رکن ماہ رمفمان کے روزے ہیں رمضمان ہچ ری سال کا
نواں ینہ ہے روزہ رن ےکا طریقہ یہ سے :

ملران بح صاوق سے طلورع ہونے سے لے چجھ حر یک اکر روزہ
رکن کی خی تکرنے اور پھر سورح خروب ہونے تج ککھانے بے اور
ماع سے رکا رے اور پچھر روب آفاب کے بعد افطار یککرے ' الل دکی

0 حم کاکفارہیہ ےک ایک فلام آزادکرے یاوس مصکیفو ںک وکھا ا ھا ۓ یا انی ںکڑا
طاکرے “اکر نہ میفصر ہو لو ین روزہ رکھ نے۔
٭ ٌَ

 

öööööö 90 öööööö
عبات اور اس کی رضا عاص لکرن ےکی نیت سے اىی رح پورے ماہ
رمضان روزے رکتا رے۔
روزے کے ٹواکر :

ا - اہ رمضمان کے روڑے کا مقر اللہ تعا کی رضااور وشنودی
ہوپی ‏ ےک مسلمان شض ا سک فرمانبرداری اور اطامحت کے جز۔ سے
سرشمار ہوک رکھانا بنا اور ار ی خواہشمات نضماش کو پچھوڑ وت سے الہ
اس کے اندر فی یکی صفت پراہو۔

۲ سی رج روزہ ر کے میں بے ار ظبی “ماش اور اجخمائی فواکر
ممرہیں نس کااندازہ صرف وتی روزہ دا رکر کت مس جو جح عقیرہ اور
ایمان کے ساتچھ روزہ رھت ہیں۔ارشاد ربالی سے :

ط بَا الین امش کیب یٹم الام کت

(اۃر . ۸۳)
اے ایمان الو ! خم بر روزے فرش کے گے جعیساکمہ ان
وکوں بر فرش کۓ یئ تے جو تم سے نیل ہو ہیں جب

می ںکہ نم صقی بن جا۔

مزید آکے ارشماوے :
۹۱

öööööö 91 öööööö
کہر رمصان آلزی اد نزل فی اَلَشَرََانٌ مُدڈی
للطکایسں وَبنکت مَنَ الھُدیٰ وَالْمْرفانِ فمن کہد
7272 سی 9ت
ستر فید من کاو أخر خر رید الله سک
اْثْنر ولا ریا بحم سس ےیوشس لَيدة
ولٹکروا الہ عؤں مامدندک کے
قنگرورے4 (اترو : ۱۸۵)
اہ رمضمان وہ سے شس میں تقرآن ناز لکیاگیا دہ لوککوں کے لیے
رات ے اور (ا میس) مبھلہ ہوۓ و لال م٦‏ برایت اور
مق و باشل میں اتیاز کے“ سو تم میں سے ج ھکوئی اس مین کو
ا وہ اس کا روزہ رھ اور ج وکوئی بیار ہو پا سفرمس ہو ڑ
ا پا وو سرے ولوں کا ار رکا لازم سے" اللہ ارے جن
بس سہوات چاجتا سے اور تہمارے جن میں دشواری میں چاہتا
اور ہہ (چاتاے )کہ تم شا رکی تی لک رمیاکرو اور ب ےکم الد کی
بڑاٹ یککیاکرو اس ب کہ میں راہ بنا وی“ جب می ںکہ خم شر

زار بن جاؤ۔

۹٣

öööööö 92 öööööö
روزے کے مسائل :

اہ رمغفمان کے روڑزے کے وہ مال جمیں الد تھالی نے شرآن
کریم میں نا رسول الد صلی ایند علبیہ وسعمم نے ابنی اعادیث شریفنہ یش
ان غراے ہیں ان میں سے چند درح زیل میں :
ا ۔ وخ مریض ہو یا صافر ہو ا ںکو ماہ رمضمان مں روزے نہ
رکن ےکی اجازت سے مان رمضمان کے بعد دو سرے ایام بیس اس کی
ضا مگر واجب ے۔
۴ اسی طرح تین و نقاس والی عور تکاروزہ رکھنا جج نہیں بلکنہ اس
سے فراغخت کے بعد ان ایا مکی فضاءمکرنا و اجب ے۔

۳ ۔ اسی طرح عالمہ یا دودھ بلانے واٹی عو رت جب ا نے لیے با بی
کے لی ےکی نقصان کا خطرہ محسو سکرے فو ا ںکو بھی روزو نہ ر کن ےکی
اجازت سے گھردو صرے ایام میں ا سکی ضا مکرناواجب ے۔

اک رکوئی روزہ دار بھو لک رکھا بی نے پچھراسے یاد آئے تو اکا روزہ
کھج سے “کیوکمہ اللہ تعالی نے اس امت کے لے بھول چوک اور
زبروست یک یگئی زو ںکو معاف فرما دا ے۔ الہمتہ اگ رکھانے کے وو ران
اد آجاۓ او من میں جو ہو باہ ر نال رے۔

۹

öööööö 93 öööööö
کا میان :

اسلام کا پانچواں رکن رج ہے“ مہ فرییضہ زندگی بیس ایک ریہ فرض
ہے اس کے علاوہ جشلقی پا رکرے فوے ىہ ففل شمار ہوگا۔
جم کے ٹواکر :
اولں : ب کہ رخ اللہ تما یکی روعالی اور ضسمالی اور عالی عبات ے۔
روم : مارے عالم کے مسلمانوں کا ایک نیعم الشمان ارخحاحع ہے جوایک
تہ اور ایک جیسے لاس و رو شاک میں اور اللہ واح دکی عبات کے لیے
جع ہوتے ہیں جماں امبرو خریب “شاو وگمداکانے وگورے کے فرت یکو
ت مکرکے بھائی بھائی جیے ہوکر رتے ہیں اور بھی الد تال کی بندگی کا
مظاہرہ کرت ہیں جس سے محخلف معلاثوں سے آئے ہوۓ مسلمانوں
تعارف اور ملاجات ہوٹی ہے ایک دوسرے کے ممائل سے آگاہ
ہوتے ہیں' پھر ابی طور بر تحاون کا جذبہ پیدا ہوا سے نیز اس میم
الثان ا حا سے مران می اد مازہ ہوپی ہے بمماں مارے لوک
ایک بی کہ صاب و ماب کے لے بح ہوں کے ینس سے ان کے
اندر الش تما یٰ کی اطا مت کاجز ہہ اور داعیہ سراہو.] ے۔

مان کہ کے طواف سے چوک مسلمانوں کا قبلہ سے ج سکی طرف

اا۰

öööööö 94 öööööö
وق نمازوں میں مسلمان ر خحکرکے نماز بات ہیں اور و توف عفات
سے اور مدلفہ اور می کے قیام سے جہھارا مقصد صرف الد تال ی کی نہ
ابی طرح عباد تکرنا ہے جیساکیہ اس نے نہیں عم فرایا ہے اس سے
مان ہکعبہ یا مقامات مقرس کی بذات خوو عباوت مفصو و کہیں “کی ومک نپ
نکی عباد تک جاتی ہے اور نہ ان کے اندر ٹٹع و نقصان جوشپان ےکی
صلاضیت و طاقت سے“ جم تو اس الد واح کی عحباو تکرتے ہیں جو ىفع و
نتصانع بایان ےکی تماطاقت رکتاے ' اکر اللہ تعالی نے رج ببیت الد اور
طواف نان کعہہ کا عم نہ دیا ہو نے کسی مسلمان کے لیے اس کا طواف
اور وہاں کا سفرجائمز نہ ہو کی کہ عبادت ای را و ھرصی سے ہیں
کی جاتی بللہ مححضس اللہ تعالی کے اس عم کے مطابقن ہوٹی سے جو قرآن
ریم میں سے با رسول انذد صی الد علیہ و سعھم کے ارشماد سے غابت سے '
الد نما یکاارشمارے :

کب
۱

ن: اسکتطاء لیے س

ال عران : ے۹
ادر لوکوں کے ذمہ الد کے لیے بیت الد کاخ کرنا سے“ اس
حخیس کے زم جو وہاں تک ےکی طاقت رکتا ہو “اور ج ھکوئی

۹ ۵

öööööö 95 öööööö
کفرکرے و اللد نعائی سارے جماں سے ہے نیا ے۔ '"'

سی طح عرو ہ رس جع مسلمان پر زندگی میں ایک عریتبہ واجب سے
چاہے دہج کے دورا نکرے پا تل سف رک رکے سی وقت چلاجائۓ۔

یکریم صلی اللد علیہ وس مکی مسب دکی ذیارت جع کے دوران ا ال
کے علاوہ کسی بھی وفت واجب شی بللہ وہ اک ملان کے سے
تب اور باحعث ات وو اب ہے اور عدم زیارت ب کسی مم کاکوئ یکناہ
اور مواذہ یں سے“ اور چعمال تک ان موجہ و مضہور بر بجوں کا تلق
ہے نین میں ہہ عدیث بھی سے :
”من حج فلم یزرنی فقمد جفضاننی" ٠ل‏ نے کبیا در میرسی زیارت تہ
کی بس ے بجھ رع مکیا۔ نے یہ غمبر کچ اور موضوع حرییث سے چو

)۱ اور جو لعتض جائل خجروں اور درگ ہو ںکی زیاارت کی خنیت سے کرت ہیں وہ راس
گمرابی اور اللہ اور رسو لکی نا فرباٹی سے رسول اد صلی الہ علیہ و لمکا ارشمادے ‎٠‏
‏”باتقاعدہ سف رر کے ان ین مبیروں کے علاوہ میس اور نہ جایاکرو “مسر ترام “مب ری سچر'
اور اش

(۲) ای قیل سے ہہ حدیث ہے ” می رجاہ کے وسیلہ سے دع اکر وکی تمہ میرکی جاہ ار کے
اں بت مدٹی ہے'۔ دوسری تہ سے ”نج سکوککسی پچھرسے بھی من لن ہو جائۓ تو
وہ بھی نفحع حنش ہوگا''۔ نو اس طر کی سارکی اعاویث مو ضوع او رت سے عاری ہں 2

٦

 

öööööö 96 öööööö
رعول اللہ صلی الد علی کی طرف مایا مفسوب ے۔

بت اس سفرکی اجازت ہے جو مج نو یکی زیار تکی ممیت ےکم
جاۓ اور ج بکوئی سد وی کی جا نے تید امسجد پٹ ھکر فارح ہو
جات نواس کے لیے مشروع س ےکہ پ یکریم صلی ایند علیہ وس مکی تیر
کے پاس حا رہوکر اس طرح صلات و سلام ہڑ ھھے ” السلام علیک یا رسول
ئل '' اس وفت ارب و اترام کا لورایاس و ناظ رک ووزیست رتے ‏
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسمم سےکوئی سوال او رکوگی فریا نہ ے
للہ صلا :و سلام بڑ ھکر وہاں سے جہٹ جا ' ای رح آپ نے انی
اس تکو تعلیم دی تصھی اور صحا ہکرام نے عھ لک رکے وکھایا۔

جو لوک نپ یکریم صصلی الشد علیہ وس مکی قبر کے پا نما زی رح
ضتوع و خضوع سے کھڑے ہوکر ای عاجنوؤں کو و ری ککرنے کی
درخواس تکرتے میں ما آپ سے فریاد جات ہیں یا ان کے بیہاں آ پکو
واسططہ فھراتے میں سو وہ لوک الد تی کے ساتھ شر کفکرتے ہس
رسول ال صلی اللہ علیہ وسم ان سے بری ہیں۔ چنانییہ مسلمانو ںکو اس

ےڈ ہے سم َ تم کر سم ا ‎٠‏ ٌ ۳
اور عریہث کی مسج رکمابوں میں موجور یس میں بللیہ ان مرا ڑگر علا ءک یکنمابوں میں ماکی جا
5ے 7
بس جو مرک وبدعح تکی دحوت دی ہیں۔

ے۹

 

öööööö 97 öööööö
رح کے اعمال سے چاسے رسول اللہ صلی الد علبیہ و سم کے سا تہ با
می اور کے سا کے جا نیس اجقنا بکرناجاجے۔

اس کے بعد ابو بکراور عھمررصی اللہ حتھماکی شھرو ںکی اور یھ نت
البتع ادر وو ہے شممداء کی مرو ںکی روح طرلقہ سے زار تکرے
وہاں تہ کر ملا مکرے اور الع کے لیے دہہاۓ مخفر تکرے اور خوو
بھی عہرت اص لکرے اور وائیں آجائے۔
ایل : ال عزال و طیپ کا انام اور مال 7 سے اجتنا بکیا جاے
کی ونکمہ حرام ما لاج مستزدکر دیا جانا سے اور ن یکریم صلی ایند علیہ وسلم
نے ایک حریث میس ا سگوشت و اوس کو جم کاارعن ایا سے جو

ال تام سے ٹوو نمایایا ہو۔
4۸م : اے رفقاء رج کا اٰتخا بکیاجاۓ جو جح العقیدہ اور یمان والے
ہوں۔

موم : جب عاتی میقات پر کچ جاۓ نو وہاں سے احرام باند ھھ “ اگر
ہواگی جماز میں ہو نے میقات کے قریب لئے ىی اترام باندھ لے اور
میقات سے ہرز تجاوز دز ے۔

۹۸

 

öööööö 98 öööööö
میقا ت کا ان :

کہ عرمہ کے باہر سے آنے والے فھام حاج کے لیے مندر رجہ ذمل
میقات ن یکریم صلی ایند علبیہ وسعلم نے مقر فربائی ہیں۔
۱ - زوا لیفہ : سہ رین سے ما اس راتتے سے آنے والے تا کی

میقات ہے“ اسے اہیار علی بھی کت ہیں۔

‎٣‏ تفہ : ىہ شام ومصاورمخرب اور اس طرف سے آنے وا نے نمام
تا گرا مکی میقات ہے“ ىہ راع شر سے قریب ہے۔

‎٣‏ ۔ خرن النازل : یہ اٹل جد اور طائف اور اس پراتے سے آتے
والے نھام حا حکی میقات سے مہ تض ہیل اور ننوادی محرم کے نامم سے
مور سے۔

‏۴ ذات عرثی : ہہ اٹل عراق ما اس راتے سے آنے واگتے تمام

‏تا کی میقات ہے
۵ - مم ‎٠‏ ہہ اٹل معن اور جو ب کی طرف سے آنے والے ما کی
بقات ے۔

‏جو لوک رق ا عھروکی نیت سے آتے ہو ان میقات سےہگفر رس '
چیا ہہ عاکی رات میقات کے باہردور ما قریب کے ہوں یا دنیا کے

‏ج۰

öööööö 99 öööööö
تی بھی خطہ سے آ رہے بہوں انیس بہرعال یہاں سے اترام باند ھکر
جانا چاہج۔

ال کہ یز جو لوک حدود میقات کے اندر رج والے میں وہ جم کا
ا7ام اپ کھرپی سے باندھ کرس گر سے مات جا اکر اترام پازد ھن
کی ضرورت کئیں۔

اترام سے پل جح مکی صغائی و تح راک یکرنا تس لکرنا اور خوضبو لگانا
تخب ے۔ میقات کر اترام کے کے زبیب ت یکرے ‏ اور ہواٹی
از سے سن رکرے والا تخس کعربی سےکیڑے بے اور میظات کی کر

مرد کے لیے سنت ہہ ےکم وہ دوصاف تر ےکپڑروں میس اترام
اھ جو کے ہو شہ ہہوں اور ا پیۓ س مکو نہ ڈھاکے بللہ ا سک وگھڑا
رھے۔

عورت عالت اترام می کسی بھی مک ےکپڑڑے بین سکتی ہے اس
کے لیے خصوص مم کےکپنڑے ضردری نیس 'ہاں حرط ریہ ےکم اس
کامپا سکشادہ اور ساتر ہو اور بے پروی اور اظمار زیشت والا نہ ہو ٴ ال
کے ییے امام کے وقت دونوں پانتھوں میس وستانے بپیمننا یا نقالب کے
ذ رجہ اٹنے چر ےکو چھیانا ممنوع سے“ الب اگر غم رمحرم سان آ جاۓ لو

٠+

öööööö 100 öööööö
رو رکوئ یکپڑا ینا یا مسی اور زس من چھیانا مع نہیں سے جیس اک
ازواع “رات جب ان کے ساس سے تا ہگیزرتے تھے فو ممروں
سے اپئی چادریں چہرے پر لنکالیقی جیں۔
م :یں

اترام کےکپبڑے بین کے بعد عاتی ول سے عمروکی نب تکرے اور
”اللھم لبیکٹ عمر: "(اے ار ! میس عمرہ کے لیے حاض ہہوں )مہ
ک تمہ پکارے' اور عم وکوںجج سے ماک تع بن جائے اور رخ مجع بی
اٹل ےک ومکہ رسول الد صلی ابر علیہ وسحلم نے صعحاب ہکرا مکو اسی کا
حم دیا تھا بللہ لازم قرار ویا تھا اور ٹس نے اس مکی نیل میس یھ
ترو کیا ا ے آپ ناراضش ہو گئ تے الع جن کے ات دی“
کے جانور ہوں وہ قران کے اترام میس باقی رہیں گے“ جیساکہ نی صلی
ایند علبیہ وسلم ت کیا تھا۔ فقارن وہ تن سے جو رق اور عمر کا ایک ساتھ
اترام بانرتھ اور لہ یل ”اللھم لبیک عمرۃ و حجا" (اے
ائنلد ! میں عمرد او رخ کے لیے عاضرہوں) بکارے“ ادن اپیے اترام
یش اس وقت تک بای رسے کا جب ج کفکہ موم اش کو اٹی 'نبدری'

٠

öööööö 101 öööööö
قریان ‏ نکر نے۔ اور مفرد وہ سے جو صرفں کی نی ت کرے اور
”اللھم لبیکۓ حجا"( اے ال ! میس حم کے لیے عاضرہوں )کح دکر
ماد پکارے۔
سم منوعات اترام : ات مکی عالت میں تمام عاتیوں کے ہے
سب ذیل ایم ہیں :
ا۔ ماع اور متعلقات جماع یے بوسہ لین شھوت سے پچچھونا“ نشی
تج سکرنا ای طرع نک حکرنااور نیا حکرانااور نٹ یکرنا۔

کسی ین دای نز سے سرڈھا نہ مین پچھتزری یا شیمہ یا گاڑ یکی
بجعت کے ذرلجہ سابہ عاص لکرنے می ںکوٹی حرج کیں۔
۳ ۔ سرمنڈواناابال لنزوانا۔
۴۳ ۔ ناشن تاشنا۔
۵ ۔ خوشبو لکنا اور خوشبو سو گنا۔
۔ خی کے جانو رکا شکا رکرنابور ا کی نشازدج یکرنابھی۔
ے ۔ رر کے لے می ماکوگی وو را ساا ہوا پر اتال کرا۔
۸ عورستکاچرے اور ہاتھوں بر نقاب با سا ڈالتا۔

رد جو سے مان سک ہے ور اگر ہو تے ےی لیس ٹپ موزیے استعال

کرے۔ نمکورہ مالا ممنوعحات میں سے نہ جا نے ہو پا جھو یکر اک کوٹ

۳

öööööö 102 öööööö
تح سمسی کا ا رکا بکرنے پو ٹور اسے دو رکردے اور ال رکوئی
ریہ وگیرہ کییں ے۔
2 : طواف و سی کا طرلتہ :

جب عاکی خانہ کہ سے فو اس کا سات ھرتتہ طوافکف روم کرے'
ابترا مر اصود کے پاس سے گر کے ذریع ہکرے اور شخم بھی وہیں
کرے طواف کے ورمیان وکر ای اور لف 22 دعاوں میں
مشتول رے' طواف کے ل ےکوگی 2 دعا یں ے' ہاں ججراسوراور
رن بھاپی کے ان ”رینا آتضافی الدنیا حستۃ وفی الاخرۃ حسنۃ
وقسا عذاب السار"مڑ نا سطت ہے

اس کے بعد اگر یکن ہو نو مقام ابراڈیم کے کیہ ورنہ سید حرام میں
می بھی مہ دو رکعت نماز ڑھے۔

راس کے بعد صفا اڈ یکی طرف جائے اس پر چڑ کر قبل ہی
طرف رر حکرے' اور الد کی و شا بیا نکرے “اور دونوں پا اھ اکر
نبال کے اور دعاکرے' وں سے مروہکی طرف جائے وہل
بھی وییے ب یکرے جو صفا رکیا تھا“ اس طرح سمات ھتہ سج یکمرے '
صفا سے موہ تک ایک خوط ہوا پچھراس کے بعد اپنے صر کے پال
کنٹوائے اور عورت انی کے ایک پور کے ابق ر اپنے بل لکٹو ا اور

۰۳

öööööö 103 öööööö
ایس شل کے بعد عمرہ پور ہہوگیا اور انا مکی وجہ سے جو چچزییں تام
ہوگئی نمی وہ سب علال ہ وکیں۔
عورپوں کے مخصوص ممائل :

اگ رکوئی عورت اترام باند نے سے ول ا اس کے بعد خی یانقاس
سے دو چار ہو جائے وہ قرن لیج و کر دوفو ں کا1ترام ندھ لے
در دی تا کی طرح بجع اور عو کا تبیہ پکارے 'کیوکمہ تی و نفاس
ا7ا ہانر جع اور وثوف ۶ فہ و مزولفہ وگبرہ رے 0.7
صرف مت الل رکا طوا فکرنااس کے لیے منع سے“ چنانھیہ جو عو رت ابی
صورت عال سے دوچار ہو جا وہ تام حا کرام تی رح کے سارے
اکا نکی ادا یکرکی رسے اور صرف بت اللہ کا طواف پاک و صاف
ہونے تنک موم گے رسے اور طمارت کے بعد ا یکو او راک رے۔

اگ رکوئی عورت لووگوں کے جج کے اترام باند حنے اور می جانے سے
٠ل‏ می ماک و صاف ہوگئی و وہ تس ليکرکے ببیت الد کا طواف وی
کرے اور اپنے پالو ںک وکتروا کے عمرد کے اترام سے عال ہو جائے- پچھر
مام متاح کے ساجھ ج ۱7۱م باندھ کر می جائے ‏ اور اگ رآ ھوس ار
کو حا کے کا اترام باند نے تک وہ طمارت نہ حاص لکر کی و وہ
بھی ان کے ساخ تلبہ کت ہوتے قم قرا نکی مب تکرکے سمارے

۲۳

öööööö 104 öööööö
ارکان کی اداجگ یکر رسے می کی جانا عرفات اور مزولفہ میں شھبرن
ربی بھرات " قریای اور ٹم رانا وعیرہ مام چروں کو تاج کرام کے ساب
کرکی ر ہے“ اور جب اک ہو جائۓے شس لکرکے بیت الد کا فرش
طواف اور صفاو عو کی سج یکرے اور یی طواف و سم اس کے جو
حر دوفو ںکی طرف سے کائی ہو جاتے گی 'کی وکمہ ای ططر حکی صورت
عال رج وداع کے موقحع بر حرت عائشہ رصی الند حن کو یش آکی ھی
اور اخئیں ‏ یکریم صلی اللہ علبیہ وسعلم نے ایباہ یکرنے کا مم فربایا تھا
ساتجھ بی پہ ارشماد فرماباکہ ىہ طواف اور سخ اور عو دونو ںکی طرف
سے کان ہو جات ےکی مکی وکلہ رج قرا نکرنے والے بر مفر کی طرح صرف
یک طواف اور ایک سی واجب سے '' اور ب یکریم صلی اللہ علیہ وسم
کا کورہ فان ا کی دلمل ہے ایک اور حدیٹ می ہے ” عرد یش
قامت تک کے لیے واخل ہ وگمیا سے'' (واٹ اعم

0 بہ طواف عید کے دن یا اس کے بح کر ےگا اور پسلا طواف جو اس نے جج سے لے
کیا سے اور سے طواف تو مکماجاا سے ہہ ففل طواف سے مفرد اور حقارن کے لئ
تصرف ایک سی یکرمی ہوگی؛بہ سی ار طواف قروم کے ساججھھ ہی لی کی ے ورنہ
ید کے دن ما اس کے بعد طواف افاضہ کے ساجچھ سجی بی یکمرے۔

۵

 

öööööö 105 öööööö
عاقی آکھوسں زی ا کو کک ہمہ میس اتی ام اہ سے رج کا اجرام
پانتھے جس طر حکہ عمرہ کا ات ام باند کر میقات سے مل آیا تھا ہو سے
و لی رے اور خ وضو لائۓ پچ ر اترام پالرے اور ”اللھم لبیۓ
جا کم ہکر کی خی تککرے' اور اترام کی سمادری یابنریوں کاخیال
رھ اور مرکورہ بالا سمارے ممنوعات سے اتقنا بکرے' مہ یابنریاں ال
وقنت تنک رہ سکی ]مہ مزدلفہ سے وائیں می اکر وسوس با رر کو ری
بھرات اور قریالٰی اور علق راس سے فارحغ نہ ہو جائۓ۔

عاتی آنھویں ذئی اش کو اترام باند کر می تمام حا کے ساجھھ
جاتے اور وہں خ ب گار یکرے“' وہاں 2 وق ت کی رس نماز یئ
ا وقت پر فھراواآرے بر“ حصر“ مضرب؟ ععشامٴ جج دو سرے ون
نویس ار کو سورحج ظلوحع ہونے کے بعد سمارے حا کے چرام نھرہ
جا اور وہال خیا مکرے اور ایام کے ساتھ ظبرو حصری نماز بقع و تر
کر کے اداککرے اور زوال کے بعد وہاں سے مف ہکی طرف لک یکر قد
ا ہوکر زیاوہ ے نا وہ کم و رعاٹں مشتول رے'" می ران عرفات و را
کا درا مقام وقوف سے اگ رکوئی تخس می سے براہ راست عفہ جا

۲

öööööö 106 öööööö
جا وی ورست ے" خروب آفیاب کک حدود عفات میں تما
ربے۔ قبل کی ہجاۓ ہیل مو رکی طرف رر حکرنااور ٹذاب مجن ہکم اس سر
تمڑ نا درست یں انی طرح اسے لوسہ وینااور برکلت حاصص لیکرنا جائۂ
نیس بللہ یہ بریعت ئحرمہ ہے۔

مر غروب آفغیاب کے بعد لبیک پکارتے ہو بورے سون و
فان کے ساجچھ مردلفہ کی طرف روانہ ہو جاۓ اور مزدلفہ لیے ہی
مغرب و عحشاء کی نماز ایک ساجچھہ فھیراداکرے ٴ اس کے بعد وں رات
گذارے اور ج رکی ماز یٹ کر جب اچالا ہو جا و وع آفخراب سے
ٹیل الد کاذک کرت ہو مئ یکی طرف روانہ ہو جائے۔

می خی جکر طلوع آخراب کے بعد بھرہ عق کی ری یکم رے مینی مات
تنگریاں ہے بجد دیرے مارے "لنکریاں بہت پچھوٹی با بہت ہٹڑکی شہ ہہوں
بللہ جے کے برابر ہوں' جوتے وغیرہ سے رب یکرنا جائز خھیں ىہ لغو اور
حشیطانی مل ہے“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و لم کی سن تکی پروی اور
الہ و رسول کی ا فرال سے اجیناب می شیطان کو سب سے زیادہ روا
کرنے دای چچڑے۔

ری تھرہ عقبہ سے فارغ ہونے کے بعد قریائی واجب ہو و قریالی
کرے' پھر ان ع رکا عل یکراۓ اور عورتیں تھو ڑاکٹوا نیس اکر ھرد

ے ٭

öööööö 107 öööööö
بھی قص کرے نے جائز سے کان علق افحضل ہے ان س بک وکرنے کے
بعد ای ےکپڑے بن نے اور اب اتا مکی پابندی تم ہوگئی اور عورت
کے علاوہ مار چچزیں علال ہوگییِں۔
7 طواک شرص :

اب کہ جائۓ اور طواف فرض اور اس کے بعد سج یکرے اور اس
کے بعد عورت بھی علال ہو جا ۓےگی-
دم : می دوبارہ وائنی اور ش گار ی :

طواف افاضہ سے فاررخ ہونے کے بعد می والی ںآ جاۓ اورگیارہ اور
ہاور وی اجکی راتیں دہ ںار ے“اگ کو صرف دو راس ہی
وہ لگا رکر وائیں آجاۓے بھی جائمز ہے ان ونوں میں زوال کے بح
منوں جمرا تک ومنکریاں مارے؛ ابنقرا یلے جھرہ سےکمرے جو لہ سے پائی
دو جمرو ںکی ہہ ذبت زیادہ دور ہے ' پچھر دو سر ےکو اور پچ رجمرو عق کو“
ہر ایک کو سا تمنگریاں مارے “ ہ رکظکمری کے سا ال اکر کے اور
تککریاں می میں ابی قیام گاہ سے ل ےکر جاہے سے می ہیس لہ نہ
لے و جہماں جیے تتم ہوتے ہیں وہیں ھمرجائے۔

اگمر می میں صرف دو بی ون قیا مکر کے ون والیں ہونا چاسے و ایا

۰۸۹

öööööö 108 öööööö
کت ہے “لمیان انل ىہ ہ ےکم تیسربی رات بھی می می سیگ ارے۔
ازدم : طواف ورا :

درا ہو جانے کے بعد جب این مل کو وائییں جانا چاے و طواف
داع کرے اور فورأ ہی روانہ ہو جائے طواف فرض اور سج یکرنے
کے بعد اگ رکوئی عورت یتس یا ناس سے دوعار ہوگئی نو وہ طواف ودارغ
سے نی ہے اور اس کاکرنا ضروری نیس ہے اک رکوئی عابتی فا یکو
گیارہ با بار دا تیرہ ار تک م وخ رکردرے فو ہہ جائز سے ای طخ اگ رکوکی
طواف افاضہ اور کب یکو ٣نی‏ سے والی برکرنا چا فو یہ بھی جائمز سے
مین افضل وسوس ار عغکوکرناے۔

öööööö 109 öööööö
یمان کا مان :

‎٤‏ ےڈمم

‏رسولوں *کابوں فرشتوں روم آخرت اور فرب پر ایمان لانا۔
لد تال نے مسلرانو ںکوااژند اور اس کے رسول اور ارکان اسلام ‏
ا ان کے اھ سہاھ رشتوں : اور سا یکمابوں 2 یر بھی ایان انا

‏() فرش ایک روعالی خلوق ہیں جنمیں اللہ تعحالی نے ور سے پیا فرمایا سے من نکی لعداد
یر معمولی سے اور اللہ تال کے سوا ان کے کک اعرادوشمار ےکوی وافف نہیں ' بت
آسمانوں میس ہیں اور ٹہ انسمانوں کے ملف امو رکی انام دی کے لیے مامور ہیں۔

‎۲٢)‏ مسلمانع اس بر اممان رک کہ و ہکماڑیں جو الد تقاٹی نے رسولوں پر نازل فذرکئی عھیں
سب برض میں اوران میں صرف قرآ نکریم کچ وسالم موجود ہے اور وہ رات و کل
جو یہودیوں اور جیسائیوں کے پاس موجود ہیں وہ خود ا نکی گرم کرد ہکائیں ہیں کی وک
ان می بے عد اختلاف اور فرق بایا جا سے اور سب سے بڑد ھک حرییف و تپدی لکی دئمل
بھ ےکم اس میں ہہ عقیدرہ موجور ےک معبود ٹین ہیں اور مھبی الد کے بے ہیں''
عالائکہ جح اور جن بات ہہ کہ معبود ایک ے اور وہ اللہ واعد کی ذات پاگ سے اور
صیسی الد کے ہنرے اور رسول ہیں “جس اکہ ق رآ نکریم میں سے نیا نکمابوں میں الد کا
جو کلام موجود سے وہ ثرآن سے مسوخعخ سے چنا یہ ایک وفع رسول اللد صلی اللد علی۔
ولم نے حخرت عمررضی القد عنہ کے پامہ میں فذرات کا ایک ورقی دیکھا نے بے عد
ناراشی ہو ۓ اور ہیا : اے ابین النطا بکیا ہیں ابھی یھ شیک سے“ او کی مم اکر
میرے بھاٹی موی زندہ ہوتے تو میری بی اتا عکرتے۔ چنانچہ حضرت عھرنے وہ ور
ینک دیا اور حر سکیایا رسول اش" ! میرے لیے دعاۓ مغفرت فیا ے۔

‎٣۰

‎ 

öööööö 110 öööööö
ضروری قرار دیا سے میں اللہ نعالی نے اپیے رسولوں ے نازل فرالی
سس سلسل کی آخر یکماب قرآ نکریم سے جو قھامم اسان یکمابو ںکی
اغ ے۔

ای طرح الد تعالی نے مسلمائو ںکو ىہ بھی عم فربایاکہ وہ سمارے
کی ہوے امیا ءکرام اور رسولوں پر ایھان لے آ میں مکی ومکیہ تج یکی
دحوت ایک اور دن ایگ ے اور وہ دن اسلام سے ج میں الد تعالی
نے جو رب العاین سے نی و رسول بناکر جیا ہے لن ا ایک ملمان
کے لیے ضروری ‏ ےکلہ ان تمام امیا کرام بر ایمان لا جن کا کر
قرآ نکریم میں ہوا کہ وہ اللد کے رسول تے جو ای اتی وم کی
طرف کے گے تے اور اس کے سنہ ہی ىہ ایمان و مین ر ےک ہ سب
سے آخری بی حضرت مر صلی ادند علیہ وحم ام الاخیاء و ال رمھشن ہیں
مت کو ساری انانب ت کی طرف رسول بناکر الد نے مبحوث فرمایا سے
اور سماری انسانیت شی کہ پمودو نصارئی آ پکی ا مت کے ایک فرد ہیں
اور ساری سھرزین کے لوگ آ پک اتباغ اور آ پکی خبوت و رسالت
پر ائممان ائے کے ملف جں' رت موی اور خرت ٢ی‏ اور
سمارے اعیاء ان 7- سے اط مار براء تگمر وی گ جو رسول الد
صلی اللہ علیہ وسعمم کے دن اسلام پر ایان نہ لایس“ مسلمان قام انمیاء

2

öööööö 111 öööööö
کرام بر ایمان ان لے اییمان کات ڑء تو رکر] سے اور جو تخس حضرت
مج صلی الد علیہ وم بر ایمان نہ لائے اور آ پکی دی ن ہکرے اور
دن اعلام پر ایمان و مین نہ ر تھے وم و رج غیشت سارے اخمیاء کرام کا
مر سے اگ رجہ این کو می ایک نی کا پیروکار کے اس سلسلہ یں
مضصبیل سے ولا تل ذک ہے جا ہیں۔
رسول اللہ صلی الد علیہ وس مکاارشھاوگرائی سے ‎٠‏
‏عم ہے اس ذات پا کگکی جس کے پانقھ میس مبری جان ہے
اس امت کاکوئی بھی تخس چاہے وہ یسودی ہو یا حیسائی “سے
ری بعق کی اطلا ہوکٹی ہو اور ہیربی رسالت و شرلعت امان
لاۓ بغیرمرجاۓ تو وہ جن میں جائے گا (رواہ سم
لوم آضرت بر ائمان :
ابی طرح ہرمصلمان کے لیے مرنے کے بعد دوپارہ زندہ ہوے اور
صاب وکاب جزا و سزا “نت و جعم یچنی لوم خر تکی ہرجززیبہ یمان
انا صروری ے۔
اضاء و مر ہر ایمان :
فتضاء و فرر یر ایمان لانا ہرمسلمان کے بے ضروری ے اور لفڑر ‏

ار

öööööö 112 öööööö
یمان انے کے صمی ىہ ہ سک مملمان ہہ عقیدہ رک ھےکہ الد تعال یکو
اما ت کی ہریتراور ہنروں کے سارے اعمال کا سن و زمین کے سرا
رنے سے بل عم سے اور می ساری معاورات اس کے اس لوح فوظا
یس کی ہوئی جس اور ایک ملا نکو اس کا بھی حم ہہون جیا ےکہ اللہ
تعاٹی نے جس جچ کو جابادہ ہوگئی اور نس تزکو اس نے نمی چابادہ خنیس
ہوکی' اراس نے بنرو ںکو اٹی عبات و اطاععت کے سے پیا فرمایا سے
اور اس کے طرلیقو ںکو واج فرمادیاے اور اس کےکرنے کا صراحتہ حم
دبا ہے اور ای طرح سے انی محصیت سے کیا ہے اور ا ںکی بھی
نتاندی فرمادی سے“ اور انمانو ںکو رت اور ارادہ صلاحیت‌ ری ے
نس کے ذرلعہ وہ اللد تالی کے فرائی نکی جاور یکر میں ماکہ اج و
اب سے وازے جاس اور خنس نے ا سک نافرا یکی او رممناہوں کا
مر٘کب ہواوہ سزاو عزاب کا سجن ہوک اور بندو ںکی میمت و طاقت
ال تمالی کی نیت کے ابع سے اللد تحالی جو عاجتا سے وپی بنرے
کرت ہیں۔

جماں تک ان چیزوں کا علق ہے من مس بنندو ںکی مقیبت و اختیار
کاکوئی وشحل نمی اور ان کا ہونا ناگرز ہوا سے اور انسمان کے تہ جات
ہوئے بھی دہ وو مہ ہوتے ہیں یس بھولنا“ لظ یکرنا' بباری ؛ خی

۱۳

öööööö 113 öööööö
مییبتوں سے دوچار ہونا/ز بروست کرائ یگئی جن نو ان یی قمام چزوں ے
اللد تال کی طرف سے انسان پ کوٹ یگرفت خی ںاور نہ می طر نکی
سزاو عذاب سے“ بللہ قرو فاقہ اور مصیبنقوں پ بندرہ جب عبرو استنقاصت
کا مظاہر ہک را سے اور الد کے فیصلہ پر راصشی رجتنا ہے نو اللہ تعالی اسے
ات و ؤاپ ے ٹواز]ڑے۔

مسلماموں یں سب سے زیادہ راج الحقیدہ اور یقن ایمان والے اور
الد نال سے قربت رک وانے اور نت میں بڑے ریہ وانے محستین
ہیں جو اللہ تھا کی اس طرح عبادت اور خوف خشیت اور تیم ون قیر
کرتے ہ ںسگو اک وہ لوگ اسے دمھ رسے ہو اود ا یک یصسی یر کی
محصبیت کی ں کرت ان کا ظاہرو بالن ایک جحیسا ہوا سے اور اگر ىہ
کیفیت نہیں ہو پائی کم ےکم اس کا ا سار رتا ےکس اللہ تالیٰ
نی وھ رما ے“ اور ان کے اخوال و افعال اور نینوں میں سےکولی چڑ
بھی ١اس‏ سے فی میں سے چنانییہ ا سکی اطاعت سے سار اور ان
یی نافرالی ےکنا ر ہدش رتے جس“ اور جب ان سےکوٹ یگناہ رزد و
جاما سے توقوبہ و استغفار میں جلدی کرتے ہیں اور اپنے کناہوں پر
نداصت اور آتندہ بھی نہکرنے کا عز مکرتے ہیں' اللہ تعالی کا ارشاو
ے ‏ :

ي

٣

öööööö 114 öööööö
۸ کے سر و سم و سر کر 5 ۶
ہے

إإِنَ الله مع اَلَزِین انقوا وَالزِینَ هم تحی وت

(افیل : ۳۸)
بک اللہ ان لوگوں کے ساججھ سے جو مخ کی ایا رکرتے میں اور
تو لو کک صن سلو کفکرتے رت ہیں۔

ین الا مکی جامعیت :
قرآ نکری میں اللہ ا ٴ
الو اَشَثُ لکم دنک وَمّت علکم نہمی

مر عر خر از پر

ورضیت لالم دینا 4 جج
آج میں نے تمارے نے تار کل لک ری ورڈ اد
قت پور یکر دی اور تمارے لیے اسلام بطور وین کے بین ھکر
لیا۔

دو سربی لہ ارشماوے :

٭ ےہ رس سے !سے پر ے7 ےا اس

ان هٰذا الفرءانَ ہیی لی ھے وم 2707]
لمزم ال َعَمَلونَ الضَلحت اکم لَجرا کہ
(الا ۱ء : ۹)
ینک بہ خرآن ایے رق کی مدای تکرا ہے جو پالئل سید ھا ہے
اور ایمان والو ںکو جو نیک مم لکرتے رت مس خو سی وت

۸

öööööö 115 öööööö
ےک الع کے نے بڑا ھارکی اج ے۔
ید شرآن کے بارے میں ارشاے :

سے سے عو حیی تمہ صدے نعل سر ور گر سن اکر یں سم سر کل محر
لإوَنرَلنا علِلک الحتب یسا لکل شُؿء وھدی

سر ہی۔ےہ رح رج مہ

ورىحمة ودشریٰ لِلَمَم لمینَ 4 (اقل : ۸۹)
اور ہم نے آپ ب کاب اباری سے ہربل تک وکھول دپیے والی
اور مسلمانوں کے عفن میں بدابیت اور رحمت اور بشثارت ے۔
ایک جح عدیث میس نب یکریم صلی الد علیہ وسلم نے ارشاد فریایا :
میں خمیں ذرایت وام اور روشن شاہراہ بر چچھو ڑکر جا رہ
ہیں جن س کی رائیں ون کی طرح روشن اور عیاں ہیں“ اس
راسنتہ سے وبی کی اما رکرےکاجو بلاک ہ وھکر رے گا“
الیک دو سرکی عحدیث میں ارشار ٹہایا :
ننمیں ممارے اس دو یں پچھو ڑکر جا را ہوں؟ جب تک
انیس مضبوعی سے پلڑے رہوگ بج یگمراہ نمیں ہوگے“ اللہ
ک یساب (خرآن) اور میری سنت''
مرکورہ آیتوں میں سے لی آبیت میں اللہ تعالی نے بہ بیان فرا اک

اس نے ون اسلا مکو مسلمانوں کے نے عمل ثرمادیا ہے“ اب انس میں

می طر کیک و ٹیش کی قطعاتنائنش خمیں' دہ ہر زمانے اور ہ رلک

ي7

öööööö 116 öööööö
کے لیے بلہاں طور پر تقائل قبول ہے“ اور ہہ اعلان فرما دیاکہ ال نے
ملمانو ںکو ہہ کال ترمن وین عطا فراکر نب یکریم صلی اللہ علیہ و مکی
رسالت کے ذریہ اور مسلمانو ںکو ان کے وشمنوں پر رن یا بکرکے انی
ماری نتو ںکو قھام فرما دا سے مزید ىہ بھی واس جع فریا دیاکمہ اس نے
اعلا مکو دی نکی حیثیت سے بین دکر لیا ہے' اب اس سے بھی نارائش
نیس ہوک اور وین اسلام کے علاو ہکوئی دو را وین اس کے نزدیک قائل
قول ہمیں۔

وسری آبیت میں اللہ تعالی نے ہہ ایا ہ ےک قرآ نکریم ایک مل
وسقور حیات ہے“ اس میس دی و دنیادی خمام امور و معاحلا تکی انال
وا اور انان کش رابات اور اعلماۓ موتور ہس “کوئی ترو بھلائی
کی پ میں ج سکی طرف قرآن نے رہنمالی نکی ہو اور ای طر حکوئی
شمرو براٹ یکی جات میں شس سے خجردار ن ہکیا ہو۔

بدید و قریم عم کے کسے بھی مسائل ہوں اقآ نکریم میس ان کا
معترل اور قائل امینان عل موجور ہے مسائل کا جو بھی عل قرآن
سے متام ہو وو راس حم اور جمالت ہے۔

عم و عقیرہ اور سیاست اور نظام علومت اور عرالقی“ معاشریی'
معاتی اور مزبراتی نفلاموں سے ملق سارے انام و ٹوائین خرآن

ے۲

öööööö 117 öööööö
کر میں اللد تعالی نے وضاحت سے مان فیا دی ہیں اور ا ں کی
عمل و جامع تشرج و تیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسم نے اپنے قول
و خل سے مان فرمادی سے ٴا یکی طرف قرآ نکی ىہ آبیت اشار م٥‏ رتی
نے :

سے ےر تہ

ولا عللک الحتب ینتا لکل شیع وَهٰدی
ورحمة وبشری لِم لین 4 ایل : ۱۸۵
پھم نے بی کاب آپ بر ناز ل کر دی جو ہر کی صاف صاف
وضاحح تکرتے وائی سے اور مسلمانوں کے لے ہدابیت و رحمت

اور لشثارت ے۔

۸)

öööööö 118 öööööö
چے۔ بب

عمل

اھ

۔ میں ع

اللہ تحالی نے النسان کے لیے جو سب سے یی جج زواجب و ازی
قرار دی ہے وہ تصبیل علم ہے چنانچہ ارشاد باری تھالی ے .
اکر ان لا ال الا ا وَاستَمَفر لدیافک
> کے سر قفا ےو ہے ےم پرض خر" سر صرجے ص مریظ سس
ِموی وَالموَمِنبِ والله یعلم متقل کم ومنوں کر
١ن‏ : ۹)
آپ اس کا تین رھ کہ میززاڈ کےکوئی معبود نہیں اور ابی
خطا کی سعائی امت رج اور ہارے ایان والوں اور ائ مان
والیوں کے لیے بھی اور الد خوب خر رکتنا سے تم سب کے صن
پچھرنے اور رئے سس ےگی۔
مزید ار ماد ے :
ہے صرح ھت ے ےر رم ر7 ےھ 0 م0
٭ مرقع ال الد ےامنوا سک والنن آوتوا الولے
لع لا اٹ کاما منض وا ارآ
درحشتِ (ایاولہ : ‎)١‏

۰۹

öööööö 119 öööööö
ال م میس ایمان والوں کے اور ان کے جنییں علم عطا ہوا سے
7 تی

مزید ارخمارے :
مخ سب س ,مم 724۹
٭ وقل رب زدن علما4 (طہ : ۴)

اور آپ گن ےک اے مہرے روروگار پڑھادے مہرے کو
ایک جلہ اور فرایا :

کاو ضر الکن کن لا مان (ل ‎٣۳:‏
‏اکر خم لوک نمییں جات نت ایل حم سے بوچھ لیاکرو۔

ایک حدریث میس رسول اللد صلی الڈ علیہ وم کاارشادے :
ہر ملیان برع م کا اص لکرن فرض ے''

ای رج دو ری حدیث میں ڈیا :

الیک عا مکی جائل پر اڑىی بی فضیلت سے جس طخ چچودمویں
رات کے چان دکی سارے ستاروں ۔''

علام میس پانقبار وجوب کے تلم کی چنرکمیں یں :
عم ول . جو ہرمسلمان مردو عورت رر فرضش سے اور جن کی عدم
واقفی تکی وجہ ےکوگی مطذورخ٘میں مجھا جا کا وہ سے الد تال ی کی

۲۰۶

öööööö 120 öööööö
معرفت رسول الد صلی اش علیہ وس مکی معرفت اور دن اسلام کے
ضروری امو رکی معرفت حاصص لکرنا۔
کم دوم جو فر کالہ ے' شی گر سے مت کے چجھ لونک
اص لکر لی قے إقیہ تمام لوگو ںکی طرف سے کائی ہوا اور وہ لوک عدم
یل بر گرکار نہیں ہوں گے من ان لوکوں کے لیے بھی اس کا
واصل لکر تب اور اففل ہوگا؛ اور وہ سے ففی و شرقی مسائل میں
اتی ممارت حاصم لکرناکہ جررییسں ؛ منصب فضااور اشاء کا ائل ہہو جاۓے
اور لوگو ںکی دیو ری رہٹنماٹ یکر ے۔

ای تن میس وہ سارے دنادی علوم و ون بھی آتے ہیں جن کے
وریز مان خو وکا ہو ما اود دوسروں کے ماج نہ ہیں اس
لیے مصلدان عکرانوں سے لیے ضروری کہ وہ یھ ایےے افراد جار
کرامیں جو ہہ علوم و فنون حاص لکریں جو مسلمانوں کے سے ضروری
ہس اورجھن کے ذراجہ وہ خو کیل ہو کت ہیں۔
‎-۳٣‏ عقید دی درگگی . :

اد تھالی نے نچ یککریم صلی الہ علیہ مل مکو کر فرا ہو ا

بہ اعلا نکر و سیک سمارے لوگ الد واحد کے بن ے میس لف ا ان

لے کرد ری ےک صرف ایی عباو ت٢‏ مر اورای سے براہ راست

۱

öööööö 121 öööööö
سی واسیطہ کے ابی عبات و دھاکارابطہمقائم رکھیں بن سکی تخیلات
ےحی ری شر می ںگمذر پچگی ہیں اور اسی طرح صرف اللہ تحالی بی کی
ذزات ماک پر گھروسہ تھی اسی سے خوف و خشی ت کا اظما رکریں ای
سے امیر رھییں مکی کہ نففع و نتصان کا مالک وپی ہے اور ان تمام
صفا تکمال سے اسے متص فکریں جن سے اللہ تعالی نے این آ پکو
متصف فراا سے با رسول الد صلی الد علیہ و سم نے اسے منص فکیا

ےے۔

ما

- موق العباکی ادا مکی :

لد تعالیٰ نے ایک مسلا نکو ہہ عم فرماا ‏ ےکہ وہ الیما نیک صفت
انمان ہے جو السانی تکو کرو شر ککی ری سے نیا کر اسلام کے
نو رکی طرف لان ےک یکو صن شکرے ای کے بی اھ رٗھم نے ا سکاب
کو ھرتب اور اسے زب شیع سے آراست کر کے لوگکوں مک بایان کی
ومن شںکی ہے“ ماکہ اس فریضہہ دعوت اور حعقوق العبارکی ذرضیت سے
دوش ہو گھیں۔

ای طرح اللہ نمالی نے ہہ بھی وا فرما دی کہ ائیمان پاند کا رالطہ بی
ایک ملا نکو دو سرے سے مربو طدکرے اور اسی بفیاد سر باڑھی لعلقات

۳۲۳

öööööö 122 öööööö
و معاطات استوار گئے جا نیس الف ا 1یک مسلمان اپتنے مسلمان بھالی سے
تو نیک اور اث کا فمانبررار ہو ب تکرے “1 چہ وو وو رکا رشن وار تک
نہ ہو اور ا ن کافروں ے نضش وعراوت ر کے جو اللہ تع ی اور رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسعمم کے نافرمان میں اگرچہ وہ قربجی رش دار بیکیوں
نہ ہہوں۔

یہ وی مضبوط رشنتہ اور رابطہ سے جو وو ملف اشنا س کو ہاہھم علا ا اور
ان می الفت و حبت حداکر ہے مخلاف غمبی اور وظنی اور عارضی و
ادمی رشتوں کے جو بت جلد جلناچور ہو جات ہیں الڈد تا یکا ارشاد

سے :

٠

سے سر

کے ےحسر ہوم اھ وہ ء۔ص رم مععي ., ٛھکكکھ ہر
لا تجد فوما ہؤمنوت باللم والُور الآخر نوا دورت
سے سے ‎٦‏ پر صحرص ھ 1 277 ہ ما ہہ کے رم 1۔
سں حباد الله ورسولّه 1] کانوا ءابَاء ھم و

+د
اس یك مم

بت اءَهم آو خوتھر آو عشیرتہمہ (احاولہ : ‎)٣٣‏
‏جو لو اد اور وم آضرت پر اییمان رھت ہیں آپ ائمیں نہ
امیس گے کہ الیوں سے دوستی یں جو اللہ اور اس کے
رسول کے خالف ہس خواہ وہ لوک ان کے پاپ یا ان کے بے
ان کے نے والے ب یکیوں تہ ہوں۔

مزرارتادے :

۲۳٣

öööööö 123 öööööö
إِنَ کرس چند الہ دک ہ (احرات : ۳)

ینک تم میس سب سے زیادہ بی ہیہزگار تنس الد کے نزدیک سب

سے من رز ہسے۔

لد تعالی بی آحی تکریہ میس ہہ تا را ےکہ الد بایان ر کے ولا
مرد مو الد کے وشمنوں سے انمدار محبت می ںک را اگ رجہ وہ قریب
رن رتھ رار ہوں۔

دوس بی آبیت میں ے واج رما رہا ےک الد کے بیہاں شرف و
مضولت ر کے والا حبوب تخس وہ سے جو انس کا شرانبردار ہو چا وہ
کسی بھی رکیک و ناسل سے معلق رک والا فرو ہو۔

ابی طرج اللہ تحالی نے مس لمانو ںکو عرل و الصاف سے معالل ہککرتنے
کا عم فمایا سے“ چاے دوسا خص وشن ہو یا دورت “اور لم و مکو
ان ذالت پاگ پر ۱۶م قرار دیا ہے اور اپے بندوں کے ماٹین بھی ترام
ھب ریا ے۔ واقت داری اور سوئی اعم را ے اور شانت و درد
موی سے مع فرماا ہے“ اور والمد نکی اطاعت وغرمت رشن داروں
سے صلہ رتی؛ فقراع و مساکیین کے ساھ مان اور رحم ول کا عم فرایا
ہے اور رفای کاموں میں حصہ لین کی تزغیب دی ہے۔ اسی ‏ رح اللہ
تماٹی نے تام خلوقات کے سان اچھا محاط ہکرنے کا عم فرمایا ہے“ تی

۷

öööööö 124 öööööö
کہ جانوروں کے سراتھ اجیکھے سلو کفکرن ےکا عم اور ا نکو ملیف وت
سے مع فرلا ے ''۔

اں اقصان باجانے والے جانوروں کو جیے اگل ےئ ساب"
جو سے“ پچچھو اور یی وغیر جیے جانورو ںکو مار ڈالا جات گا ماکمہ ا نکی
ا رسانی سے لوک مفوظ رو میں ہں ا نک و بھی تمکلیف وے و ےکر
مارنائسح سے۔
۴ مرد موم نکی عٹ یکیفیت :

قرآ نکری مکی متعدد آتں ہہ بتائی ہ سکہ الد تحالی این ہنرو ںکو
دکھا سے وہ جما ں ہیں بھی ہوں زان کے تمام اعمال اور ول یس تھے
ہو رازوں اور تل سے وائف اور پاشر سے“ اور الخ کے اثوال و
مال ے ریکارڈ تار گے جا رسے ہیں اور اس کلم کے ہے ہن فرتۓ
مر جس جو ہمہ وقت ساتجھ جس اور ہرپچھوٹی و بڑکی اور خظاہری و باضنی

‎٢‏ مزال جا و رکوؤز کر نے وقت کییں رسول اید صلی اوہ علیہ وھ نے مہ مداممت فرمالی
ےک تچھر یکو تی زک لیا جاۓ کہ جانو رکو زیادہ ملیف نہ ہو اور پاساٹی زع ہو جائۓ اور
عل کی لہ بچھری جھبری جاۓ اور شہ رک کا جائئ ناک خون مو ری طرح لکل جاۓ '
اور اون ٹکوگرون سے چک خُرکیاجاۓ اور جانو رکو کی کاشماک د ےکر یا صرع ما رکشل
گرنااور ا س کاکھاناناجاتزے۔

‎۲۴۵

‎ 

öööööö 125 öööööö
یو ںکو جو انسانوں سے صاور ہوگی ہیں للھ لیاکرتے میس اور ای کے
مطالق الد تحالی وم آخرت میں ا ن کا اب وکماب نے کا۔

ابی رح اللہ تقالی نے الن لوگو ںکو وروناک عزاپ سے ڈرایا اور
تفہ ہکیاسہے جو لوگ اس دنیاوبی زندگی بی ا سکی نافرالی او رگناہہکرتے
ہہں؟ چنانیہ مومنین ان عتیمات سے مب حاص ل کرت ہوںۓ محصیت
اور نافرا ی سے نی ےکی 7+ ور یکو لک رت ہیں او رگتاہوں اور
مقالفتوں سے اجقناب کرت مس اور اللہ تال سے خوف و ج٥ت‏ کا
اظما رکرتے ہیں اور وہ لوک جو الد تال سے خوف و ضثیت نمیں
رھت او رکناہوں کا آزادبی سے ا رما ب کر ہس لو اللہ تعالی نے
نہیں بھی باز رین کا ایک طریقہ مقر فرایا ہے وہ مہ ہ ےکم اس نے
ملمانو ںکو ہہ عم دیا ہ ےکہ وہ آیں میں ام پالمعروف اور ضی عن اسر
کا فرلضہ اتجام دے رہیں اور اس طرح ہر مسلمان اس کا شعور رھے
کہ ہرو گناہ ج وکوئی دو را تخس کچھ یکمرے وہ اتنے آ پکو ند الد اس
کازمہ وار تو رکرتے ہوۓے صسب استطاععت ابی زبان سے یا اھ سے
روک ےک یکو شکمرے نہیں توم ا زم اسے ول میں برا ھے۔

سی طرع اللہ قعائی نے ملمان عمرانو ںکو ہہ مم فرایا ےکک
اسلاٹی تواٹی نکی غراف ورز یکرتے والوں الد کے انام کی ہر

۱)۱

öööööö 126 öööööö
کریں؟ ج س کی تفیلات اش تعالی نے قرآ نکریم میں اور رسول اللہ
صلی ادل علیہ وسعلم نے اپنے قول و نل سے بیان فربائی ہیں “شی جرائم
پشہ لوگوں پر ججرائم کے اتقبار سے ان ب محزمرات ناف ذکریں اک عدل و
انصافٴ ان و اما اور حا یکاوور وورہ ہو۔
ك۵ - اسلام کا معاشرٰی تحاون :

الد تالی نے مسلمانو ںکو ہہ عم دیا ےکم وہ ہای طور پر مالی اور
معنوی ناو نیکیاکرس ہن س کی وررے تتصبلات زکو ت و صدقرات کے
اب میں میان ہو ہچگی ہیں ای طرح اس نے مسلماو کو ایک دو سرے
کی ایذا رسای سے مع فربایا سے خواہ کنتی بی مصممولی سی یز کے زریجہ ہو
یے راستوں با سایہ والی جچّہوں ‏ رکوکئی ناخواشگوار چیزڈال دی جائے اور
ابی تعلیف دہ یو ںکو زا ت٠‏ لکرنے بر اج و ذاب کاوعد ہکیاگیاے '
اور تکلیف دہز ر کے وا ٹکو سم زاکی وعید سنال یگئی سے۔

ای رح اللد تاٹی نے ایک مسلمان پر ہہ لازم تقرار دیا ےکم وہ
دومرے کے لیے دبی ین دکرے جو اسینے لیے بین دک را سے“ اور اس
کے ہے وہ نز نان دکرے جو خود اپنے لیے ناپپن دکرا سے چنانیہ اللہ
تعال یکاارشمارے :

٢ ‏ے‎

öööööö 127 öööööö
ولا نعاووا عَل اَلَائْر
(مماَرہ : ۳)

ایک دو مر ےک مدو یی اور تنتوے می سکرتے رہو او رگناہ اور

زیادٹی یس ایک دو مر ےک مرو کرو۔

زیر ارنمادے :

ما المؤموں لِخوۃ فاصلحرآ بین اخو یکر

(ائرات : *)
ینک مسلمان (آئیں میں) بھاکی بھائی ہیں سو اپینے دو بھانیوں
کے درمیان اصلار گر و یاکرو۔
نی زفراا :

عَظ اک (اأشہاء ۰:١٣ا)‏

سرکوشیاں بت ىی اڑیی ہیں تن می ںکوگی بھلاکی نیس“ پان الع
بعلائی یہ ےک ہکوگی صدق کی تیب دے پیا می اور نیک ام

۸

öööööö 128 öööööö
کی یا لوکوں کے درمیان اعلاخ کی اور ج وکوئی الد کی رضا

عاص لکرنے کے سے ایب اکرے گا سو ہم ا سيکو عنقریب اج

تیم دی کے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وس مکاارشماد سے ۱

ہوئی خصس موسین ائل؛ نہیں ہو سنا ہکمہ اپینے بھائی کے

یے وی نز نہ بین رکرے جو این لیے ین دکرا سے''(رواہ

٣

اسی لے آپ نے رج وداع کے تیم خطبہ کے دوران جو آپ نے
حیات طیبہ کے آخریی دنوں میں ویا تھا اد تعالی کے ساب اکا مکی کید
رت ہوے ارشاو فرمیا :

”اے لوگو ! خہارا رب ایک سے اور تہارے چد ا مجر ایک

ہیں عور سے سنو . می عر یکوکسی ھی بر فضیلت و وقّت

یں نہ کی ٹچ یکو عوبی بر اور نہ کسی کاٹ ےک وک یکورے بے

اور نہ یگور ےکوی کانے بر فضیلت عاصل سے “گر متوگ

کے ذ ریچ *کیامیس نے اش کا حم صمیس پہنیادہا؟ بھی لوگکوں نے

کھما : آپ نے سن و خوی نیاوی ے''۔

مزیر ارخاد ریا :

۰۹

öööööö 129 öööööö
”کک تمارا خون اور ھہمارے اموال اور تھہاریی عمٴت و آبرو

اپیے بی حرام ہیں ج٘س طرح اس ماہ کا آ کا ىہ دن اور حمارے

اس شرمیں “کیا میں نے بنا نہیں دیا؟ بھی نے عو سکیا ‎٠‏

ان“ پچ رآپ نے انی انی آسعا نکی طرف اٹھاکر فرمایا : اے

الد ! نوگواں رو
ن- اسعلا مکی دای سیاست :

الد تھالی نے مسلمانو ںکو ہہ عم دیا ہے کہ وہ اپینے بی میں سے کسی
کا انتقل بکرکے ابا امام و حاکم مقر رک ریس اور ا کی اطاعحت و عاکمیت
کو صلی مکمریسں اور انفاقی و اتھاو کا مظاہر ہکرس اور اخلاف و !سار کا
شکار نہ ہوں اور اس طرح سے امت وامرہ ہو ےکا وت ریں۔

سی طرحع انمیں عم فرایاکہ وہ ان امام و عاکم کی اطاعت اور
فرمانبردای کریں' البعہ جب اللہ تعال یق کی محصبیت پر جبو رکریں فو اس
یس ا نکی اطاعت و فربانبرداری نمی ںکی جا گی “کی وکمہ اللہ تعال ی کی
محصیت میں کسی عو کی اطاعت نیں۔

ا یہ اققیاسات اس جائح اور نمیم الشان خطبہ کے ہیں ہ وکتب حدریث میں ملف مقامات

‎٤‏ کور ں۔

‎ 

öööööö 130 öööööö
ال تعالی نے ایک ملما نکو ىہ بھی عم دیا ‏ ےکہ جب وہ می اىیے
شیا لک میس رے جماں ایے الام کااعمار کر سنا ہو اور نہ ا یکی
آزادانہ طور پر دعوت و تل نکر سکما ہو نو وہ وہاں سے عسی اسلائی تک
کی طرف بجر ت کر جا جماں اسلائی قوائین و شریع تکی حیز ہو
ہوٗ اور اد تعالٹی کے ناز لکردہ اکم و قوائین کے مطاب قکوگی مسلمان
مر یکر ہو کی کہ اسلام علاقالی صدبندیوں اور توئی اور لساٹی نفرلقی
اور اقیازا ت کا تال میں بللہ الیک مسلما نکی قومیت اسلام سے خرام
لوگ الله لی سے بنرے میں اور ساری سرزیین کا غالقی و مالک الد
تال ی سے اف ! مسلمان جمماں کی اس اخ رر وٹ کے آزادانہ طور یر آھ
ورفت رکھ سا سے بش ریہ وہ اوند تعالی کے قوائین بر گل پرا ہو اور
جب وہ الشد کے مفرر کردہ حدود کی مخالشت کرے و اس اسلائی
رات سے وو ار ہونا ڑے گا۔ ند کی فشترلجت ہر فل اور اسلائی
عدورکی جپیذ سے می امن و امان قائم ہو سا سے مسلرائوں کے
وق محفوط رہ سلت ہں اور ان کی جان و مال اور عمزت و آبرو کی
نات ہو عحتق سے اور اسی میں س بکی بھلاٹی سے اور اس شرلیعت سے
اعرا ضکی صورت میں ہر براگی جخم نے عحتقی ہے۔
شخرا بکی حرمت : الد تعلی نے ؛نسانی عقل وشعورکی اظ تکی

۳

öööööö 131 öööööö
ماطرہرنشہ آور اور فور پر اکرنے والی بیڑو ںکو ترام قرار دا سے اور
شراب نو یکرنے وا ل ےکی سزا حایس سے اص یکوڑے تک مقر رکی
سے الہ وہ ال 7کت سے باز آجاۓ اور اس کے حف ل کی حفاظت ہو
کے نیزوہ دو روں کے لیے عہرت ہو اور و٥‏ اس کے شرو شثرارت سے
حفوظط ہو جا میں۔
ت کی حرمت : ای طرع اللہ تی نے مسلمانو ںکی جان اور خون
کی طاطت کے پیش نظ ناج شف لکو عرام قرار دیا ہے اور قائ لکی سزا
تاس کے طور بر فل قرار دی ہے اور زخموں کا بھی قصاص مقرر فیا
دا ہے۔ اسی طرح ایک ملا نکو انی جان و مال اور عمز تکی حفاطشت
اور وفا ع کابھی جصمح وا سے اللہ تال یکاارشماوے :
ولک نی القصًاوں عَبَلة بای الال َمَلََُم
تَحفون (القرو : ۹ےا)
اور تمارے لے اے ایل غمم (قانین) فاص مس زندگی
ہے کہ تم فی بن جاو۔
نیز رسول الشر صلی الد علیہ وسلم کاارشماد سے ۱
جو شخص این ٹس کے رفاع میں فل ہوا وہ شمیر سے“ اور جو
نس اپنے ابل و عیال کے وفاع میں فل ہوا وہ شمیید سے ' اور

)۳۳

öööööö 132 öööööö
جو نیس اپنے مال و دولت کے وفاع میں فل ہوا وہ شمیر ے''
میبت اور تحص تکی ممالعت : اللہ تعالی نے مسلمانو ںکی عمات و
آبر کی تفاظت اس طور بر فربال یکہ ایک مسلما نکو ای سعم بھاک یکی
خی رموجودگی میں اڑسی بات کن ےکی عمانعت فرمالی سے جو اسے تاکوار گے
(ہجی غیب تکی عمانعت فرمالی ہے) ای طرح کسی ملمان بر سی اخلائی
جرم شا زنا یا لواطت کی صسمت لگانے والے کی مزا اکلہ وہ اسے
ری طور بر ایت : ہکمردے ا یکوڑے مقرر فرمالی سے۔
زناکی عرمت : ابی طر اللہ تالی نے مسلمانوں کے ناسل ون بکی
اط ت کی اط زنا اور ناجائز سی تعلقا کو حرام فرمایا سے اور اس
ظا تر مکو بست بڑاگناد قرار و ےکر شی سے اس کی عمرانت فراکی
ہے اور جب شرگی طور بر ا سکاشھوت ہو جا فو ا س کی انتمالی بھ ایک
زا مر ری ہے ماکیہ لوکوں کے لیے عبرت ہو۔
ری اور دع وکہ دبی ویر کی عمالت اش تعالی نے لوگکوں کے
اموا لکی حفاظت کے پیش مظھرجو رید حوکہ دپی جوا رشوت اور الن
کے علاوہ خمام ناجائز: طربیقوں سے ےکمالی ہوٹی دولم تکو مرام قرار دا سے
اور ان نملط رییقوں پر پابندی اور روک فقام کے لے چو ری و ریرنی
کرنے وا لٹ ےکی سزا پاھ کاٹ مقر رکیاسے ج بک پا کا ےکی شھ ریس

۱۳۳

öööööö 133 öööööö
پائی جامیں اور اکر پاتھ کا ےکی شرٹیس بوری نہ ہو میں گر چوری
خابت سے ف بھی چٹ سزانمیں دی جایں ماکیہ وہ اس مکی ترکنوں سے
از آئے۔

جولوگ ان اسلائی لعزبرات اور شرگی عدود یر تتقی دکرتے ہیں ا نکو
بات لن میں رھفی اہی کہ ان تو انی نکو اس ذات پک نے مقرر
فا ے جو غی رمعموبی عم و عکمت رکے والی سے اور وہ ا گے ہنرو ںکی
فطرت وکیفیت سے سب سے زیادہ بایرس“ اور سامھ بی ساجھ ان
انتائی شفقت اور رت مكکرتے والی ہے چنانچہ اس نے ان سزائوں کو
مسلمان چثرموں کے مناہوں کے لے ےکفارہ قرار دا سے او رمحاشر ہکو ان
کے اور ووسروں کے شھروفنن ے کفون اکرتے کا زرلجہ بنایا ے۔

جو لوگ قال کے نل اور چور کے پمھ کانے جانے سر اعتراض
گمرتے ہیں وہ ور اصل اس محقوفاسدر کے کا پر اعش زا ض کر رسے ہیں
جو اکر نہ کاٹا جا فو اس کے جرا حم بورے معاشرے میں صرایی تکر
0 ي ب ‏ 0 0

0 ریش کے عم کے عضو فاس رکاکاٹ دیا جانا زیادہ نر سے“ جنس کا مطالبہ خوو مرش
اود انس کے ایل و عیا لکرتے ہیں ماکہ و را جم جع و سکم حفوظط رے۔

م۳۴۳۴

 

öööööö 134 öööööö
لوگ دوصری طرف ات اد اخراض و مقاصر کے لیے محصوم جانوں
کی جلاکت اور نام عم و زیادتی اور خون بمانے پر داد مین دی ہیں-
ے ۔- اسلا مکی خاری سیاست :

اللہ ای نے مسلمانوں اوران کے تکرانو ںکوبہ حم فرمایا ےک دہ غمیر
مسامو ںکو اسلا مکی دعوت دیں نک ا نک وکفرد شر گکی اریکیوں سے
نا لکر ایمان و اسلام کے فو رکی طرف نے جائیں اور دنیادی زندگ یکی
ادتی آلائٹں اور نحرومیوں سے مجات دلاکر اس روعانی سعاوت اور شی
ینان و سکون سے روستائ کرامیں جس سے مسلمان میتی ممنوں میں
لطف انروز ہو رے ہیں-

اسی طرح ایک ملا نکو یہ عم ہ ےکہ وہ لیک تیگ اور مفید عضر
بن کر محاشرے یس رے اور اۓ صلا کے ذرچہ بگڑے ہوتے
محاشرے کو درس تکرے اور ساری انسائیی تکو تی سے یاے اور
اس کی خر خوادی اور تناون مم سکولیمسربائی نہ ر تھے لاف وو ہے
انمائی نظام حیات کے“ جو انسان سے ہہ مطال کر ےکم وہ خود ایک
ایچھا شھربی ب نکر رہے' دو مرو ں کی اصلاع و فلاح اس کے ذمہ نشیس
س

بی ال با تکی واج اور ین ول ہ کیہ اسان کے خود ساشتۃ نام

ك۵ ۳

öööööö 135 öööööö
حیات کت ناش اور فاسد ہیں اور اسلام کانظام حیا تکتنا عمل اور
صاع ے۔

اہی رح اللہ تعالی نے مسلمانو ںکو ہہ عم دیا ‏ ےکہ وہ الد تعالیٰ
کے روشھنوں سے مقالل کرنے کے بيیے انی و ری وسعت اور صلاحی تکو
بروے کار لاخ کہ اسلام اور مسلمانوں کی حاظت کل جاے اور اللہ
اور ان کے وضو ںکو مرعوب اور خوف زد ہکیا جائۓ “ اسی مر اللہ
تال نے مساانو ںکو خی رساموں ے بوقّت ضرورت معایر ےکرنے
کی اجازت دی سے جو شمرگی اصول و ضوارا کے مطابقی ہہوں“ اور انی
عر شگنی سے مع فرمایاٴ الا ٹکمہ ون بی خوو درخ یکمرنے گے یا
ابی کات و عالات ببیدر اکر دے جو عمو و چاان کے کا غراف ہوں۔

مسلرنو ںکو شل و قا لکرنے سے پ لہ ىہ عحھم ‏ ےکمہ پیل کغار و
می یکو اسلا مکی دعوت دی اگر وہ اس سے الک رک دی فے ان سے
جم وین اور اسلائی قوانی نکی باہنر یکرنے کا مطال ہکریں' اگ اس
سے بھی اکا رکر وی نو کفرو رک اور عم وستخم کے فقتوں کا ببع وفع
کرنے کے سیے ان سے فا لکریں الہ صرف الد تاٹی کے دی ن کاب ول
با ہو

ای طر دوران قال مسلرائو ںکو ہر عم ےکم وہ عو رنوں' کوں'

٦

öööööö 136 öööööö
لو ژقوں اور کے ٹن موتور راوں سے کوٹی رض ت کر“ الا یہ
کہ پہ لو ککفار و مق کین کے ساتجہ کسی طرح کا ناو نکرتے نہوںٴ
اسی رح قیدبیوں کے ساتھہ بھی حسن معالل ہکا عم ہے۔

ان اعلیمات و بدایات سے نو اندازہ ہو جا ےکلہ اسلائی چماد و
خر وات کامقصر لوٹ مار“ ما پالاوستی حاص ل کر نا“ یا ناجائز فا دہ اشھانانہیں
ہے بللہ اس کے اتمائی نیم الشان اور منقرس اخراض و متقاصد ہیں اور
وہ ہیں دن جح نکی نشرو اشاعت' اور انمانیت کے ساتتھ رحم دکرم اور
انساضی تکو لو قیکی غلابی سے نکا لکر اد ال قکی بندگی میس داخ لکرنا۔
۸ - الام میں آزادیی :
(0 نزثی آزادی : ال تقنالئی نے غیرمساسو ںکو جو اسلائی ام کے
تحت آجایں انمیں نرئی آزادی دے رکھی سے انی اسلائی عقار و
انکام سے روشنا سکرا دیا جائۓ اور اسلا مکی دعحوت دبیدری جا اس
کے بعد نس کا بی چاسے ومن اسلام قبول کرکے تی و دیاوی سعادت و
کامیالی عاص لکرے“ اور ج وکوئی اپچنے آباء و اجبداد کے دن پر بائی رہدکر
بد تی اور عزاب آخرت کا من ہونا چاے فو ا سے بھی او را اختیار ے '
اور ال رح سے اس بر جت تام ہوگئی' اب اسے اللہ تتعای کے
سان ہہ عفذر بی لکرنے کاجواز نہیں ہو اہ اسے دعوت نیں نی

ے ۳

öööööö 137 öööööö
اس وقت مسلمان اسے سابقہ دین پر پچھوڑ یں کے اور ا سکی جان
وا لکی ططاظت کے عوض جزبہ وصو لکریں گے وہ سمارے اسلائی
توانین کا بابند ہوگا اور مسلمانوں کے سان ا نے کفراور شرکیہ شعائ رکا
اظمار :ہکم رےگا۔

می نکوئی مسلمان اکر وین اسلام قبو لکرنے کے بعد رن ہو جائے
ق3 ا سکی مزا نل ہے اس لے کہ وہ اس بھیاحک تر مکیوجہ سے زندہ
رب ے کا جن خمیں رکھتا اں اگمر نوہ و استغفا رکرکے دوپارہ اسلام ٹیل
واخحل ہوکیاف ا سکی توب تقایل قبول ہوگی۔

اک کی نے اسلام سے نار حکرتے وی چزوں مس سے می ایک چک
ھی ا رکا بک لیا فے اس سے و ہکرے اور دوبارہ ن کرنے کا عر عم سم
ر-
الام سے خمار کر نے وای یں :

الام سے نار کر دسینے والی چچززیں گئی ایک ہیں جن میں سے
مور تین مہ ہیں :
00 لن تتعال ی کی ذزات و صفات اور عحیاوت میں وو رو ںکو شریک بنانا
رجہ اپنے اور اللہ تعالی کے درمیان مس یکو واسطہ اور سفاری بن ابی
کیوں نہ ہو سے وہ پکارے اور تنقرب حاصل کرے اور شفانعت کی

۳۸

öööööö 138 öööööö
درخواس تکمرے خواہ ںی ااوبیت کا لفظا و سخ اکتراف 'مجوراور
عبات کے معن جاتن کی وجہ سےکرے“ جلیس اہ دور جاہلیت کے
مشرکی نکرتے تھے جموں نے اپنے سابقہ صال“ین کے نام سے ا بے
بت بنا رتھے ے نہ کی شفاعم تکی خر سے عبار تکیاکمرتے تھے۔

اب اختزاف تہ کر ےکہ وہ واسط معبور سے اور اس کا ىہ ن٠ل‏
عباات ہے جلیسالہ جع کے ناس ہماو مسلمانوں کاعال سے ہہ کو اگر
عتقیدہ وی رکی دعوت دی جا فو ا سکو قبول ٠ی‏ ںکرتے ‏ وہ اس زم
پاضل میں ہی ںکہ شرک و صرف بجتوں کے ساتنے سد ہکرنے کا نام سے '
اہک ہکوئی بفدہ مکی خیبراللد کے بارے میس ہہ کہ ىہ میرا مور ہے۔

ان کاعال یا شال اس منص جیسی سے جو را بکو دو را نام ور ےکر
نو شک رے ہن سک مدرے تتصلا تگنر چی ہں۔

انل تھالی کاارشاوگرابی سے ‎٠‏

ھرس پر سرسم ہےر آ رک سر ے2 وپ ےہ خ تبج- ص
رونا بای الہ زلفع إِنَ الله کم مَيْتَهْم فی مَ
ہے ھ ہہک پک پر کک ہم ہرم ےر سے.. وھ
فييه مححلقور إن الله لا بھری من هو ہنودب

۹

öööööö 139 öööööö
آپ خمالنص اخنقا دکرکے الد بع یکی عباو تکرتے رتے “یا رکھو
عبات نمالس اللہ بی کے لیے ہے اور جن لوگوں نے اس کے
سوا اور شرکاء تچوی :کر ر کے ہہ سک جم فو ا نکی بر تل جس اس
کرت ہہ ںکہ یہ بحم کوارڈد کا مقرب بنا دیس ینک الد ان
کے درمیانع فیصل کر دوے گا ینس بات ھ یں ہہ ہاہم اخلا ف کر
رسے میں “پیک الد ایی ےکو راہ راست پر سکیس لا جو بھو ٹا ہوٴ
ناکرا ہو۔

دو سرکی جلہ ارشماورے

تلم اه رَیْکم لە الملث وَالبے

ندعوبے من دونے۔ ما یملکورے من قطمبر 72
ان تنغوفر لا ما ماق وا مٹرام

آمککاڑڑا لم 2 اقيمةِ یکفرون شرحِجک
ولا شی پثك مثل خر *٭ (الفاطم : ‎٥۶۳‏
‏کی الد مارا رب ے' اب یکی علومت سے اور جنممیں تم اس
کے علاوہ پکارتے ہو وہ چو ر کی بھی کے جحلکہ کے برابر بھی
افتیارخیں رت اگر تم ا نکو بکارو نے وہ تہماری بکار نہ سی
گے اور اگمر من بھی لیس و تھہماراکما کر یں کے ' اور قیاصت

۲۰۲

öööööö 140 öööööö
کے ون وہ تھہمارے شر کفکرتنے بی سے مر ہوں کے اور چجھ
کو (اشد) تی رکا ساکوٹی نہ بنا گا۔
)۲ مشرکوں اور دی رکفار جیسے بیمودبی ' عیساگی “عحی نجوس اور وہ طاخوتی
طاشیس جو الد کے ثوائین کے علاوہ سے شیلہ اور علومتی ںکرتے میں اور
انام ال یکی حخال تکرتے ہیں نے جو خنیس جامنے کے باوجوداخ٘میں کافر
نہ چجھے وہ نو بھی کاف رہ وگیا۔
‎۳٣‏ جس نے خرکیات ۔ مشقل جادو“ ٹونا خو کیا یاکرنے وا لےکو جج
مھا دہ کاخر شار ہوگا۔
(۳) ہہ عقیدہ رکناک ہکوگی دوسری شریعت با نظام؛ اسلائی شرلیعت سے
اکل و ال سے یا کہ لی او رکا فیصلہ آپ صلی اود علیہ و سم کے
فیصلہ سے بہت ر ہے“ یا خیب رالمی تقانون سے فیصلہ دنا انز ہے۔
(۵) رسول اللد صلی اللہ علیہ وسعم سے قحض رکھنا یا آ پکی مائی ہوئی
انؤں میس س ےکی جا تکو مصغوض تبجھنا۔
‎)٦(‏ جانے ہہوتے الد کے دی نکی کسی با ت کا نا اڑانا۔
(ے) اسلا مکی و نضرت اور صربلند یکو ناپہن دکرنااور ا سکی گلست و
کزوری بر مر ت کا اما رکرنا۔
(۸) کغار سے دوستی اور ا نکی اد اور مسلمانوں کے غراف ہہ جات

۳

öööööö 141 öööööö
ہوۓے بھی ا نکی بد دکر اک کفار سے دوستی ر کے والا انیس کے مہ
یس شار ہوگا۔

(۹) ہہ اعنقاو رکھناکہ مھ شرلعت ریہ کے حدود سے تجاو زکرت ےکی
اجازت ے ٴ عالاکک کسی خص کے لے کسی بھی متلہ میں رسول الد
لی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سے سرمو او زکرن ےک یکخیائتش نہیں
ے۔

(۹ا) الد نتالی کے دن سے اعواض کرنا چنانیہ جس نے حان پ وج کر
اعلام سے اع را سکیا لڑنی نہ اسے سیکھا اور نہ بی اس بر عم لکیاوہکافر
ے۔

(۷) اسلام 22 سے عم کا انکارجنس بر سب کااجماع ہوٴ اور اس
یے لوگوں پر وہ عم جنی نہ ہو۔ ان نواشض کے ولا نل خقرآن و سنت میں
بکخرت موجوو ہیں-

(ب) گگری آزادی : اسلام نے آزادی کک کی عمل اجازت دی
سے بشرطیلہ بہ آزاوی گگر ‏ اسلائی نحلیدات سے متصاوم نہ ہو چنانیہ
ایک ملا نکو یہ عحم ےک من بات کنے میس مس یکی برداہ ‏ ہکرے '
بلہ ا سکو رین ما کھاگیا ہے ٴ اسی رح ا سکو عم ہ ےہ اپنے
تکمرانو ںکو خر خوابی میں مخورہ دے اور اکیھی بانوں کی لحم تکرے

۴۳

öööööö 142 öööööö
اور بربی چڑوں سے مخ کرے' اور اٹل کے للمبرداروں کی مال شت
کرے؟ا نکو اس سے باز ر کے اورک یکی رات ۓکو موا رکتے کا رہ
سب سے بمترلظام ہے۔

رے وہ افکار و نظریات جو اسلائی شریجت کے مخالف اور موم
ہوں تو ان کے اما رکی پالل اجازت شس “کی کہ ىہ راس رفماد و ای
ار تق کی کی ہے۔

(رع) ام فرادی آزادی : اللہ نتحالی نے شریعت اسلامیہہ کے عدود
کے اندر رت ہوۓ مس رما نکو تی وا فراد یی آزادبی دے ری سے
چنانیہ ایک انان خواہ وہ مد ہو یا عورت اب اصرفات و معاعطلات میں
برا آزاد سے اور اس حری تک بنا یر بک و شر“ ہہ اوئف“ فو و
درگزر' نیز شریک حیات کا اتجقا بکرنے اور دنر بت سے وٹ و
دنیادی معاعطات کا اخقار رکتا ہے اد ےکوٹی مجیور خی ںکر سا الع
عورت کسی امےے مد سے نا نمی کم عکتی جو وین میں اس کے مساوی
لہ ہوٴ ماکہ اس کے عقیدرے اور خرافت کی حفاظت ہو کے اور ہہ
یابندکی خود ا کی اور اس کے ناندا نکی بھلاٹی کے لیے ے۔ عورت کا
ولی (نسب کے اعقبار سے قریب ترن فنص ما اس کا ناتب) بی اس کے
قد ناج کے امور کا زمہ وار ہوگا کی وملہ عورت خود انا لکاح یراہ

ى۳۳

öööööö 143 öööööö
راست خ٠یی‏ ںک رسکی باکہ زامیہ عو رنوں سے مشاہ نہ ہو جا “اور اس
کی شرافت اور صصمصت و عفت اور حیاو شرم بآ نہ آئے چنانچہ ول'ٗ
ہونے والے شو ہر سے سے گاکمہ میں نے فلا ں کا اح تم ےک دیا اور
اس کے جواب مس دوگواہو ںکی موجودگی میں وہ ہہ سے گیاکہ میں نے
تو لکیا۔

الام ایک مسلما نکو ىہ اجازت "یس دیتاکہ دہ شرگی عدودو توائین
کی غلاف ورزیکرے کیو لہ خور وہ اور ساری کانجات ال تما ی کی
علیت سے اس سے ان ثوائین کے عدود کے اندر رجے ہہوئے
معاملات و نضرفال تکرے ممبیں الد تال نے انسانیت کے لیے باحعث
رہمت و سعاوت بتایا ے“ جو ان مل پیا ہوا وہ بداعت باب اور
کامیاب ہوا اور ہنس نے ا نکی مخالش تک وہ بد بکشت و برباد ہوا ٴاسی سے
ال تمالی نے زن اواطتٴ خو نشی اور ای کی لبق میں تد گ یکر ےکو
تی سے عرام قرار دیا ے۔

جماں تک ناشن ترشوانے موک ھ کنزوانے زرر ناف علقکمر نے
نل کے بال صا فکرنے اور خقن ہکراتے کا تلق سے و وہ اس لیے
نجام دیتا ےک الد تھالی نے اس کےکرنے کا عم فرمایا ے۔

الام نے مسلمائو ںکو الد کے دشھنوں سے الن چتزوں میس مشمابست

۴۳۲

öööööö 144 öööööö
انا رکرنے سے منع فرمایا سے جو ا نکی خحصوصات کے پیل ے ہوں'
کیوککمہ ظاہری طور یر تتخبہ ے پطنی طور بر تلق اور لطمی محبت بیدا ہو
اتی سے اور اللہ تعالی ایک ملمان سے ہہ اتا ےکہ وہ کیج اسلائی لگر
و نظ رکا یع ہو“ مسنوروازسالی افکار و نظریات کا مخزن نہ ہوٴ/اسی رح وہ
دو روں کے لیے تیگ نون ہو ان کامقلر ٹہ ہو۔

ای طرح اسلام نے مسلانوںکومضحی تقیرو تزتی اور ٹنی ایا و
اختزاع اور اعلی علوم و فون کے حاص لکرنے کا عم دا سے اور بر
مسلسوں سے بھی استتفادہکرنے اور کین می ںکوٹی مضا تہ یں رکھا
سے مک کہ الد تھالی بی انمان کا مل خھیقی سے۔

چناکہ ارغمارے :

ط ع انل ما لریعہ اض :۵

انسا نکو وہ ماتیں سکھا مس جو وہ خبیں جاہا تھا۔

اور انما نکی انفرادکی آزادی سے فائمدہ اٹھانے ‏ اس ک یکراص تکو
تفوبز ر کے اور خوداس کے اور دوصمروں کے رس بھانے میں انسان
کی اصلاج اور خ رخوازی کا ىہ سب سے اع مقام سے۔
(دا رنائھی آزادی : اللہ تحالی نے ملا نک وکح کے انعدر رت ے کے
وت آزاد رکھا سے“ چنانحیہ سی ووصرے تخو سکو بخی را سکی اجازت کے

۴۵

öööööö 145 öööööö
گمرمیں بچھاکنے یا داٹل ہون ےکی اجازت نیں ہے۔
(ھ) معائی آزادی : الد تحالی مسلمانو ںکو ماش محاشش اور اس کے
نغخاقی کے سلسلہ میں حعھرقی عددد کے اندر رج ہوئے آزار رکھا ے'
چنانچہ اسے کا مکمرنے “ مائے' اور حنت ومزدور یکرنے کا عم دا سے
مہ انی اور اپنے ائل وعیال کی کال کر کے“ مزید بھآں رو اسان
کے راست میں خر خکرے ‏ بامیں ہمہ دو ری جانب مرا کاٹ ی جیے سور
جوا“ رشوت“ جوری جادو ٹونا کی ارت“ شراب فروگی“ زناٴ اواطت'
جانرار کی فو وگر اق آلات لمو و اع ب کی کائی اور رس و صرود سے
وا لکررہ مام رقومات اور مال و رول تکو تام قرار دا سے اور مس
طرح ان راستوں سےکانا ترا مکیاسہے اسی طرح ان راستوں میں حاون
کرنا بھی مترام ایا ے“ اے ا ایک مسلمان کے لیے ضروری ےکم وہ
صرف کار خی راور جائز حرف میں تخری عکرے۔

اور یہ انسان کے لیے کمانے اور تخری کرنے کے معالمہ مل براہیت و
خر خوای اور اصلاح کا سب سے اعلی درجہ ہے“ )کہ علال کاٹی کے
زریجہ وہ مالرار ہوک خوشحال زندگیگزار ے۔

)

öööööö 146 öööööö
(۹) الام کاعا کی نظام :

ال تعاٹیٰ نے اسلائی شریجت میس ناندالٰی نظا مکو خ رصعموٹی خوبیوں
کے سراتھ مرتب و منظحم فریادیا ہے“ اور وہ اایماجائع اور محمل سے بس
تل پچرا ہوئے والوں کو ہر رح کی راحت اور سعارت عاعمل ہو ی
ہے چنا نیہ اس کے مندرجہ ذسل اصول واموریں :
)) والین کے جخوق ۱

ال تعاٹی نے ہر مسلمان مد و عورت پر والدین کے ساجھ جن
سلوک اور ان کی ندمت و اطاعت ضروری زار وا ے“ بالہ وہ ان
سے راضی اور خوش رہیں“ کیونلہ ان کی خوشنودی الد تا ی کی

پوشنووری ے۔
ای رح والدین سے دور رپ والے کے لے ا نکی برابر زارت
کنا ا نکی غرم تکرنا اور ضرورحنر ہوں پو ان کا نان و لفقہ اورا
کرنااور رباش روب مکنا صرو ری قرار دیا سے“ اور ال اکرنے والوں کے
لے ات و نوا ب کاوعدہ فرمایا ے۔
یش اللہ تال نے ان لڑکو ںکوعزاب و عقاب کا سفق تا سے
جو والد ین کی نافرما یکرت اور ا نکی مت اور ضرد ریو ت کی فرا بی

لس :- انی رت وے۔
ے ‎۱١۴‏

öööööö 147 öööööö
(ے) زوین کے مخ وق الل انی نے نیاں مرو فرمایا
ہے اور ا سکی مت خود قرآ نکریم میں اور نچ ی٤ک‏ ریم صی اش علیہ
وس مکی زبان مارک سے بیان اور واج فباگی ہے ننس میں چند
مندرجہ زل یں :

ناج سے عفت اور حصمم تکی زندگی ذحیب ہوتی ے۔

تام کاری اور بد ضعلی (زن؟ لواطت) سے انسان تفوی رتا١ارے۔‏
بد لگاہی سے انان تفوظ رتا ے۔

نیا کے بعد رد و عورت دونوں کو سکون و اع مان مل
ہو ا سے “کی وکلہ ال تمالی نے زوجین کے ورمیان الفت و محبت ری
ےے۔

ج

-- ملمانو ں کی داد میں اضافہ ہوا سے اور ایک پاکیزہ محاشرہ

ا

وتور یں ‎٦‏ ے۔

- ازرواگی زن دی سے زوین یں می کار ہو جا ے' چتاک
مد غاری ائمال او رکب متا کازمہ دار ہوا سے اور عورت وا
امور اور تل و ولادت مو ںکی رضاععت ترمیتٴ صفائی تفم کی“ کھانا
پکانے ویرہ جیسے امو رکی ذمہ دار ہوٹی سے۔ چنانحیہ جب شو ہر ترکا مائرہ

۳۴۸

öööööö 148 öööööö
گر میس داخل ہو سے نوبیوی اس کے لے اباب راحت اور
طمانینت فراہ مکرتی ہے اور وہ اپنے ائل و عیال سے ممرت و اشمھدنان
سو ںکر] سے اور ساری "کان اور پھوم و گموم بھول جا ما سے ' اور
اس طرح وگنہ مرور و مٹمشن نظ رآ ہے۔

اگ رکوگی موزوں اور مناسب موبحع و عل ہو تو عورت کے لیے کام
کرنا او رکرو اخراجات میس خوہ رکا ماھ بٹاناجائز سے “مان اس کے لیے
مندررج ذیل چند رٹ یں .
اول : عور تکی جاۓ مل مردوں سے الک تحلک ہو اس طور ےر
کہ بای اختلاط نہ بایا جاے' جیسے اپنے مر کے اندر یا اپنے می با با
شوہ ر کے کسی فارم وغیرہ میس جماں پالقل اختاط نہ ہوٴ اور جماں اخضّاء
ہو جیسے کارخمانے دکانئیں' وفاتر' نو اڑىی جسوں بر قطع سے کا مکھرنے
کی اعازت یں اور ای کے شوہریا وال من او رت دارو ںکو تی
ےکلہ اس کی اعازت وس کی وکملہ ہہ خود مت میں بڑے اور دو سروں
کو اس میں ملا ککرنے اور بورے معاشمرے میں فماد برا کرنے کے
تراوف ہے۔

مو رت جب تک ا کعھممیں کفو ا اور روہ یں اور اک و
۰۹

öööööö 149 öööööö
امان میں رٹئی ے'" ال وشّت تل ب ركت وست درازی کی ں کر یاتے
اور گہگار اشخائص برہاہی نہیں کر گت میگن اس کے برع جب
عورت لوگوں کے ورمیان نل کی سے تو انا بھتی سریلی عفت و
حصرت کھو ٹبکھتی سے اور اس بر ی کی طرح ہو جاٹی سے جو درنروں
کے ورمیان یچس جائے' پیل رکھوڑی بی وب میں ا سں کی شرافت اور
کرات کے نے ہانے نار مار ہو جاتے مہ اور وہ پرہنت افراد الں
کی ععزت و آبر وکو ماک میں لا وت ہں۔

öööööö 150 öööööö
(رع) لعرد زوجات : ‎٣‏

اسلام نے تد زوجا کی اجازت دی ہے اگ رکوئی خنس ایک
عورت پر اکتفا ن ہکرنا چاہتا ہو فو اللہ نحاٰی نے ا سک چار شادلوں ت ککی
اجازت ھجحمت فذرالی سے “بش رہ ان کے مائین نان و نفقہ ‎٠‏ رہائش اور
ش بگاری میس عدل و انصاف سے کام لے “اور جماں کک لٹی محبت
اور لاو کا معلقی ہے و اس میس عدل حرط نیس ہ ےکیوککمہ یہ انان کے
سکی جات نیس دہ اس میس مور ہے ' اور اس عدل بر قررت ر کے
کی اللد تالی نے اپینے اس ارشا گرا بی یس فی فرباکی سے ‎٠‏

وَلَن سخطیعوا ان تد لوا بن النسا وَلو

ےه ات (الضہاء ‎)٤۹ ٠:‏

ور سے ہق ہو یں کاکہ ت یں کے درمیان ور

ورا)عد لکرو خواہ عم ا کی (کیسی بی خوائنش رھت ہو۔

وہ عرل حبت اور اس کے وازمات مس جس میں عدل کاعرم
تصول قائل نزمت نیس سے جو تعدد زوجات کے لیے ضروری سے
کی ونکمہ انسان الس بر تقادر سمیں ہسے۔

اد تعالی نے امیا کرام کے لیے مرو زوجا ٹکو مضروع فرمایا خھا اور
ہہ مرو یت ہر ا٣‏ س حخس کے لیے سے جو عدل ٹین النروجام تکرن ےکی

۱

öööööö 151 öööööö
استطاعت رکتا ہو وکلہ اللہ تمائی مردوں اور عورنوں کے ماخ اور
ان کے مزاع و مرائی سے سب سے زیادہ والف ہے اور ان کے ب
عال احکام نازل فا ہے چنانچہ ایک باصحت اور کیم الفطرت تخس
تقی تی طاقت و صلاحت رتا کہ وہ جار عورنو ںکو بیک وقت رک
کے اور ا نکو فت و عصصت سے مکزا رک کے “اکر عیساتیوں ا کے
نر ہب کے مطاقن ایک بیوبی تک ازدواتی زنرگ یکو محروو و محصو رکر وا
جاۓ جس کا مض نام نماد مسلمان بھی لعہ بلن کر رہے ہیں ناس سے
منررچہ زل مفاہد رونمانہوں کے :

اول : اک رکوئی تخصس موسن صاوق اور شنی وب ہی زکار ہو ناس تقانون
اداد امندکیکی وجہ سے اپینے آ پکو نر رے مالس اور تھروم تقو رککرے
گا اوراپی جائز خواہشما تکو دہانے اور مکرنے پر مجبور ہوا کی وککمہ ایک
وبی انی سوانی تکی وجہ سے لف عالات سے دو چار ہوٹی سے جیے
تل تی و نغاس اور عرض ونی ,نس میں شوہ ری تعحلقات تقائم
یی کر رکھ سکتا و اس دوران وہ ات ےکو حجیدہ اور بخیر بیو ی کے تصور
کر سا ہے ىہ اس صورت میں ہے ج بکہ دی اسے ند ہو اور

0 حخرت یی علیہ ااعلا مکی شریعت میں لعدد زوجات شع نیس تھا یہ بعد کے

ییمانیوں کا تو سان قالون ہے۔
۳

 

öööööö 152 öööööö
دونوں کے ورمیان عحبت و الفت قائم ہو مین اگ اسے ای سے زیادہ
محبت و لک نہ ہو نو ان ایام میں مزید وش اور ذەٹی انمشار و نا کاشکار
ہو جا ہے۔
دوم : اگ رکوگی تخس ارد تال کانافریان اور ائن ہو پے ان حالات یل
دا ضام تکمرے کا اور وی کو نظ انرا زکرے ہو ے زناکاری کے
بیان کف گناہ کا ا رخعل بکر ٹیش گا بہت سے وہ لوگ جو رو زوجات پر
لے جوڑے احتراضا تکمرے 2:7 اور عورنوں کے مم وق کے لم ردار
نظ رآتے ہیں' دو انی ذاٹی زندگی میس زناکاری و ای کے خی رمحرود جرام
میں عموث ہوتے میں" اور اس سے تھی خطرناک بات ہہ ےکلہ لعدو
زوعا تکی محخالض تکرنے والا اور ا کی مشروعحی تکو جات ہو گلنہ
من یکرنے والاکافرشار ہوگا۔
سوم : تعدر زوعات کی ممالمعت سے معاشرہ کی بے ار و ر میں
ازدواتی زندگی اور ایل وعیال کی نقت سے محروم ہو جامی ں گی چنانچہ
اک خفت پند اور ماکزہ اون بین اور وہ ہوکر زندگی سر ےکی
بکہ دوصری طرف تق و ہو رکی ولدادہ دوشیٹرہ جرائم یشہ افراد کے
سا تھے وا ول ورےگی۔

یھی او ہہ ککوں جات یں کہ دنا کے پر دور میں مورتوں کی

خ۳

öööööö 153 öööööö
داد مردوں سے زیادہ ری ہے کی وکمہ مردبی جنگوں میں کام آتے ہیں
اور نلاشش معاش میں لف خطرات سے دوچار ہوکر موت کے آنحوشش
اش جے جاتے ہیں اسی طرح سب لوگ بہ بھی جاسنت ہی ںکہ عورت
ال ہونے کے فو را بعد شادبی کے تقائل ہو جاتی سے مین بہت سے رد
ا ہونے کے ٹور بعر ازدواگی زندگ یکی زمہ دارہوں کے سیا نل ےکی
بات و استطاعت میں رت کی وکلہ ان کے ذمہ ممراور بیوی کے
اتاجات ہوئے ہں۔

ان کورہ وتوبات سے تتوٹی انرازہ ہو جا 8ا ےک اسلام نے عورت
کے ساجچھھ انصاف اور اس سر رح مکیاے۔

ہو لوک جائز تعدر زوجات کی محخالفت کرت مں وہ و ر فیقت
عورنوں کے اخما گرا مکی حنت کے اور شرف و فضیلت کے دن
ہیس مک مہ امیا کرام نے بھی متعدد شمادیا ںکی ہیں اور شرگی صدود کے
اتزر اعرر زوجا تکو اپایا ہے۔

ری م اور یر تکی بات جو دو سربی ویوبی کے آن ےکی صصورت میں
لی بیوی سو سںکرکی سے فو مہ ایک جذبالی بات ہے“ اسے ایک شرقی
عم بر مقدم خی ںکیا جا علتا ال يہ ہو سلتا ےکمہ عورت شادی سے

یل ان ہونے والے شوہر سے ہہ حرط لگا ےکلہ اس کے ہہوتے
۴"

öööööö 154 öööööö
ہوئے وہ دو ری مشمادبی می ںکرے گاٗ اور اس شر طکو قو یکر لیے کے
بعد شوہ رکو ا سکی پاہند یکرٹی ہوگی مین اس کے باوجود اکر وہ دو سرئی
اد یکرنا چاے نے بھی بیو یکو یہ افقیار ہوگاکہ چاہے فو ا کی زوحیت
یس رے اور جا فو مکاح حکرا نے اور اس صصورت میں یوب یکو دٹی
ہوک ی کسی بھی نز کے والیں لیے کاکوکی عم شوہ رکو میں ہوک

(ر) طلاثی کی اعازت :

اید تتحالی نے طلا یکی احجازت دی سے“ اور ا سکی مرو عحیت اور تواز

ان گر عالات یں ے جب زوین کے مان اخلاف شر بر ہوجاہلۓ'
اور مزاح م سکوٹی مناسبت نہ ای جاے اور الشت و عحبت سخ ہوجاۓے
اور ہابھی ہاو یکوکی کنیائض باتی نہ رے“ چنانچہ ان کفعنہ ہہ عالات م٘س
دونو ںکو پد سی سے بیانے کے سییے اسلام نے ىہ احجازت ھرحمت فرمائی
ےکلہ زوین نو اسلوبی سے الک ہو جا میس مہ
یھی حرف حا ت کا ا جقا بک رکے دنیاکی ‎٦‏ ۶تس

اور دونوں کا اکر اسلام بر ناضمر ہوا ہو لو آخرت یل 2 یس و

(۱

ہعارت سے ہار بہوں -

سے جھ مر
)۱ مہ ن کور ت کو نے النہ راب ؛ اب کے بعر نت پر را

ےس چھ
و ى_ سج ظر سح ا

٥ث‎

 

öööööö 155 öööööö
() اسلا مکافظام خفظان مت :

اسلائی شریعت نے خمام زرس ٹی اصول و وارط جا دی +ں'
نانچہ قرآ نکریم نے اور نی صلی اللہ علیہ وسعم نے بت سی اعادیثٹ
میس نسیاتی اور جسمالی اھر کی شتخیص اور اس کے مادی اور روعالیٰ
لا جکا ریہ مان ٹمایا ے۔

اللہ تھالی کا ارشمارے :

سے پر سر سو سس ج مرگ لی مک

ونازل من الشرےء ان ماھو شْفاء ورمۂة لِلموٌ
امم ۸۸۳۲
اور بھم خرن میس اڑسی یں ناز لکرتے ہیں جو ایمان والوں کے
میں شفااور رمت ہیں۔
رسول اللد صلی اللہ علیہ وس مکاارشمادے :
”ال تتحالی ج بکولی بیاری ناز ل کر ٰے و اس کے سائتھ اس کا
لا بھی نازل فرما سے نے یج لوک ا سکی مرفت حاص ل کر

7 سلمان جلقی مردوں سے شناد یکرنے اوران کے اسحقاب کاا مار دیرے گانذ ونس سے
ا ےکی تماد یکر ےکی اور وہ عورت ں کے دنیائٹیس کے بعد ویکرے مورو شوہ
رہے ہو ں لو ان جس سے اس کادنیامیس سب سے توب شو ہرجضت میں اس کا شوہ رہہ وکا
شرطہ وہ تی ہو۔

٦

 

öööööö 156 öööööö
لے جس اور یجھھ لوگ اس سے ناوا نف رت ہیں''

الیک دو سربی عحدیث میں ارشادے :

ٹعاے اللد کے بندرو ! علاج معال ہکیاکر و“ اور جردار ! ۱7ا“

بیڑوں سے علااحج نہک یاکرو''

امام این یھ رہ اللد- نے انی کراب ”زار المعاو میں طب نبوی
کے موضوع مر تفصیل سے روش ڈای ے' ا سکاب کا مطالعہ کرنا
این “ک کہ اسلام اور ماتم ام ملین مجر صلی ادند علیہ وس مکی سبرت
کے بیان میں ہہ جائع ترین' جج اور مفید تر نکتابوں یش سے ہے
() اسلام کا معائی ظام :

اسلام ے انسالی ضروریات کاخال رکھتے ہو ان ام نزو ں کی
ول وضاح کر دی سے ج ایک شف سکو انی شمربی زندگی کے لیے
ریش ہوتی ہیں یے دای اشیا وک فراصی' غیت عبانم و مق
ادارمی وج بی امورکی ترضیب؛ كفل و تل کے وساتئل کا ہنروست'
تجارتی معاملات کے اصول و ضوایا ‎٠‏ صتصعمی احکام کے اسباب کا اننام
اور زرائشن تر اور خودلفاات کے افرامات و عولہ اور ج ربازاری کا
سد جاب اور اس خی ویر محاعطات مہ یکی ایگ انسا نکو ضرورت ہو تی

سے۔

۰

٥۵ ‏ے‎

öööööö 157 öööööö
(۲) دشھنوں ے حفاظت کا طرلتہ :

لل تھاٹی نے قرآ نکریم میں مسلمانوں کے دجو ںکی نشاند یکر
دی ہے جو ان کے دی و دنیادی ہلاکت کے سب نے ہیں چنائمچہ ان
سے ۓچچے اور ان کے شروفتن سے حفوظط رب کا طریقہ بیان فرمادیا ہے
اورو دش ہیں
ومن اول : حشحیطان لن سے جو انسان کا اولیشن عاسد اور وحن ے
ودی دوسرے سارے وشتو ںکو انسان کے خلاف اکسا اور بھڑکا سے
اور اسی نے ہمارے ماں باپ حخرت آوم و و اکو جنت سے موایا اور
قیامت تک ا نکی ذریت کا دای سن بویا یہ ری جامفغالٰی سے یہ
کو شس کر سےکہ انسا نکو بکاک۷ رکفرو شرک میس متا کر دے الہ
نوز ہار وہ اس کے ساتہ جخم میں جاتیں' اور جو خخص اس کے کفرو
شرک میس نی پچھفتا ے ا ےمگمناہوں اور برائیوں کے ومدل می وا لے
ک یکو لک را سے ماک دہ الد تعال کی ناراضلی اور عذاب و عقاب سے
دو چار ہو شیطان رام الیی محخلوقی سے جو انسان کے رک و بے میں
دوڑ] اور اث انراز ہو ے؟ اس کو وسوسوں میں ظا کر سے اور
برائیو ںکی یع ساز یک رکے خوشفا انداز میس یی کر سے ماک انسان
وع وک کھا ہت ' حیطان ک ےکر وخھر سے نے اور تفوط ربج کا طریتہ

۵۸

öööööö 158 öööööö
یہ ہے جعیساکہ الد تالی نے خود بیان فرمایا سے “کہ ج بکوٹی مسلمان
حصہ میں آے اس ی گناہ کا اراو ہمکرے و "عو بالله من الشغیطان
الرجیےم" (یں شطان ریم سے الل کی پناہ چاہتا ہوں) کے اور غصہ ‏
مل او رگناہکاا رقاب ن ہککرے “اور ہہ جج ےکلہ ا گناہ بر آماوہدکرنے
والا اس کا ازٹی وین حیطان ر جم ہے جو ا کی لات کے دربے سے
راس سے انی براحوت و لفرت کا ا نما رکرے۔
الد نما یکا ارشمارے :
لیکودوا من اب السَمبر ہ (فاطر : ‎)٦‏
‏بنقک ہہ حیطان تممارا دن سے “سو تم اسے وحن بی مھت
رہو وہ تو ات گرو کو حض اس لیے بلان ہ ےکہ وہ لوک
دوزخیوں میں سے ہو جا ھیں۔
ون ووم : نفمالی خواہشات ہیں ہش نکی بنا یر انمان جن کا انکر اور
ا سکو مستز وکرنے پر آمادہ ہو ماے اوران ی نواہشیات فسما لی کے غااف
احکام لی اور ریت الا می کو تھی مستر ور وت سے" ربا تکو جن و
اصاف ي تر نج وینا بھی فسالی خواہشمات میں سے سے-
بنانچہ اس رین سے حفاظت اور مجات کا طریقہ ہہ ہہ ےکم ابا

۵۹

öööööö 159 öööööö
سے اللہ تال کی بناہ طل بکرے اور ففسالی خواہشا تکی پروی نہ
کرے“ بللہ بن اور ہرابی کو قجو لکمرے اور اس کے تقافضوں پر مل
بجر ہو اگ رج امش گی اور وخوارگی سو سکرے نیز شخیطان سے
ان د گی ہناہ طل بکرے۔

ون سوم : ننس مارہ ہے جو انسا نکو جیشہ پرائیوں بر اکسا اور

آماد ہ۸ ے۔
بھی بھی انان اسینے دل میں جو ناجائز خواہشمات پا ہے تم
زناکاری ما شراب نوشی با جلاع ر رمضا نکا روزہ نہ ر کے با اس جیلے ومگر
گنا کی خوا ہش جنیں اود نے رام قرار دا ہے“ مہ سب اسی ٹس امارہ
گی جانب سے ہوا ہے۔
اس جھے ہوۓ دن کے کرو فریب سے پچھککارا حاص ل کرنے کا
طریقہ ہہ ےکہ بندہ ات لفس اور حیطان کے شرو ہن سے الد تعالی
کی پناہ طل بکرے اور ان ترا م کردہ مسوالی چیزوں کے ا راب سے
ہبی زکرے اور رضاۓ ال,ھی کے یی اظرا نکناہوں سے عمل اعراس
کرے نس طرح خوا ہش کے باوجود نتصان دہ چچڑوں کےکھانے نے
سے پ ہی کر ہے اور یہ ذنئن میں رج ھےکہ ىہ ناجائز نواہشات خنقریب
زا ہو جا سکی اور اس کے بعر صرت اور سنتعل ندامت سے دو چار

٦۰

öööööö 160 öööööö
ہونا ڈڑے گا۔
دنن چمارم : انمان نما شیطان ہیں اور ہہ وہ گار لوگ ہیں
توشیطان رم کے ہل کار اور اس کے بروگار ہیں“ جو گناہہوں کے
پیر وکار ہیں اور اپنے ہم شینو ںکو ا یکی دعوت دپتے ہیں چنانچہ ا نکی
اس سے دور اور بر طزر رہکر شرد فی سے حفوظط ربا جا سک ے۔
۳ مسلرا ن کا مقر حیات :

وہ اع اور شنیم الشان اخراض و متقاصد جن کے لیے اللہ تال نے
حخرت السا نکو بیدا فرمایا ہے دہ دنیاکی زوال یڑ سہ زیب و زیت اور ال
میں عیش و عشرت نییں بللہ اس میتی اور چیشہ میٹ ہائی اور تقائم و دائم
رن وانے تی لک متجاری سے جو مر ہے کے بعد اصیب ہہوگا سے جم
آخر تک زندگیکتے ہیں۔

نان ایک سا وب کامسلمان دنیوی زندگ یکو اخروی زندگی تک کن کا
وسیلہ اور ا سکی بھیتی تو رکر سے اور ا سکو ہزات خوو مقصور حقی
نیس ھت وہ اللہ تعالی کے اس ار شا وگراب یکو پیش نظ ررکماے ‎٠‏
‏وما خلت ان وَالاضی الا لِعَمُدُون 4 (الذاریات : ۵۰)

یس نے جنات اور انسا نکو حدابی اسی خر سس ےکیا ےک وہ

مب ری عبار تکمریں۔

تھ

öööööö 161 öööööö
نَ٭

(انشم : ‎)٣۰-٠۸‏
‏اے ابان والو ! اللد سے ڈرتے رہو اور ہ تخس کچھ لےکہ
ا نے کیل کے واسل کیا جھیچا ے“ اور اللہ سے ور ۓے رہوٴ
مک اش ر کو تممارے اعمال کی ری رے؟ ادر ان لوگو ں کی
طرح نہ ہو جا جنوں نے ال کو چھلا دا سو الہ نے خود ا نکی
جانو ںکو ان سے کھلا دیا“ بی لوک فو نافریان ہیں“ اٹل دوزخ اور
ال جضت برابر خی ہو سکت ٴ ایل جنت ‏ و کاصیاب لوگ ہیں۔
دو سی علہ ارشمارے :

کن بصعَل ممُقتال دَرَوْ خَیرا مم 2ر) وُکن
2-0 .. (الزازلہ : ے۸۶)
سوج وکوئی ذرہ بجھ بھی کٹ یکر ےکا اسے دکچھ لے کا اور نت سی

۳

öööööö 162 öööööö
نے ذدہ بل ربھی بد یکی گی اسے بھی دک لے گا۔

مون صاوق ان جلیی تام آوں بر خور وگ کر سے مجن یس اللہ
تمالی نے انسا نکی سانش کے اغخراض و مقاصد بیان فرراۓ میس اور ا
کے میتی مستقفیں وور اصکی ھرکان ےکی طرف توجہ دلاکی سے جو اس کے
نظ ہیں چنانچہ مر مومن اس جئیقی ستتخب لکی تیاری میس ال تال یکی
عبات اور ا کی عرضیات پر لن یں مصروف ہو جا ہے ماک دنیایس
رضاے ای اور آخرت میں جن ت کا مین ہو “چناضیہ اللہ تھالی ا سکو دنا
یس اظمینان ہخشی زیدگی تی بکر ا ہے دہ ال کی تفاظت میں ربتا اور
ار کے ور سے وط اور ال کی عیادات و مناجات ے لطف ایروز ہوا
سے اور الد کے ذکر سے اسیے ول و دبا غعکو تغویت جا سے لوکوں کے
سار صن سلوک سے بین آ سے و لوکو ںکی نیک تھمناوں اور دٹی
دعاوں سے مرف ہو سے جس سے ا سکو مزید وی اور انتشراح لب
عائل ہو اے۔

دو سی طرف ہعتض لوگو ںکی جانب سے اسان فراموشی بت سے تو
ھی وہ اٹ یکرم فماکئی سے باز ہیں آن “کی ھمکہ اس کا مقصد رضاۓ ای
اور اتر و ڈو اب کا تصول ہو سے اسی طرح مض اسلام دشتو ںکو
یھنا ےکہ وہ ا کا خراقی اڑا رہ ہیں اور اس کے درپے آزار میں لو

و

öööööö 163 öööööö
اس اخویا کرام کی سنت تصمو رکا ہے اور اسلام سے محبت اور سنت و
تراجت بر احنققامت میں مزید اضافہ ہو جانا ہے اسی طرح رد مومن
کسب علال کے بئیے حعنت و مشقم تکرتا ہے“ چنانچہ دہ فتزیا دکان با
کارخمانے ما جھیتی باڑی میں بوری نت اور جسوگی سے کا مک را سے کہ
ا اشاح سے الام اور مسلمانوں کو فائرہ باٹیلۓ' اور قیامت کے
دن اپنے اغلاصص اور نیک تی پر اج و نواب کا ئن ہوٴ اور اس سے
اپنے ابل و عیال کی کفال ت کرے اور مقراء و ماکان بر خیرات و
صد بات کرے اور اس طرح سے شریفانہ اور تاععت و بے ناز یی کی
زندگی گی ارے “کی وہ ال نھای کے پیہاں توی اور کام ککرتے والا
لئ زیارہ پندیرہ ے۔

سی رح وہ ضول خرتی کے خی رکھا پا اور سا سے الہ اللہ
تال ی کی عبات کے لیے حوت عاص لم رے ‏ وہ ابی بیوی سے متا سے
الہ اسے اور اتنے آ پکو بھی حرمات سے مفوظ ر کے اور ای اولاد
برا کرے جو اللہ تعالی کی عبات و اطاعح ت کی“ اور اس کے لیے
صرثہ جاریہ ہہول“ اور امت ریہ ٹل اضافہ ہو اور ال ط رر وہ یر الله
ا و وا کا سزاوار ہو-

مسلمان الد تا کی دی ہوئی لقت کا شر اد اکر سے اور اس سے

1ّ

öööööö 164 öööööö
عحباات میں نقویت حاص ل کر ا سے اور سے صرف اللہ تعالی کا تخل
وکرم تو رکر] سے ٹس سر ا کو مزید _حقت دی جالی ہے اور ابر و
اواب سے ک ‏ مکنار ہوا ے۔

دوسرکی طرف جب ا سک وکوگی معیبت کچ سے تی قرو فاقہ ‏
توف و عرضس وغیہ و وہ اے اللہ تعالی کی طرف سے انی آزمائنش
کھت ہے کہ اللہ تال قضاد فنرر بر اس کے صبرو رضاکی صلاحیت دک
لے عال امہ اللہ تحالی ان خمام چیزوں سے پاخیرسے “'۔

نانیہ مرد موصن صحب کر سے اور رضاے ال یکو پر نظھر رک کر الہ
تما یق کی مر وش کر ہے“ ماکہ اس اج و واب کا من ہو جاۓ جو اللہ
تعالی نے صابرن کے لیے رکھا سے اور اس طرح سے معیبت اس کے
لیے آسان ہو جاٹی سے اور ا سکو وہ بڑئی خندہ بشالی سے کیل جا سے
جن طر نکوئی مریش سج دوا شفا کے حصول کے پیش نظ رو شکر تا

ہے۔

4

(ا) الش تال ات ہنرو ںکو امرو سی کے ذرکہ مکل فک را سے حالا تمہ وہ جاٹتا ےون
اطاعح ت گار سے او رکون گوکگار سے کہ ىہ عم ظاہرہو جائۓ اور ان کے ‎٣‏ کے
ملق بدلہ دے او رگنگار می نہ ک ےکہ الد نے خی گناو کے جھ کو زا و ےک رق کیا سے '
اکر لا یکا ار شمارے:؛*وماریکٹ بظلام للعبید

٦ف‎

 

öööööö 165 öööööö
اک رکوئی مردموین انی زندگ یکو اس بی بر ڈھال نے جس مطح اللہ
تی نے الیم دی ہے اور م یکریم صلی ال علیہ و نے اپے قول و
نل ے وا فرھاا ے و وہ جات سعرہ' ' سے مرف ہو جاے کا
ےکولی ھی کمدر خی ںکر س ےکی اور نہ موت بی اس سے منقطعمکرے
گیاو ریقیناوم ہعارت دار نی ے مکنار ہوا

اللہ تال یکاارشمارے :

٭ بَلیَ ادا ر الْكَخرةٌ عمَلها لِلِنَ لا برِیدونَ عُلوا فی

اض ولا فسادا وَلَقبة تین ۹ وص , ۸۳)

بی عائم آخرت لو چم انیس لوگوں کے لیے خخائ سکم وین ہیں و

نشین پر نہ بڑا بنا اج ہیں نہ فمار کرنا اور انجام (نیک) 9

مسیوں بی کا( صہ.) ے۔

مزیدر ڈیا :

لإ من عَيلَ مک جن کر آد و نی وھر موم

کر سے ہپ سس6 لِِ کے ا 27 ے727 سَهم أَجرهم بأَحَسنْ
ے×ح مم مم مر ہے
ارام ڑ6 (افل : ے۹

نیک معل جوکوکی بج یکرے گا مرد ہو یا عورت بش رطیلہ صاحب
یمان ہو لے ہم اسے ضردر ایک پاکیوزہ زندگی عطاکریں کے اور ھم

٦

öööööö 166 öööööö
انیس ان کے اھ کاموں کے عوض میں ضرور ابر وس کے۔
آحی تکری کی ش0 :

اس آی تکریہ میں اور اس شی نھام آیات میں الد تال ی ہے بتاتا
اتا ےکہ وہ المان صا حعکو خواہ وہ مرد ہو یا عحورت ان قمام اعخمال صا
ہر مرن صلہ اور اج و ٹواب دے گا جو اس کے عضیات کے تصول
کے س کیا جاہے اور ىہ صلہ الد تمالی دنا ٹیش پاسعاوت زندگی عطا
کر کے دے وا سے اور ارت میں جن کی متوں سے جوکہ پیش
پیش کے سے ہیں ان سے سرفراز فرہا گا

چان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرہات ہیں :

موم ن کا محاممہ ثجیب و خریب طور بر ترہی جرسے؟اگر اسے

خوش کن بات کی سے تو جک اداکربا ہے جو اس کے ہے

اعت خرہو ا سے“ اور اگر اس ےکوئی محیبت ‏ چچتی سے لو عبر

کر ہے جو اس کے لیے باععت خ ہو سے''

پرکورہ تفعبیلات سے ہہ اندازہ ہوا ےکہ اسسلام بی وہ داصر نر ہب
سے جو کر سلیعم کا عمبردار اور انڈئھے ادر ہرے کا سا معیار ے' اور وہ
مل اور معنترل دحتور حیات ہے اور اس کے علاوہ تمام سیاسی و معائی

٦١ ‏ے‎

öööööö 167 öööööö
و متاشرکی اور ریت ی نظام حیات نا ٹس اور ناکم ہیں" اور ان مام نظاموں
کو اسلائ یمسوٹی سر ےکنا اور ا سيکی روشتی میں ا نکی تچ جکرنا چا اور
ہارے اصول و ضوایا اور وستور وگ حکرنے اور اخقیا رکرنے سے بی لے
ان کا سر چشمہ اسلا مک بنانا چا یی اس کے بی راس وستو رکی کامیالی
اکن اور عحال ہے“ بلکہ ابنانے والوں کے لیے ونیاو آخخر تکی یك کا
بب بھی ہے۔

öööööö 168 öööööö
٠

یں صکل

چو یر

قض خرات کا ازالہ :
0 اسلا مکو نتصان بانیانے وانے لوگ دو شم کے ہیں :
27 : یہ وہ لوگ ہیں جو ا ے کو مسلمان کھت ہیں اور اسلائی
برادربی میں شال ہوئے کے دوڑے 7ٹ اثوال واعمال
سے اسلا مکی مخالف تکرتے ہیں اور اڑسی بدائمالیوں کے شکار ہس جن کا
الام سے او بھی تی ید ہہت ہرکز الام کے
مائھرے نمی ہیں اور نہ اسلا مکی طرف ان کا اغسماب درسہٹث سے"
اد را نکی بھی چند میں ہیں :
() فسماو عقیرہ کے شکار :

وہ لوگ جو عقیدرہ میس فسا دکی وجہ سے قیروں کا طوا فکرتے ہیں
اور صاحب بمرے عاجحت رواٹ ی کی در خواس تکرتے ہیں اور ان کے
فع و نقتصان بنئیانے کااعنقاد رکتے ہیں۔

1۹

öööööö 169 öööööö
(ب) ھ7 :

‎ - 0‏ 7 فر اش اور
واضبات کو پچھوڑتے ہیں اور حریات اور ممنوعات کا ا رکا ب کرت
ہوئۓ شراب وی زنکاریٴ وغیر در ہس" اور وتَمان الام سے
محبت و وت رھت ہس اور ان سے مشابمت انقیا رکرتے اور ان کی
تقلی کرت ہیں۔
() اتحمال یس کو انی کے شکار :

‏وہ لوگ بن کے عتقائٴ ھرنردر ہیں اور اسلامی لمات ے وہ و ری
رح مل با یں ہیں اور مض واضبات کے با آوری می ںکو بای
کرت ہیں؟ لیکن عمل طور بر نظ رانداز نہی ںکرتے ٴ سی طرح مض
یے عبات کے تب ہو جات ہی جکفر شرک تک نہیں ہاج
اور بش ری عادنوں کے شکار ہوتے ہیں جمیں اسلام نے ھرام قرار دیا
ہے' ملا دعوکہ دی نوعدہ غلائی تقر و صمد وید نو ایا تنس بھی اسلام
کو ارادگی اور غیرارادی عطور پر نقتصان بنا سے مکی کہ اسلابی تحلیات
سے ماوافف غی رسلم ىہ سجھتا ہ ےکہ اسلام ان برائو ںکی اجازت دا

‏ے۔

‏۔

öööööö 170 öööööö
دوسر یحم :

وہ لوگ ہیں جو اسلام سے می طر کا تلق اور رشن خمیں ‏ رک
لہ الام کے بدترین دن ہیں اور اس سے خی رصعموٹی حر و صد
رھت ہیں اور ا سکو نقصان نے کے ہمہ وت ور بے ہیں۔

چنانچہ ىہ ممشرفین اور عیسائی مشزیاں اور یہودی میں اور اسی
حم کے دوسرے لوگ ہیں۔ جو اسلام کے میزی سے پمیک اور ا کی
عامحیت اور دن فطرت ' ہوٹ ےکی وجہ سے اس کے ساھ غی رصمولی
وصد رھت ہیں۔

پنانہ خی رصسلم شس ذہنی اننشار و اشطراب میں رہتا ہے اور اپے
آبائی دین و نرہب سے خی رمعمتن رہتا ہے کیوکہ وہ خی رفطربی وی نکو
ااے ہوۓ سے اور فطرت ہمہ سے ہہ ٹکر زندگ ی گار راے'

)۱ رسول اللہ صلی الد علیہ و لم کاارشاد ہے ” رپ اتی فطرت پر پیا ہوا سے راس
کے والد رن سے و کی پا یسائی با تھوىی بنا دپے ہیں ' 'اس حدیث میں رسول الد صی
ایند علیہ و سلم ىہ بہ جانا جا ہی ںکہ ری دن غ الام پر پیرا ہو سے جس پر فطری طورے
یمان رکتاے کر اسے فطرت سلمہ پر بچھوڑ وا جائے ق اعلا مکو ای تروو ول ار ےکا
کن فلط 7 ہت اور برے ماحول کی وجہ سے وہ یصودیت با تصرانبیت پا جحوسبیت یا او رکوئی
ال دن یو لک رلتتاے۔

اے!

 

öööööö 171 öööööö
تغارف مسلان ےکلہ وہ ات دن و نہب ے راصی ہوک ر سرور و
معنن زن دک یزار سے “کی وکلہ وہ الد کے مشرو ع کردہ دن یکو
انائۓ ہوئے سے جو ا سکی فطرت کے خیین مطابقی ہے۔

سی لیے ہریہودی اور عیسائی بلل ہکوئی بھی باضل دن اخقیا رکرنے
وائے ہ رحس سے کم کت ہہ ںکہ تمارے ہے وفطرت اسلام پہ پیا
ہوتے ہیں گ رکفر غلط تربیی تکرکے تم انیس اسلام سے اکا لک ال
دن پر لگا دی ہو۔

سی خر وص کی وجہ سے نان اسلام نے اسلام کے غلاف
افزاردرازی اور مق اسلام مجر صلی اید علبیہ و سل مکی شھان می سکستاخیوں
کاسلسلہ شر عکر دا سے “ببھی نے وہ آ پکی فی بکرتے ہیں اور بھی
آپ یڑ ایچھالے ہیں اور بھی اسلای عقاتد و تا یکو نوڑ مو ڑکر
پی یکرت ہیں کہ لوگ اسلام سے بد ین ہوں؛ عالانکمہ آپ صکی اللہ
علیہ وس مکی ذات تما سای و اغلاثی وب سے پا و صاف سے اور
اسلام کا دامن ہر طر کی داعغ و ھی سے صاف تھا ے۔ جن
الس ہمہ اللہ تماٹی ا نکی سازشو ںکو ناکام بنا دیتا سے “کی ومکمہ وہ جن کا
مقاہل ہکرت ہس اور ت نکی شان سربلندر سی سے مغلوب ہہونا کہیں۔

الد تعال یکا ارشمارے :

ے

öööööö 172 öööööö
رون لیطیکوا تور اللہ - وه 5 وریہ وَاَوَ
حر کر الکفرون زب هو و اَلّدی آرسل رسولم المدیٰ دن

ای لبظہھرۂ عل الین کاے۔ ولؤ کرہ المش رون ہپ
(ااصوں : ۹۰۸)

یہ لوگ جات ہی ںکہ الد کے و رکو ایے مضہ سے تھا وی

عالالکہ الد ا فو رک و عمال کک پچنیاکر رسے گا کو کافرو ںکو

(کیسا ہی )گرا ںگنذرے “وہ (ائش) ودی سے ننس نے اپیے رسول

کو ہدابیت اور سا دن در ےکر جیا ہے ماک اس (وین )کو تمام

وٹوں ر عااب کھروے گگو مشکوں کو (کیسا بی )گرا گن رے۔
() اسلام کے مصاور :

ج بکوئی عخیص وین اسلا مکی تقیق تکی جج معنوں میس معرفت
عاص٥ل‏ کرنا چاے و اسے چان کہ الام کے سب سے اول ص رم مہ
رن کر کا مطالعہ کھرے“ پھر رسول الد صس انثر علیہ 7
اعادیث یح ہکو جو کچ بخاری' مسلم موطا امام مالک ' مند امام اضر ٴ
سن ابو وانے و سفن ترنزی“ سن نسائی سن این ماجہ اور سن دااری
ویر مس عروڑی ہیں بڑھے۔ اىی طرح سیرت این جشام ' خی ای نکر
نیززامام ابین ہی مک یکساب ”زاد المعادثی دی خج رالتباو “کا مطالع ہککرے اس

س ہر

öööööö 173 öööööö
کے علاوہ اتمہ دعوت و اوح ملا سج الاسلام این بس اور امام شھ بین
عبد الوہل بک یکماڈیں پڑھتے' وتی امام مھ بن عبدالوہاب من کے ذرلجہ
سے اور امب رالموعدین بن سعود کے تحاون سے پارہومسں صیدی ہج ری
می الد تال نے اورے مز رہ عرب میں اور دنر علاقوں می کی وحر
چھیلاگی اور شرک و بر ععت کا عظل شض کی اور گھھ اللہ رح تک اس کے
اجے اغرات پائے جات ہیں۔

مستترٹین اور بست سی نام نماد اسلائی جماعتو ں کی وہ کماڑیں جو
اسلابی نعلما ت کی خالش تک بی مس اور ما رام رحوان اللہ مم

مین یاسلف صاحی نکو سب و شت مک رتی ہیں یا ائمہ دعوت و لَحیر شا
ملا مہ این بے “علامہ ابی یم اور امام شھ بن عبرالوہاب کے غلاف اش را
بردرازی یکرکی ہیں اور ا نکی شان میس لف شلوک و جات ید اکرتی
ہیں ذ ا ن کتابوں سے پرہی زکرنا چای ےکی وک وہگگراقی کی طرف لے
جاٹی ہیں۔
(۳) نی اہب :

سارے مسممانوں کا نہب ایک ہے اور وہ سے نہب اسلام “ینس کا
سرچشمہ قرآ نکریم؛ اور سنت مطمرہ سے“ اور جو ففی پراہہب مور ہیں

پھر

öööööö 174 öööööö
یے نکیلی؟ )کی ؛ شافی؛ وور نیت یہ فی کب فگر ہیں ج نکی ان
ات ہکرام نے اپنے اپنے شماگردو ںکو تعلیعم دی تھی پچھر چرام کے
شمامردوں نے اس کے قرآن و حریث سے مسق طکردہ مساق لیکو پرون
کیا چنانچہ بی رون مسائعل ان ات ہکرام کی طرف مفو ب کر وی
گے اور بعد میس اسے ایک ملک سے موسو مکر دیاگیا یہ چاروں نقمی
فراہب اسلائی اصول میں متفق اور جیماں ہیں اور ان میس ہانھم سی
طر حعکاکوئی اتتاف نییں' بللہ ان سب کا بقع اور صرچشممہ ق رآ نکریم
اور رسول الد صلی الد علیہ وس مکی سنت طیبہ ہے اور ان شی و
کھوڑے سے اخلافات پاتے جاے ڈمں وہ صرف بحتض فروی اور لی
مسائل میں جس جن کے ملق خود اح ہکرا مکی بدایت ےکلہ جو تول
قرآن و حنت کے ولا لکی روس میں سے اسے لے لیا جائے چا وہ
کسی بھی اما م کا ہو۔

مسلکمان ان براہب میں سے عسی بھی نہب کاپابند نمیں' بکلہ قرآن
وس تک اتاع اس کے لے واجب اور ضروری سے اور جو لوگ ان
نراہہ بکی طرف اب نےکو مو بکرتے ہوۓ عقبیدہ میں پروی رکنتے
ہس اور درکقابہوں وعیر ہکا طواف اور آستانو ںکی زیار تکمرتے اور ان سے
ا ری ور یکراے ہیں اور پاری تما یی صفات میں او لکرتے اور

 ے‎ ۵

öööööö 175 öööööö
ظاہری می سے ہہ ٹفکر دو سرے معالی عراو لی ہس فو مہ حعفرات تمہ
کرام کے عقیر وکی حخالستکرتے ہیں یکلہ ات ہکرا مکاعقیردوبی سلف
صا نکاعقیدہ تھا ت سکی تقعیلا تگ ر ہی ہیں۔

(ئم ال رن :

عامم اعصلام ٹس بج اے رے کھودار بہوئے میں تو ات اٹل
عقاند او رگراهککن نظریا تکی وجہ سے اسلام سے خارج ہیں“ ىیہ ذرتے
اپنے آ پکو اسلا مکی طرف موب پوکرتے ہیں یکن ور فیقت ہی
اعلام سے مارح ہیں کی وکلہ ان کے عقائد کیہ ہیں۔ ان ٹیس سے
ضس فرے سے ہیں :

پت رٹ

ہہ فرق عطول اور تقاع اروا کا تال ہے زی عقیدہ رکتا ےکہ
وص شرعیہ کا ایک ظاہری اور دوسا بای صلی ہو ہے ظاہری صصق
وہ سے سے رسول الد صلی اللہ علیہ وسعم نے ایے قول و نل سے وا
فرما دا ہے اور سارے مسلمانوں نے اس ي7 اجما جک رمیا ہے“ اور باضنی
صعنی اس کے برعلس ہے مج سکی تید و تین ابی خواہشات کے مطابق

ے٦‎

öööööö 176 öööööö
وہ خووکرتے ہیں ''۔

فرقہ باطفیہ کی ابتقرا اس طور پر ہو یکہ جب اسلائی دعحوت ائۓ
عروح بر بی اوداسلام ایک طاقت ب نکر اھر فو ہودیوں اور توسیوں
اور ماد غارس کے فلاسفہ کی ایک جماععت نے اسلا مکو نقصان اشیانے
اور مسلمانوں میں نفاقی و شنقاق پیا کرکے ا نکو بائس با کرت ےکی خورض
سے ایک نہب کاستک بیاد رن کا فیصل ہکیا ماکہ اس کے ذرلعہ قرآن
کریم کے مسوم و معالی میس کریف و تبدٹ یکی جائے اور اس طرح
ملمان ہابھی طور پر اختلافات کاشکار ہو جا ہیں 'چنانچہ ابل ہبیت کے ولاء
اور ان ے حبت کے در بروہ اننھوں نے ایک منے نہ بک دااغ تل
ڈالی اور ای کو ان کا وفادار اور ان کے مقوقی کا عمبردار پاو رکرایا الہ
عحوام کی ہعدردی عاصل کریں' اوراس طرح سے جائل عوام کی ایک
بھماربی معرادان کے ساتچھ ہوگئی جنمییں انوں نے گرا ہک ر کے پُچھو زا
0۱ باضنی فرق کے تعدد ام ہیں اور بے گئی فرقوں مم بٹ گے میں جو ہندوستان “ شام
ابرانٴ عراقی اور بہت سے دو سرے علھوں میں لہ ہوۓ ہیں ؛ ہج سکی تفصیل سنہ ین
یش سے علامہ شمرستالی نے اپی مشمو کاب ””الملل د اتل یش میا نکی سے اور بیھ بعد
کے مو رین نے بھی“ ””قادیاعیت'' اور ” ہماحیت ' کو اسی قرق کی م قرار دیا سے ' مزید
لات کے بے استاز مھ سعی رکیلا یک یکتاب ”ذٹل مکل و تی "اور جن عبدالقادر
شحبیہ اح دک یناب ”امادیان و الفرق و ال اہب المحاصرۃ “کا مطالع کنا چا جے۔

ے ے |

 

öööööö 177 öööööö
(ب) قادیائی 7ق :

ا نگکراہ اور بال فرتوں مس تنقادیامیت'' بھی ہے جو خلام ام
قادہا ی کی طرف موب ہے جس نے نبوت کادعوئ یکیا اور نیک ککری
نا رک یکی طرف بر صصخرمس دعوت دبی غلام اھ تقادیا یکو انگھریزوں نے
پادہی طرح اپنے اخراض و مقاصد کے لے استعا نکیا چنانہ وہ اورال
کے مین برطاشمیہ کے بورے دور اسقار یں اس کے آلہ کار ینے رسے
او روہ انبیں بڑگی فراغ دکی سے انعامات سے واز ا رہااور اپ ود وکرم
کے دروازے پالن لقکھول ویج تے۔

چناچہ جال عوام کی ایک بڑی تحداد ا سکی دعوت پر ابی کک کل کر
یمان لے آگی۔ قادیانی بظاہراسلام کا وع یکرتے تے نان وہ اسلا مکو
یست و نابو کرنے کے درپے تے اور اتی طاقت بج رلوگو ںکو اسلام سے
کان ےک یکو کرت تے۔

فاام ا قادیالی نے ”برامن ایی“ کے نام سے ای کاب کسی
نس میس علاضیہ طور بر نبوت کا وجب یکیا تھا اور اسلائی تحو کی کریف
و یرٹ یکی تھی“ چنانچہ اس نے ىہ وعوٹ یکیاکہ ”ہماو“ مفسوخ ہو کا سے
اور قام مسلمانو ںکو اگھریزوں کے پاتھ > بیجم تک لین نے اور ان کا
وفادار ربا چا ہج

۸ ے |

öööööö 178 öööööö
اس مد یکذاب و دعال نے ” تیاق القلوب' کے نام سے ایک
او رتالب کی جو اىی طر نک یگھرازیوں سے بھرىی بپڑھی ہے۔

یکذاب و دجال بے ار لوگو ںک وگمراہ و برہا دکرکے ۱۹۰۸ء میں مرا
اور انا غلفہ دم ورالن' ای تخس کو بزاکر یھو ما تو 27
دعحوت باطل کو پچھیلائے۔
(ج) بای فرقہ :

ہہائی فرقہ' باضنی فرق کی ایک فرع سے جو رین اسلام سے ارح سے"
یسوی صدری میسودی کے شروع میں امران کے مت علی مھ" نے" اور الیک
قیل کے مطابق مھ علی شی رازی نابی شنخس نے ا سکی نیا ڈلی تھی اس
خس کا پپلہ شیعہ اش عتقری فرقہ سے معلق تھا مان بعد میں اس سے
الک ہوک ایک نے دن و رجہ بک داغ و تیل ڈالی اور ممری خنظر
ہونے کا وعوب یکیا پچھ رٹ عرصہ کے بعد اس نے ہہ دعوگ یک یاکہ ”اللہ
تعالی اس کے اندر عو لکر گے ہیں“ اور وہ الہ الناس ہہ گیا ے۔ ال
تعالی جحل جاالہ و ع: صفاح کی ذات ماک ان جننوبی پانوں سے مضزہ اور پالا 2
سے چم راس تحص نے نے کے پور دوبارہ زمرہ ہوتے اور ثیامت کے
دن اب ماب جنت وم اور وار آ خرتی دو سرکی جچیڑوں کا انار
کیا“ اور عیاوت اور ریاطت کا طور و طریقہ ہندئوں جییسا اخقیا رک ر لیا۔

۹ے

öööööö 179 öööööö
چھر وحرت ادیاانع کے نظرب کا داگی و مغ ہومگیا اور ہہ نے لاہ
ود یت اور عیساحیت اور وین اسلام مم لکوکی فرق اور اختلاف کمیں ے
لہ ہہ جوں مر اہب ایک ہیں۔-

پچھھ عر صہ کے بحدر سول ای صلی اد علیہ وس مکی نبوت ور سال تکا
اور بت سے اسلائی اکا مکا بھی مگر ہ ومیا-

اس کے مم نے کے بعد ا سکا ہام نام وز مر ا کا حائشنین ہواجٹس
نے اس کے دین و ہہ بکی بڑکی س رگ ری سے دعوت و کلین کی اور
جاہلو سک ایک بڑی دا دک وگھرامکر کے ا سکا بر دکار بڑای اور بعد یل ہے
‎٣‏ فرقہ ا یکی طرف موب ہوکر برامیت کے بام سے مشمور و معروف
ہوا۔

دب اسلام سے نار فرقوں ٹیس الیک بڈافرقہ وو بھی ے جو اسلا مکا
دو کرجا سے نماز مڑہتاے 'روزہ رکھتا ے' اور رخ دم ہک جا ے'
ین پایں ہمہ یہ قد باطلہ رکا ےک :
بل حطرت ج رکیل علیہ السلام نے منصب بوت اور متام رسمال تکو
نان میس شیاح تک ہے اور اغوں نے رسالم کو ہاۓ منرت لی
رضی اش عنہ کے نخرت مجر صلی اد علیہ وس ممتک اتاد یاے -

۸۰

öööööö 180 öööööö
اس فرقہ کے تح اف را کاکسنا ےک لی ری ارد نہ - بی اہ
ہیں چناضی دہ صلی رص ایش کی اور ا نکی او لا دواتفا دا نکی بیو ی فاعلہ اور
ال کی ماں خدبیہ۔ رضی اور ضحم این ۔کی متظیم جریم میں غلو
کرت ہیں' بللہ الد کے سا تجھھ اکمیں بھی معبود قرار درے رکھا سے
تی مہ گار تے ہیں اور سا تھ بی ان کے پارے می مہ اعنتقادر سکھتے ہیں
کہ ہہ لوگ لغ زشوں سے متصوم ہیں اور القید کے نز دیک ان کا متقام و
مر تر سوکوں کے مرح سے بڑہ کمرے۔

‎٦‏ وء ق رآ نکر یم جوآرج امت اسلامیہ کے پاس سے وہ تئیئی ق رن
یس بللہ اس می ںیو ٹیشٹ یردب یگئی ے اس لئے انسوں نے اپنا ران
اس سے محخلف بج رکھا سے نس میں ا نکی طرف سے بج مخصوص
یں اور سور میں بھی ہیں۔-

‏جن اخیا مکرام کے بعد سب سے ہیل القدر شحخصیات خلیقہ اول اب وھکر
ید لق رص ارد عنہ اور غخلیضہ دوس رت خر فاروق ر صحی الد عنہ مج
تزام مسلرانوں میں اففل ہیں 'ا نکی انب سمستاخیا ںکرتے ہیں اور
یں طرع طر کی گال یاں د ینے ہیں-

‏امم اون حضرت عا کشہ رصی ارد عضما بر تحت اک الال د پے

‎۸

öööööö 181 öööööö
یں۔
‎٦‏ حضرت علی ر صمی ارد عنہ اور ائل ببیت سے جو گی اور بر بای کے
وفنت فیا دکرتے اور پرد طل بکمرتے ہیں اور النلد نا یٰ کے علادہ الن بی
سے دعاوا تغفا رکرتے ہیں-
پ7 انموں ے اید اتھالی ب رکغرب داف را ےکام لیا سے اور اس کےکلام
اک کک ترمیف د تبد بی کے ع رکب ہو ے ہیں ھا لکیہ اید تعاٹی بل
شماشہ ان تام خر افات سے ماک وہروے۔

مقر مشورو :

مکودہ ہلا فرت ےکافرفرقوں میں سے چند ہیں 'جواسلام کے د عویدار
و ہیں مین دراصل وواسلا مکو غیست ناو دک نے میس گے ہو ے ہیں
اس لے ایک جج العقیدواور مومن صاد قکوپہ لیقی نکر ینا جا ےک
اعلام صرف دو ےکا نم میں سے بللہ اسلام پیٹ ق ق٣‏ نکر میم اور
رعول اد صلی اللہ علیہ و سل مکی اعاد بی مبارک کی سج مرفت اور اس
کے مطابی مل اور اطاعت دف ماب ردار کیکانامرے-

اس لے ش رآل نکر مم میں نر بر اور ور ھک کر با سا اور ر ول الد
مکی ایق علیہ وس مکی اعادبیث اور اسلا ٹی شر ید کا علم حا ص لک ربا جا سے

|۸۳

öööööö 182 öööööö
اور بچھراس کے تقاضوں کے مطا لبق مل را ہون اگ 'اس کے بعد
برہ نور ہرایت سے بمروور اور صراطے تیم برگامزن ہو سا سے جو
اسے سعادت دار بن سے نار اور رب العا می۲ نکی جنات ان مک
پا کا ے۔

۸۳

öööööö 183 öööööö
جا کی ووت :

میں جم ان قھام لوگکوں سے جنموں نے ومن اسلا مکو قول نمیں
کیا سے“ ول کامیالی اور راہ نجا ت کی دعوت ری ہوئے ہہ عتش
کرتے ہہ سکہ اے ضا‌ل انسان ھنے کے بعد عذاب ش اور زاب
مم سے ا کو بیان ےکی فک رکرو اور اللہ تَا یکو رپ جال نکر اور
رسول اللہ صلی اود علیہ وس مکو بھی لی ممرکے اور اسلا مکو دین تن
انکر صدق ول سے کہ تحید ”لا اللہ الا الد مج رسول الد مک کر
ین اسلام قو لک رلوٴ چم یاکویں ما نکی یاہند یکرو رو ”کی ادائگ کرو
اور رمفمان کے روڑے رکھوٴ اور رح ہبیت الف دکرو اگر ا کی استطااعت
رھت ہو“ اہن تقبول اسلام کا اعلا نکر و کیو تمہ دییوی اور اخ ری سعارت
و جات کے تصول کا صرف بی ایک راس ے۔

یس اللہ پالا و بر تر کے نا مکی شب ھمکھا۷ ریس کے علاو ہکوگی معبود برح
میں “کنا ہو ںکہ دن اسلام بی دین تن سے جس کے علاد ہکوئی دو سا
دن عنداللد قائل قبول میں میں الش کو اور اس کے فرشتوں اور ساری
لو یک وگواہ بناک کنا ہو یکہ اللد کے سو اکوٹی معبوو برجم نیس اور محر

)۸۳

öööööö 184 öööööö
صلی اللد علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور اسلام بی دن برؾن سے
اورمیں مس مان ہوں۔

آرمی اللہ تال ی سے ہم دعاکرتے ہی سکہ وہ ان فضل وکرم سے
نارا اور ہمارکی آل و اولاو اور تام مسلمان بھاتیوں کادین اسلام پر ماتمہ
فرراۓ اور نت ٹیم میں رسول الد صلی اللہ علیہ ول مکی اور دیگر انمیاء
صحاہہ :کرام اور صلف صائھی نکی صحبت نیب فرمائےۓ۔

اور اج میس پھروست بدعا ہ سکہ اللہ تحالی ا سقکما بکو ہراس
تخس کے لیے لففع ہنش بیائۓ جو اس کا مطالع ہکرے یانکھی سے س نکر
ا سکی معلومات و اص لکرے۔

اے الد و گواہ رو میں ے ہنا دا۔ والدہ اعلم وصلىی اللہ وسلم

علی نبی۰نامحمدوالەوصحبہ والحمدللەرب العاطین۔

|۸۵

öööööö 185 öööööö
ذرمت مضاشن
رشار مان 27

یھ

۱ مر مم ‎٤‏
‏۲ یل اول 1
‎٣‏ ال خالق عنی کی معرفت 3

۳ اللہ تھا کی صفاتکامیان ‎۵٥‏
‏۵ھ جن وا کے سار نے کا مقصد ‎٢‏
‎٦‏ بتت بعد المودت اور صاب وکنا بکامیان ۳
ے انسان کے قول و شح لکار ارڈ ۸
۱ مل روم ۔
9۹ یک رم یی کی مرفنت ‎١‏
‏٭ رسول اللہ پان کی خوصیات 0
ا ک یکر مج کے جحزات ۵
× تقرآ نکریھم کےکلامادقداور بی مل کے رسول اللہ

ہو نے کے ولا نل 5

۸۱

öööööö 186 öööööö
٢۰

۳۱

۲۳

ئ2

21

۲ ۵

۲

۸

٭۴ََ

صلسوم

ومیئاسلا مکی مرفت

ار کان اسلام

عباد کیا میں

وسیل ہکی تفیقت

ش ما بت کا بیان

شرقہ ناج

ام جتٹی صرف النرے
ایا را مکی بعڑی کا مفصضصر
شماوتر سال کا معن

دو م ہے رگن * نماڑ" کا بیان
او قحات نما زکا بریان

فراز کے ا کاو مال

وض وک طر رت
مھ رکا طر تہ
مازیڑ ےکا طربتہ

ے ۸|

از

۴"

۳

٦

٦ا‎

12۵

1۸

9۹

اے

ٌَّ

سے ے

۸ ے

۹ے

۸۰

öööööö 187 öööööö
۲۰

٣۰+

۳۱

٣۲

٣م‎

م۳۴۳

۲۴۵

کچ

٣ ‏ے‎

۲۴۸

۳

غر

رز

۴۳۲1

گا

ْ

مازباجماعت ایت

مماز جم ہکاطر رق

دوس ر ے رگن کو" کا بیان
کوچ کا نصاب

ز کو کے فا ندے

تیسرے رک ن 'روز*" کا بیان
روزو کے ٹوا"

روزو کے مال

چو تے رن "' کابیان

کچ کے مواکد

نکر ن کا طر یتہ

ما تکا مان

کی میں

ممنووات اترام

طوافو سیکا طر بش

عور قوں کے مخصویس مسانل

۸۸

۸۵

ے ۸

ے ۸

ے ۸

۸۹

۹ّْ٠

۹۱

۹ِ

لا

۹"

۹۸

۹9

۰۳

۳

öööööö 188 öööööö
۴ ۵

۲۴۱۹

ے ۲

ار

۲8

٭ن

آ۵

ظ٣‎

خُ

۵ٌ

ك۵

ي۵

۵٥ ‏ے‎

ك۵

۹م

ب کے ما دن
مواف ووا جح کا بیان
اما نکا ان

ار اور رسولوں' کیا بوں شر شمتوں پر اما نک بیان

وم آخخرت برا یمان
اضاولدر برامان
وین اسلا مکی سامعیت
جو شی فصل

الا م کا نظام حیات
تصیل لم

قوق امعپا دکی ادا گی

مرو موم نکی شب یکیفیت
اسلا مک معاشر بی تقاون
اسلا مکی دا خی سیاست
الا م مکی خمار کی سیاست

)/۸۹

۳

۳

ه۲

5

۰۹

۹

۲

۳۲۴۳

۳ ۵

۲

۰۴۵

öööööö 189 öööööö
1۱

ار

٣

٣٦

102

11

1٦ے‎

1۸

16

اے

<۲

ے٣‎

٥َ

ھ۵ ے

ے٦‎

اسلام میں از اری

مر بی آزادی

اسلام سے نار خر نے والی با
گر یآزادی

اث ای آزادئی

ر ان یآزادی

معای آزادی

اسلا مکاعا گی نظام

والر من کے تعقوںل

زو یجن سے موق

نر رزوجات

طلا یک اعازت

اسڈام کا نظام مفطان مت
اسلا مکا معا ی نظام
(شھنوں ے تفافظ ت کا عر بت
ملا ن کا مفصر حبات

۹۰

ے۱۳
ك۳
۸
۴۳
۳۴۳
۵ ۴

۱

ے ۳
ے٢٢‏
۴۸
۱ھ
‎٥۱۵‏
‏ار
‏ے ‎١‏
‏۵۸۸|

1

öööööö 190 öööööö
کے سے

۸ ےے

۹ے

۰۹ص۸

۸۱

۸۲۳

۸۳

۸۳۲۳

۸ ۵

۸٦

ے ۸

نمچ میں صصل
یض شبات کاازالہ
اسلام کے مصادر
تی براہب
ری باطلہ

ای رد
قادیالی فر3
سای فرت3

مفید مور
جا تکیاد محوت
مرست مضامشٹن

۹

1۹

۹و1

۳ے

جے |

| ے٦‎

ے٦‎

۸ ے)

۹ے

۸۳

اا رر

۲

öööööö 191 öööööö
مِنٌ مطبوعات وزارۃالشژون الامْلامة والاوقافْ والدعوۃ والارناد

 

تالیضِی
لے اور

سر
باللفة الأورِے

آشرفقت وکاله شون ا۔مطبوعَات وا لننٹریا لوزارۃ علیٰ(صُدارہ
‎۱١ ۲٢ ۰‏ ھ۔۔

öööööö 192 öööööö
 

باللفے الأوروي'
طہع رر سر
اراافرتاوہ تب زالا رواٹ ار ال ناد
ےن ارت نمور

۹۹ ۹. ۴--٦۹۸ ۰-8 ‏ردذعكى‎

öööööö 193 öööööö
